Sahih Ibn Khuzaymah #1643
نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ . ح وَحَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نا إِسْمَاعِيلُ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ: قَامَ شَابٌّ إِلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: فَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ، فَسَأَلَهُ عَنْ صَلاةِ السَّفَرِ. فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْفَتَى يَسْأَلُنِي عَنْ أَمْرٍ، وَإِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ جَمِيعًا: غَزَوْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَوَاتٍ، فَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي إِلا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى يَرْجِعَ الْمَدِينَةَ . زَادَ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ: وَحَجَجْتُ مَعَهُ، فَلَمْ يُصَلِّ إِلا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَقَالا: أَقَامَ بِمَكَّةَ زَمَنَ الْفَتْحِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ لَيْلَةً يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَقُولُ لأَهْلِ مَكَّةَ: صَلُّوا أَرْبَعًا، فَإِنَّا قَوْمٌ سَفَرٌ"، وَغَزَوْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ، وَحَجَجْتُ مَعَهُ، فَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي إِلا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ، وَحَجَجْتُ مَعَ عُمَرَ حَجَّاتٍ، فَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي إِلا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ، وَصَلاهَا عُثْمَانُ سَبْعَ سِنِينَ مِنْ إِمَارَتِهِ رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَجِّ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْمَدِينَةِ، ثُمَّ صَلاهَا بَعْدَهَا أَرْبَعًا. زَادَ أَحْمَدُ: ثُمَّ قَالَ: هَلْ بَيَّنْتُ لَكُمْ؟ قُلْنَا: نَعَمْ. وَلَفْظُ الْحَدِيثِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ"
EnglishUnverified translation
Narrated to us Ahmad ibn ‘Abdah and also narrated to us Ziyad ibn Ayyub, both said: Narrated to us Isma‘il, they both said: Narrated to us ‘Ali ibn Zayd, on the authority of Abu Nadrah, who said: A young man stood up before ‘Imran ibn Husayn and took hold of the reins of his riding animal, then asked him about the prayer during travel. So ‘Imran turned to us and said: “This young man is asking me about a matter, and I would love to relate it to all of you. I went out on military expeditions with the Messenger of Allah (ﷺ) and he never prayed anything but two rak‘ahs at a time until he returned to Madinah.” Ziyad ibn Ayyub added: “I also performed Hajj with him, and he did not pray anything but two rak‘ahs until he returned to Madinah.” Both of them said: “He stayed in Makkah for eighteen nights during the Conquest and prayed two rak‘ahs at a time, then he said to the people of Makkah: ‘Pray four rak‘ahs, for we are a people on a journey.’ I also went out on military expeditions with Abu Bakr and performed Hajj with him, and he never prayed anything but two rak‘ahs until he returned. I performed Hajj with ‘Umar several times, and he never prayed anything but two rak‘ahs until he returned. ‘Uthman also prayed two rak‘ahs during Hajj for seven years of his caliphate until he returned to Madinah, then after that he prayed four rak‘ahs.” Ahmad’s version adds: “Then he said: ‘Have I made it clear to you?’ We said: ‘Yes.’” The wording of the hadith is that of Ahmad ibn ‘Abdah. **CHAPTER:**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
جناب ابونضرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک نوجوان سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے سامنے کھڑا ہوا، اُس نے اُن کی سواری کی لگام پکڑلی اور اُن سے نماز خوف کے بارے میں سوال کیا تو وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اس نوجوان نے مجھ سے ایک مسئلہ پوچھا ہے، میں چاہتا ہوں کہ میں تم سب کو بیان کردوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی غزوات میں شرکت کی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منوّرہ واپس آنے تک صرف دو دو رکعات ہی پڑھتے تھے - جناب زیاد بن ایوب کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج بھی کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منوّرہ واپس آگئے۔ جناب احمد بن عبدہ اور زیاد بن ایوب دونوں کی روایت میں ہے کہ فتح مکّہ کے زمانہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ مکرّمہ میں اٹھارہ راتیں قیام پذیر رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو دو رکعات ہی پڑھتے رہے، پھر آپ اہل مکّہ سے فرماتے: ”تم چار رکعتیں (پوری) ادا کرلو کیونکہ ہم مسافر لوگ ہیں اور میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی جنگ میں شرکت کی اور اُن کے ساتھ حج بھی کیا ہے، وہ بھی واپس آنے تک دو دو رکعتیں ہی ادا کرتے تھے اور میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کئی حج کیے ہیں، وہ بھی دو رکعات ہی ادا کرتے تھے حتّیٰ کہ واپس آجاتے اور سیدنا عثمان رضی اللہ بھی اپنی خلافت کے ابتدائی سات سالوں میں حج کے دوران دو رکعات ہی پڑھتے رہے حتّیٰ کہ واپس مدینہ آجاتے۔ پھر (ان سات سالوں) کے بعد اُنہوں نے (مکمّل نماز) چار رکعات پڑھنی شروع کر دیں۔ جناب احمد کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ پھر پوچھا، کیا میں نے تمہیں مسئلہ بیان کر دیا ہے؟ ہم نے عرض کی کہ جی ہاں۔ اس روایت کے الفاظ جناب احمد بن عبدہ کی روایت کے ہیں۔