نا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نا وَكِيعٌ ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْجَدَلِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ . ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ الْجَدَلِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ: أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، ثَلاثًا، وَاللَّهِ لَتُقِيمُنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ" ، قَالَ: فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَكُونُ كَعْبُهُ بِكَعْبِ صَاحِبِهِ، وَرُكْبَتُهُ بِرُكْبَةِ صَاحِبِهِ، وَمَنْكِبُهُ بِمَنْكِبِ صَاحِبِهِ. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ وَكِيعٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبُو الْقَاسِمِ الْجَدَلِيُّ هَذَا هُوَ حُسَيْنُ بْنُ الْحَارِثِ مِنْ جَدِيلَةَ قَيْسٍ، رَوَى عَنْهُ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، وَأَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ، وَحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عِدَادُهُ فِي الْكُوفِيِّينَ، وَفِي هَذَا الْخَبَرِ مَا نَفَى الشَّكَّ وَالارْتِيَابَ أَنَّ الْكَعْبَ هُوَ الْعَظْمُ النَّاتِئُ الَّذِي فِي جَانِبِ الْقَدَمِ، الَّذِي يُمْكِنُ الْقَائِمُ فِي الصَّلاةِ أَنْ يَلْزَقَهُ بِكَعْبِ مَنْ هُوَ قَائِمٌ إِلَى جَنْبِهِ فِي الصَّلاةِ، وَالْعِلْمُ مُحِيطٌ عِنْدَ مَنْ رُكِّبَ فِيهِ الْعَقْلُ أَنَّ الْمُصَلِّينَ إِذَا قَامُوا فِي الصَّفِّ، لَمْ يُمْكِنْ أَحَدٌ مِنْهُمُ إِلْصَاقَ ظَهْرِ قَدَمِهِ بِظَهْرِ قَدِمَ غَيْرِهِ، وَهَذَا غَيْرُ مُمْكِنٍ، وَمَا كَوْنُهُ غَيْرَ مُمْكِنٍ لَمْ يَتَوَهَّمْ عَاقِلٌ كَوْنَهُ"
EnglishUnverified translation
It was narrated by Salam ibn Junada, it was narrated by Waki`, on the authority of Zakaria ibn Abi Zaida, Abu al-Qasim al-Jadali narrated to us, he said: I heard al-Nu`man ibn Bashir. H, Harun bin Ishaq narrated to us, Ibn Abi Ghaniyeh narrated to us, on the authority of Zakaria, on the authority of Abu al-Qasim al-Jadali, he said: I heard al-Nu’man bin Bashir, saying: The Messenger of God, may God bless him and grant him peace, came to us and said: “Strengthen your ranks, three, and by God you will straighten your ranks or That God may make a dispute between your hearts.” He said: “I saw the man whose heel was equal to the heel of his companion, and his knee was equal to his companion’s knee, and his shoulder was On its owner's shoulder. This is a comprehensive hadith statement. Abu Bakr said: This Abu al-Qasim al-Jadali is Husayn ibn al-Harith, from the tribe of Qais. Zakaria ibn Abi Zaida narrated on his authority, Abu Malik Al-Ashja’i, Hajjaj ibn Artat, and Ata’ ibn Al-Sa’ib were counted among the Kufis, and in this report he denied doubt and suspicion. The heel is the protruding bone on the side of the foot, which the person standing during prayer can attach to the heel of the person standing next to him in prayer. Prayer, and knowledge is so encompassing for those who have a mind in it that when the worshipers stand in line, none of them can touch the back of their feet. By the back of someone else's footsteps, and this is not possible, and since it is not possible no rational person would imagine that it is
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف اپنے چہرہ انور کے ساتھ متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اپنی صفیں سیدھی کرلو، تین بار فرمایا: ”اللہ کی قسم، تم ضرور اپنی صفوں کو سیدھا کرلو وگرنہ اللہ تعالی تمہارے دلوں میں مخالفت ڈال دے گا۔ (سیدنا نعمان) فرماتے ہیں کہ (آپ کےارشاد کی تعمیل میں) میں نےدیکھا کہ ایک شخص کا ٹخنہ اپنے ساتھی کے ٹخنے کے ساتھ، اس کا گھٹنا اس کے ساتھی کے گھٹنے کے ساتھ اور اس کا کندھا اس کے ساتھی کے کندھے کے ساتھ ملا ہوتا تھا۔ یہ وکیع کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ امام ابو بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ابو قاسم قبیلہ قیس کے حسین بن حجاج بن ارطاۃ اور عطاء بن سائب نے روایت کی ہے۔ ابو القاسم کا شمار کوفی راویوں میں ہوتا ہے۔ اس حدیث میں ایسی دلیل ہے جس نے شک و شبہ کوختم کردیاہے کہ ٹخنہ پاؤں کی ایک جانب ابھری ہوئی وہ ہڈی ہے جسے نماز پڑھنےوالا اپنے پہلو میں کھڑے نمازی کے ٹخنے کے ساتھ ملا سکتا ہے۔ عقل مند لوگوں کے نزدیک یہ بات مسلم ہے کہ نمازی جب صف میں کھٹرے ہوتے ہیں تو ان میں سے کسی کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اپنے قدم کے بالائی حصّے کو کسی دوسرے شخص کے قدم کے بالائی حصّے سے ملا لے، یہ نا ممکن ہے۔ لہذا جو چیز ناممکن ہوعقل مند اس کے ممکن ہونے کا خیال نہیں کرتا۔