Sahih Ibn Khuzaymah #980
نَا نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ، وَثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، وَثنا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلاةِ الْخَوْفِ، قَالَ: يَقُومُ الإِمَامُ وَطَائِفَةٌ مِنَ النَّاسِ فَيُصَلِّي بِهِمْ رَكْعَةً، وَتَكُونُ طَائِفَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ لَمْ يُصَلُّوا، فَإِذَا صَلَّى الَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً اسْتَأْخَرُوا مَكَانَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا، وَلا يُسَلِّمُونَ وَيَتَقَدَّمُ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا فَيُصَلُّونَ مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ يَنْصَرِفُ الإِمَامُ، وَقَدْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَيَقُومُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ فَيُصَلُّونَ لأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، فَإِنْ كَانَ خَوْفًا أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ صَلَّوْا رِجَالا قِيَامًا عَلَى أَقْدَامِهِمْ، وَرُكْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةَ، أَوْ غَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا" . قَالَ نَافِعٌ: لا أَرَى ابْنَ عُمَرَ ذَكَرَهُ إِلا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ."
EnglishUnverified translation
We told us Yunus bin Abdul-Ala, Ibn Wahb told us that Malik told him, Al-Hasan bin Muhammad Al-Zaafrani told us, Muhammad bin Idris told us. Al-Shafi’i, on the authority of Malik, and Al-Rabi’, said: Al-Shafi’i said, Malik told us, on the authority of Nafi’, on the authority of Ibn Umar, that when he was asked about the prayer Fear, he said: “The imam and a group of people will stand up and lead them in prayer one rak’ah, and a group will be between him and the enemy and they will not pray, so when those with him pray One rak'ah, they delayed in place of those who had not prayed, and they did not greet, and those who had not prayed came forward and prayed one rak'ah with him, then the imam departed, and he had prayed two rak'ahs, then each one of the two groups stands and prays one rak'ah for themselves. If the fear is greater than that, they pray as men standing Their feet and knees, facing the Qiblah or not facing it.” Nafi’ said: I do not see Ibn Umar mentioning it except on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا ابن عمر رضی ﷲ عنہما سے مروی ہے کہ جب ان سے نماز خوف کے بارے میں سوال کیا گیا تو اُنہوں نے فرمایا کہ امام اور لوگوں کی ایک جماعت کھڑی ہوگی تو امام اُنہیں ایک رکعت پڑھائے گا، جبکہ دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی وہ امام اور دشمن کے درمیان صف آرا رہے گی۔ پھر جب امام کے ساتھ والی جماعت ایک رکعت اس کے ساتھ پڑھ لیگی، تو وہ سلام پھیرے بغیر ہی ان لوگوں کی جگہ لے لے گی جنھوں نے نماز نہیں پڑھی تھی اور یہ لوگ آگے آئیں گے جنہوں نے نماز نہیں پڑھی اور امام کے ساتھ ایک رکعت ادا کریں گے، پھر امام سلام پھیردے گا اور اس کی دو رکعتیں ہو چکی ہوں گی، پھر دونوں جماعتیں اپنی اپنی ایک رکعت پڑھ لیں گی (اور سلام پھیر دیں گی)۔ اگر خوف اس سے بھی شدید ہو تو وہ چلتے ہوئے کھڑے کھڑے اور سوار ہو کر قبلہ رخ ہو کر یا بغیر قبلہ رخ ہوئے نماز پڑھ لیں گے۔ نافع کہتے ہیں، میرا خیال ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہا نے (نماز کی یہ کیفیت و صورت) رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے بیان کی ہے۔