Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Khuzaymah · Book 23 · Chapter 21

Chapters 551–575

بَابُ فَضْلِ الْمَشْيِ إِلَى الْمَسَاجِدِ مِنَ الْمَنَازِلِ الْمُتَبَاعِدَةِ مِنَ الْمَسَاجِدِ لِكَثْرَةِ الْخُطَامساجد س

Chapter: The merit of walking to the mosques from dwellings far from the mosques due to the many steps taken

باب: مسجدوں سے دور رہائش کے باعث زیادہ قدم اٹھانے کی وجہ سے مسجدوں کی طرف پیدل چلنے کی فضیلت

2 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1500

Sahih Ibn Khuzaymah #1500

نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، نَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، نَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، وَهَذَا حَدِيثُ عَبَّادٍ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ بَيْتُهُ أَقْصَى بَيْتٍ بِالْمَدِينَةِ، فَكَانَ لا تُخْطِئُهُ الصَّلاةُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَوَجَّعْتُ لَهُ، فَقُلْتُ: يَا فُلانُ، لَوْ إِنَّكَ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا يَقِيكَ الرَّمَضَ، وَيَرْفَعُكَ مِنَ الْمَوْقِعِ، وَيَقِيكَ هَوَامَّ الأَرْضِ، فَقَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِيَ مُطَنَّبٌ بِبَيْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَحَمَلْتُ بِهِ حَمْلا حَتَّى أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: فَدَعَاهُ فَسَأَلَهُ، فَذَكَرَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَذَكَرَ أَنَّهُ يَرْجُو فِي أَمْرِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لَكَ مَا احْتَسَبْتَ" ، وَفِي حَدِيثِ الصَّنْعَانِيِّ: فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لِكَيْمَا يُكْتَبَ أَثَرِي وَرُجُوعِي إِلَى أَهْلِي وَإِقْبَالِي إِلَيْهِ، أَوْ كَمَا قَالَ: قَالَ:" أَعْطَاكَ اللَّهُ ذَلِكَ كُلَّهُ، وَأَعْطَاكَ مَا احْتَسَبْتَ أَجْمَعَ"، أَوْ كَمَا قَالَ"

EnglishUnverified translation

Ahmad ibn Abdah narrated to us, Abbad ibn Abbad al-Muhallabi informed us, from Asim, from Abu Uthman, from Ubayy ibn Ka'b; and Muhammad ibn Abd al-A'la al-San'ani narrated to us, al-Mu'tamir narrated to us, from his father, Abu Uthman narrated to us, from Ubayy ibn Ka'b; and Yusuf ibn Musa narrated to us, Jarir narrated to us, from Sulayman al-Taymi, from Abu Uthman, from Ubayy ibn Ka'b - and this is the hadith of Abbad - he said: There was a man from the Ansar whose house was the farthest house in Madinah, yet he never missed praying (Salah) with the Messenger of Allah ﷺ. I felt pity for him, so I said, "O so-and-so, if only you bought a donkey that would protect you from the hot ground, lift you up from the mud, and protect you from the crawling creatures of the earth." He said, "By Allah, I would not love for my house to be joined by a tent-rope to the house of Muhammad ﷺ." He (the narrator) said: I carried this matter with me until I came to the Prophet ﷺ and mentioned that to him. He said: So he called him and asked him, and he mentioned to him the same thing, and mentioned that he hoped for reward in his

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری شخص کا گھر مدینہ منوّرہ میں سب گھروں سے دُور تھا۔ مگر اُس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اُس کی نماز باجماعت فوت نہیں ہوتی تھی، تو مجھے اس پر بڑا ترس آیا (کہ اتنی مشقّت برداشت کرتا ہے) میں نے (اس سے) کہا کہ اے فلاں، اگر تم ایک گدھا خرید لو، جو تمہیں گرمی کی تپش سے بچائے، پتھروں سے زخمی ہونے سے تمہیں محفوظ کرے اور تمہیں زمینی زہریلے کیڑے مکوڑوں سے بچالے (تو یہ کام بہت اچھا ہے) اُس نے کہا کہ اللہ کی قسم، بیشک میں یہ بات پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے ساتھ متصل ہو۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ بات مجھ پر بڑی گراں گزری، حتّیٰ کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ بات ذکر کردی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے بلاکر اس بارے میں پوچھا تو اُس نے آپ کو بھی وہی بات کہی۔ اور یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے اس کام میں اجروثواب کی امید رکھتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”بیشک تمہیں تمہاری نیت کے مطابق اجروثواب ملے گا۔“ جناب صنعانی کی روایت میں ہے کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی چنانچہ آپ نے اُس سے اس بارے میں دریافت کیا۔ تو اُس نے عرض کی کہ اے اللہ کے نبی (میں یہ کام اس لئے کرتا ہوں) تاکہ میرے قدموں کے آثار لکھیں جائیں، اور میرا اپنے گھر والوں کی طرف لوٹنا اور میرا (مسجد کی طرف) آنا لکھا جائے، یا جس طرح اُس نے کہا، آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہیں یہ سب کچھ عطا کرے۔ اور جس چیز کی تم نے نیت کی اللہ تمہیں وہ سب بھی عطا فرمائے۔“ یا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

1501

Sahih Ibn Khuzaymah #1501

Sahih

نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، وَمُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلاةِ أَبْعَدُهُمْ إِلَيْهَا مَمْشًى، فَأَبْعَدُهُمْ، وَالَّذِي يَنْتَظِرُ الصَّلاةَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الإِمَامِ فِي جَمَاعَةٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي يُصَلِّيهَا، ثُمَّ يَنَامُ" ، جَمِيعُهَا لَفْظٌ وَاحِدٌ"

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Al-Ala bin Kurayb and Musa bin Abdul-Rahman Al-Masruqi told us, they said: Abu Usama told us, on the authority of Burayd, on the authority of Abu Burdah, On the authority of Abu Musa, he said: The Messenger of God, may God bless him and grant him peace, said: “Indeed, the people with the greatest reward for prayer are the ones who walk the furthest to it, so they are farthest away.” “The one who waits for the prayer until he prays it with the imam in congregation will have a greater reward than the one who prays it and then sleeps.” They are all one word.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً نماز میں سب سے عظیم اجر و ثواب کا حق دار وہ شخص ہے جو ان سب سے زیادہ دُور سے چل کرآتا ہے، پھر وہ جو اس سے بھی دُور سے آتا ہے۔ اور جو شخص نماز کا انتظار کرتا ہے حتّیٰ کہ اُسے امام کے ساتھ با جماعت ادا کرتا ہے، اس شخص سے بڑے اجر و ثواب کا مالک ہے جو نماز (اکیلا) پڑھ کر سوجاتا ہے۔“ دونوں راویوں کے الفاظ ایک جیسے ہیں۔