Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Khuzaymah · Book 22 · Chapter 7

Chapters 526–550

بَابُ إِبَاحَةِ الْكَلَامِ فِي الْخُطْبَةِ بِالْأَمْرِ وَالنَّهْيِ،خطب

Chapter: The permissibility of speaking during the sermon to command and forbid

باب: خطبہ کے دوران حکم دینے اور منع کرنے کے لیے بات کرنے کی جائز ہونا

1 hadith in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1453

Sahih Ibn Khuzaymah #1453

Sahih

نَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيه ، قَالَ: رَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَأَمَرَنِي فَحَوَّلْتُ إِلَى الظِّلِّ" وَفِي خَبَرِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ وَهُوَ يَخْطُبُ لِمَنْ أَخَّرَ الْمَجِيءَ:" اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ وَآنَيْتَ" وَفِي خَبَرِ أَبِي سَعِيدٍ: فَإِنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ بِبَعْثٍ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ ذَكَرَهُ لِلنَّاسِ، وَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ أَمَرَهُمْ بِهَا، وَكَانَ يَقُولُ:" تَصَدَّقُوا" وَفِي خَبَرِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنْ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، فِي الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلدَّاخِلِ:" هَلْ صَلَّيْتَ؟" قَالَ: لا. قَالَ:" قُمْ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ"، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ:" تَصَدَّقُوا" وَفِي أَخْبَارِ جَابِرٍ فِي قِصَّةِ سُلَيْكٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَلَّيْتَ؟" قَالَ: لا قَالَ:" قُمْ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ"، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ"، فَفِي هَذِهِ الأَخْبَارِ كُلِّهَا دِلالَةٌ عَلَى أَنَّ الْخُطْبَةَ لَيْسَتْ بِصَلاةٍ، وَأَنَّ لِلْخَاطِبِ أَنْ يَتَكَلَّمَ فِي خُطْبَتِهِ بِالأَمْرِ وَالنَّهْيِ، وَمَا يَنُوبُ الْمُسْلِمِينَ، وَيُعَلِّمُهُمْ مِنْ أَمْرِ دِينِهِمْ"

EnglishUnverified translation

Ali bin Saeed bin Masruq told us, Waki’ told us, on the authority of Ismail, meaning Ibn Abi Khalid, on the authority of Qays, who is Ibn Abi Hazim, on the authority of his father He said: “The Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, saw me while he was delivering the sermon, so he ordered me to go to the shade.” And in the report of Ubayd Allah bin Bishr: that the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, He, peace and blessings of God be upon him, said while he was addressing the one who delayed coming: “Sit down, for you have been hurt and have suffered.” According to Abu Sa’id’s report: If he has a need, I will send him Or other than that, he mentioned it to the people, and if he had a need, he told them about it, and he used to say: “Give in charity.” And in the report of Ibn Ajlan, on the authority of Iyad, On the authority of Abu Saeed, in the sermon on Friday: Then the Prophet, may God bless him and grant him peace, said to the one entering: “Have you prayed?” He said: No. He said: “Stand up and pray two rak’ahs,” then he said to the people: “Give in charity.” And in the reports of Jabir in the story of Salik, the Prophet, may God bless him and grant him peace, said: “Did you pray?” He said: No. He said: “Stand up and pray two rak’ahs.” Then he, may God’s prayers and peace be upon him, said: “If one of you comes on Friday and the imam is delivering the sermon, let him pray.” Two rak'ahs." All of these reports indicate that the sermon is not a prayer, and that the preacher has the right to speak about the matter in his sermon. And the prohibition, and what represents the Muslims, and teaches them about the matter of their religion.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوحازم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا جبکہ آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حُکم دیا، لہٰذا میں سایہ دار جگہ کی طرف چلا گیا اور جناب عبیداللہ بن بشر کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے، دیر سے آنے والے کو فرمایا: ”(جہاں جگہ ملتی ہے) بیٹھ جاؤ، تم نے (لوگوں کو) تکلیف دی ہے اور دیر سے بھی آئے ہو۔“ اور سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے پھر اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی لشکر روانہ کرنے یا کوئی اور ضرورت ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بتا دیتے۔ اور اگر کوئی (مالی) حاجت ہوتی تو اُنہیں حُکم دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”صدقہ کرو۔“ ابن عجلان کی عیاض رحمه الله کے واسطے سے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے، جمعہ والے دن خطبہ کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مسجد میں) داخل ہونے والے سے فرمایا: ”کیا تم نے نماز (تحیتہ المسجد) پڑھ لی ہے۔“ اُس نے جواب دیا کہ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اُٹھو، دو رکعات پڑھ لو“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا: ”صدقہ کرو۔“ اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایات میں مذکور سیدنا سلیک رضی اللہ عنہ کے قصّے میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے پوچھا، ”کیا تم نے (تحیتہ المسجد) پڑھ لی ہے؟“ اُنہوں نے عرض کی کہ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اُٹھ کر دو رکعت پڑھو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ والے دن اس حال میں (مسجد) آئے کہ امام خطبہ دے رہا ہو تو اُسے دو رکعت پڑھ کر بیٹھنا چاہیے ان تمام روایات میں اس بات کی دلیل ہے کہ خطبہ نماز کی طرح نہیں ہے۔ اور خطیب کے لئے جائز ہے کہ وہ خطبہ کے دوران میں نیکی کا حُکم کرے، برائی سے روکے مسلمانوں کی ضروریات کے متعلق گفتگو کرے اور اُنہیں اُن کے دینی معاملات سکھائے۔