Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Khuzaymah · Book 14 · Chapter 22

Chapters 326–350

بَابُ الْأَمْرِ بِالِاقْتِصَادِ فِي صَلَاةِ التَّطَوُّعِ وَكَرَاهَةِ الْحَمْلِ عَلَى النَّفْسِ مَا لَا تُطِيقُهُ مِنَ التَّطَوُّعِنفلی نماز میں میان

Chapter: The command to be moderate in voluntary prayer and the dislike of burdening oneself with voluntary acts beyond one's capacity

باب: نفلی نماز میں میانہ روی اختیار کرنے کا حکم اور اپنی طاقت سے زیادہ نفلی عبادت کا بار خود پر لادنے کی ناپسندیدگی

5 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

1177

Sahih Ibn Khuzaymah #1177

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا، وَلا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلُّهُ فِي لَيْلَةٍ، وَلا قَامَ حَتَّى الصَّبَّاحِ، وَلا صَامَ شَهْرًا كَامِلا غَيْرَ رَمَضَانَ" . فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِهَا، فَقَالَ: صَدَقَتْ، أَمَّا أَنِّي لَوْ كُنْتُ أَدْخُلُ عَلَيْهَا لأَتَيْتُهَا حَتَّى تُشَافِهَنِي بِهِ مُشَافَهَةً"

EnglishUnverified translation

Muhammad bin Bashar told us, on the authority of Yahya bin Saeed, on the authority of Saeed bin Abi Orouba, on the authority of Qatada, on the authority of Zurara bin Awfa, on the authority of Saad Ibn Hisham, on the authority of Aisha, who said: The Messenger of God, may God bless him and grant him peace, “when he prayed a prayer he liked to continue it, and I do not know of a Prophet.” “He, may God bless him and grant him peace, recited the entire Qur’an in one night, and did not get up until the morning, nor did he fast an entire month other than Ramadan.” So I went to Ibn Abbas and told him about her hadith, and he said: She told the truth, but if I were to enter upon her, I would have come to her so that she could tell me about it verbally.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جناب سعد بن ہشام روایت کر تے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کر تی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نفل نماز پڑھتے تو اسے باقاعدگی سے پڑھنا پسند فرماتے۔ اور مجھے نہیں معلوم کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات میں پورا قرآن مجید تلاوت کیا ہو اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح تک تہجّد ادا کی ہے۔ اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کے سوا کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہیں۔ پھر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا، اور اُنہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث بیان کی، تو اُنہوں نے فرمایا کہ اُنہوں نے سچ فرمایا ہے۔ خبردار، اگر میں اُن کی خدمت میں حاضری دیتا ہوتا تو میں اُن کی خدمت میں حاضر ہو کر اُن سے براہ راست یہ حدیث سنتا ـ

1178

Sahih Ibn Khuzaymah #1178

Sahih

ثنا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَمَلَ عَمَلا أَثْبَتَهُ، قَالَتْ: وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَّاحِ، وَلا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا إِلا رَمَضَانَ"""

EnglishUnverified translation

Ali bin Khashram told us, Issa bin Yunus told us, on the authority of Shu’bah, on the authority of Qatada with this chain of transmission. She said: The Messenger of God, may God bless him and grant him peace, was If he did something, it was proven. She said: “And I have never seen the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, stay up all night until the morning, or fast for a consecutive month.” "Except Ramadan"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی عمل کرتے تو اُسے ہمیشہ کرتے، وہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری رات صبح تک نماز تہجّد پڑھی ہو، اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہینے کے مسلسل روزے رکھے ہیں، سوائے رمضان المبارک کے۔

1179

Sahih Ibn Khuzaymah #1179

Sahih

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، ح وَحَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ بُرَيْدَةُ : خَرَجْتُ ذَاتَ يَوْمٍ أَمْشِي لِحَاجَةٍ، فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي، فَظَنَنْتُهُ يُرِيدُ حَاجَةً، فَجَعَلْتُ أَكُفُّ عَنْهُ، فَلَمْ أَزَلْ أَفْعَلُ ذَلِكَ حَتَّى رَآنِي، فَأَشَارَ إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي جَمِيعًا، فَإِذَا نَحْنُ بِرَجُلٍ بَيْنَ أَيْدِينَا يُصَلِّي، يُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتُرَى يُرَائِي؟"، فَقُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَأَرْسَلَ يَدَهُ وَطَبَّقَ بَيْنَ يَدَيْهِ ثَلاثَ مِرَارٍ، يَرْفَعُ يَدَيْهِ وَيُصَوِّبُهُمَا، وَيَقُولُ: " عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا، عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا، عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا ؛ فَإِنَّهُ مَنْ يُشَادَّ هَذَا الدِّينَ يَغْلِبْهُ" . هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ مُؤَمَّلٍ. لَمْ يَقُلِ الدَّوْرَقِيُّ: فَإِنَّهُ مَنْ يُشَادَّ هَذَا الدِّينَ يَغْلِبْهُ"

EnglishUnverified translation

Yaqoub Al-Dawraqi told us, Ibn Ulayya told us, H, and Mu’mal bin Hisham told us, Ismail, meaning Ibn Ulayya, told us, on the authority of Uyaynah Ibn Abdul Rahman, on the authority of his father, said: Buraydah said: I went out one day walking for a need, and I was with the Messenger of God, may God bless him and grant him peace. He was walking, and I thought he wanted something, so I started to stop him, and I continued doing that until he saw me, so he pointed to me, so I went to him, and he took my hand. So we all started walking, and we saw a man in front of us who was praying, bowing and prostrating a lot. Then the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, said: “Do you see? What do you think?” I said: God and His Messenger know best. He said: Then he sent out his hand and applied three passes between his hands. He raised his hands and straightened them, and said: “On you.” “You must guide with intention, upon you is guidance with intent, upon you is guidance with intent; for whoever increases this debt will overcome it.” This is a reliable hadith. Al-Duraqi did not say: Whoever strives for this religion will be defeated by it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں گھر سے نکل کر قضائے حاجت کے لئے جا رہا تھا، تو اچانک میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جا رہے ہیں، میں نے گمان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لئے جا رہے ہیں تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہٹنا شروع کر دیا، میں اسی طرح کر رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ لیا اور اشارہ کر کے مجھے (اپنے پاس) بلا لیا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا، پھر ہم اکٹّھے چلنے لگے، پھر اچانک ہم نے اپنے سامنے ایک آدمی کو دیکھا جو نماز پڑھ رہا تھا اور بکثرت رکوع و سجود کر رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھارا کیا خیال ہے، کیا یہ دکھاوا کر رہا ہے؟“ میں نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول بخوبی جانتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا - اور اپنے سامنے اپنے دونوں ہاتھوں سے تین بار اشارہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ بلند کرتے اور پھر انہیں نیچے کرتے اور فرمایا: ” درمیانی راہ اختیار کرو، اعتدال والی راہ اپناؤ، تمہیں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ جس شخص نے ابھی اس دین کے ساتھ سختی کرنے کی کوشش کی تو یہ دین اُس پر غالب آ جاتا ہے (اسے پچھاڑ دیتا ہے)۔ یہ مؤمل کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ جناب دورقی نے یہ الفاظ بیان نہیں کیے۔ بیشک جس شخص نے بھی اس دین کے معاملے میں سختی کی تو دین اس پر غالب آجاتا ہے۔

1180

Sahih Ibn Khuzaymah #1180

Sahih

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، وَحَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟" قَالُوا: لِزَيْنَبَ تُصَلِّي فَإِذَا كَسِلَتْ، أَوْ فَتَرَتْ أَمْسَكَتْ بِهِ، فَقَالَ:" حُلُّوهُ"، ثُمَّ قَالَ: " لِيُصَلِّي أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ، فَإِذَا كَسِلَ أَوْ فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ"""

EnglishUnverified translation

Yaqoub bin Ibrahim told us, Ibn Ulayya told us, Abdul Aziz bin Suhayb told us, on the authority of Anas bin Malik, he said: The Messenger of God entered May God bless him and grant him peace, there was a rope stretched between two poles, and he said: “What is this?” They said: Zainab prays, but if she is lazy, or if she is lazy, she holds it. He said: “Untie it.” Then he said: “Let one of you pray as he is active, if he is lazy.” Or he gets cold feet, let him sit.”

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے جبکہ ایک رسّی دوستونوں کے درمیان تنی ہوئی تھی - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ حاضرین نے عرض کی کہ یہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی رسی ہے۔ وہ نماز پڑھتی ہیں، پھر جب تھک جاتی ہیں یا سست ہو جاتی ہیں تو اسے تھام لیتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حُکم دیا: ”اسے کھول دو۔“ پھر فرمایا: ”تم میں سے کسی شخص کو چاہیے کہ وہ نشاط کے ساتھ اور چست ہو کر نماز ادا کرے، اور جب تھک جائے یا سست ہو جائے (تو نماز چھوڑ کر) بیٹھ جائے (اور آرام کرے۔)“

1181

Sahih Ibn Khuzaymah #1181

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُسْتَمِرٍّ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَبِيبِ بْنُ مُسْلِمِ بْنُ يَحْيَى ، مُؤَذِّنُ مَسْجِدِ بَنِي رِفَاعَةَ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: قَالُوا: لِمَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، قَالَ: مَا تَصْنَعُ بِهِ؟ قَالُوا: تُصَلِّي قَائِمَةً، فَإِذَا أَعْيَتِ اعْتَمَدَتْ عَلَيْهِ، فَحَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يُصَلِّي أَحَدُكُمْ فَإِذَا أَعْيَى فَلْيَجْلِسْ"""

EnglishUnverified translation

Ibrahim bin Mustamir Al-Basri told us, Abu Habib bin Muslim bin Yahya, the muezzin of the Bani Rifa’ah Mosque, told us Shu’bah, On the authority of Abd al-Aziz ibn Suhayb, on the authority of Anas ibn Malik, something similar, except that he said: They said: Lamimuna bint al-Harith. He said: What do you do with it? They said: She prays standing, and when she becomes tired she relies on it. The Messenger of God, may God bless him and grant him peace, permitted it. He said: “One of you prays when he becomes tired.” let him sit down

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا روایت کی طرح مروی ہے۔ صرف ان الفاظ کا فرق ہے کہ حاضرین نے عرض کی کہ (یہ رسّی) سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”وہ اس رسّی کے ساتھ کیا کرتی ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا کہ وہ (اس کے ساتھ) کھڑی ہوکر نماز پڑھتی ہیں، پھر جب تھک جاتی ہیں تو اس سے سہارا لیتی ہیں۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھول دیا اور فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے، پھر جب تھک جائے تو اسے بیٹھ جانا چاہیے۔“