Sahih Ibn Khuzaymah #1064
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، نَا أَيُّوبُ ، ح وَحَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، فَسُئِلَ: هَلْ أَمَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالا: ثُمَّ رَكِبْنَا فَأَدْرَكَنَا النَّاسُ، قَدْ تَقَدَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، وَهُوَ فِي الثَّانِيَةِ، فَذَهَبْتُ أُوذِنُهُ فَنَهَانِي، فَصَلَّيْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِي أَدْرَكْنَا الَّتِي سَبَقَتْنَا، وَقَالَ مُؤَمَّلٌ: وَقَضَيْنَا الَّتِي سَبَقَنَا"""
EnglishUnverified translation
Ziyad bin Ayyub narrated to us, Ismail bin Aliya narrated to us, Ayyoub narrated to us, and Ma’mal bin Hisham narrated to us, Ismail narrated to us, on the authority of Ayyub, On the authority of Muhammad ibn Sirin, on the authority of Amr ibn Wahb, he said: We were with Al-Mughirah ibn Shu’bah, and he was asked: “Is she the mother of the Prophet, may God bless him and grant him peace?” Did anyone from this nation other than Abu Bakr say: Yes, we were with the Prophet, may God bless him and grant him peace, on a journey, so he mentioned the length of the hadith, and they said: Then We rode and the people overtook us. Abd al-Rahman bin Awf came forward and led them in one rak’ah, and he was in the second rak’ah. I went to call him to prayer and he forbade me. So we prayed the rak’ah that we had overtaken the one that preceded us, and Ma’mal said: And we performed the one that preceded us.”
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
جناب عمرو بن وہب بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھے تو اُن سے پوچھا گیا، کیا اس اُمّت میں سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ بھی کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کرائی ہے۔ اُنہوں نے فرمایا کہ ہاں، ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، پھر مکمّل حدیث بیان کی۔ امام صاحب کے دونوں اساتذہ کرام یہ بیان کرتے ہیں، پھر ہم سوار ہوئے (اور واپس آئے) تو ہم نے دیکھا کہ سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ لوگوں کو امامت کرارہے تھے، ایک رکعت پڑھا چکے تھے اور دوسری رکعت پڑھا رہے تھے میں نے انہیں (نبی کریم کی آمد کی) اطلاع دینی چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع کر دیا۔ تو ہم نے جو رکعت (اُن کے ساتھ) پالی وہ ادا کرلی اور جو فوت ہو گئی تھی وہ مکمّل کرلی۔ جناب مؤمل کی روایت میں ہے کہ جو رکعت رہ گئی تھی ہم نے وہ مکمّل کرلی۔