Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 61 · Chapter 3

The Book of Stars and Weather Signs

Hadith 6958–6991

34 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

6958

Sahih Ibn Hibban #6958

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ :أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ ؟ قُلْنَا : حَرْبًا ، قَالَ : لا ، بَلْ هُوَ حَسَنٌ ، فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ ؟ قُلْنَا : حَرْبًا ، قَالَ : بَلْ هُوَ حُسَيْنٌ ، فَلَمَّا وُلِدَ لِي الثَّالِثُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ ؟ فَقُلْنَا : سَمَّيْنَاهُ حَرْبًا ، قَالَ : بَلْ هُوَ مُحْسِنٌ ، ثُمَّ قَالَ : إِِنَّمَا سَمَّيْتُهُمْ بِوَلَدِ هَارُونَ : شَبَّرٌ وَشَبِّيرٌ وَمُشَبِّرٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب حسن پیدا ہوا تو میں نے اس کا نام حرب رکھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا بیٹا مجھے دکھاؤ، تم لوگوں نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟“ ہم نے کہا: حرب۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں بلکہ یہ حسن ہے“، پھر جب حسین پیدا ہوا تو میں نے اس کا نام حرب رکھ دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا بیٹا مجھے دکھاؤ، تم لوگوں نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟“ ہم نے کہا: حرب۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں بلکہ یہ حسین ہے“، پھر جب میرے ہاں تیسرا بچہ ہوا تو میں نے اس کا نام حرب رکھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے میرا بیٹا دکھاؤ، تم لوگوں نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟“ ہم نے عرض کی: ہم نے اس کا نام حرب رکھا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں بلکہ یہ محسن ہے“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں ان کے نام سیدنا ہارون علیہ السلام کی اولاد کے نام پر «شَبَّر» ”شبر“، «شَبَيْر» ”شبیر“ اور «مُشَبِّر» ”مشبر“ رکھتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6958]

6959

Sahih Ibn Hibban #6959

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ ابْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، إِِلا ابْنَيِ الْخَالَةِ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ ، وَيَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”حسن اور حسین رضی اللہ عنہما جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، صرف دو خالہ زاد بھائی عیسیٰ بن مریم اور یحییٰ بن زکریا (کا حکم مختلف ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6959]

6960

Sahih Ibn Hibban #6960

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ إِِسْرَائِيلَ ، عَنْ مَيْسَرَةَ النَّهْدِيِّ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ ، ثُمَّ خَرَجَ فَاتَّبَعْتُهُ ، فَقَالَ : عَرَضَ لِي مَلَكٌ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ ، وَبَشَّرَنِي أَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز ادا کر لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے ایک فرشتہ آیا جس نے اپنے پروردگار سے یہ اجازت مانگی تھی کہ وہ مجھ پر سلام بھیجے، اس فرشتے نے مجھے یہ خوشخبری سنائی ہے کہ حسن اور حسین رضی اللہ عنہما جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6960]

6961

Sahih Ibn Hibban #6961

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُرَيْجٍ النَّقَالُ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُنِي فَيُقْعِدُنِي عَلَى فَخِذِهِ ، وَيُقْعِدُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَى فَخِذِهِ الأُخْرَى ، ثُمَّ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِِنِّي أَرْحَمُهُمَا فَارْحَمْهُمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پکڑ کر اپنے ایک زانو پر بٹھا لیتے تھے اور سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو دوسرے زانو پر بٹھا لیتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ ارْحَمْهُمَا فَإِنِّي أَرْحَمُهُمَا» ”اے اللہ! میں ان دونوں پر رحم کرتا ہوں، تو بھی ان دونوں پر رحم کر۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6961]

6962

Sahih Ibn Hibban #6962

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَامِلا الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو اپنے کندھے پر اٹھایا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہہ رہے تھے: ”اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت کر۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6962]

6963

Sahih Ibn Hibban #6963

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سُوقٍ مِنْ أَسْوَاقِ الْمَدِينَةِ ، فَانْصَرَفَ وَانْصَرَفْتُ مَعَهُ ، فَقَالَ : ادْعُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ ، فَجَاءَ الْحَسَنُ يَمْشِي وَفِي عُنُقِهِ الشِّحَابُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ هَكَذَا ، فَقَالَ الْحَسَنُ بِيَدِهِ هَكَذَا ، فَأَخَذَهُ ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ إِِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ ، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ "، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَمَا كَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِِلَيَّ مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ بَعْدَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَكَذَا حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ بِالشِّينِ وَالْحَاءِ ، وَإِِنَّمَا هُوَ السِّخَابُ بِالسِّينِ وَالْخَاءِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ منورہ کے ایک بازار میں موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف مڑ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی مڑ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حسن کو میرے پاس بلا کر لاؤ۔“ تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ چلتے ہوئے آئے، ان کی گردن میں ایک ہار تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اس طرح اشارہ کیا، تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے ہاتھ کے ذریعے اس طرح اشارہ کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکڑ لیا اور کہا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ» ”اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت کر اور اس شخص سے بھی محبت کر جو اس سے محبت کرتا ہو۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے، میرے نزدیک کوئی بھی شخص سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے زیادہ محبوب نہیں ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عبداللہ بن محمد نے یہ لفظ اسی طرح ”ش“ اور ”ح“ کے ساتھ ہمیں بیان کیا، حالانکہ اصل لفظ «سِخَاب» ہے یعنی ”س“ اور ”خ“ کے ساتھ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6963]

6964

Sahih Ibn Hibban #6964

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا ، وَكَانَ الْحَسَنُ يَجِيءُ وَهُوَ صَغِيرٌ ، فَكَانَ كُلَّمَا سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبَ عَلَى رَقَبَتِهِ وَظَهْرِهِ ، فَيَرْفَعُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ رَفَعًا رَقِيقًا حَتَّى يَضَعَهُ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّكَ تَصْنَعُ بِهَذَا الْغُلامِ شَيْئًا مَا رَأَيْنَاكَ تَصْنَعُهُ بِأَحَدٍ ، فَقَالَ : إِِنَّهُ رَيْحَانَتِي مِنَ الدُّنْيَا ، إِِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ ، وَعَسَى اللَّهُ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آئے، وہ اس وقت چھوٹے بچے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن اور پشت پر سوار ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آرام سے اٹھایا یہاں تک کہ انہیں زمین پر بٹھا دیا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بچے کے ساتھ ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا ہے جو ہم نے کسی کے ساتھ کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دنیا میں میری خوشبو ہے، میرا یہ بیٹا سردار ہے، عنقریب اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کروائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6964]

6965

Sahih Ibn Hibban #6965

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِِسْحَاقَ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ فِي طُرُقِ الْمَدِينَةِ ، فَلَقِينَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ لِلْحَسَنِ : اكْشِفْ لِي عَنْ بَطْنِكَ ، جُعِلْتُ فِدَاكَ ، حَتَّى أُقَبِّلَ حَيْثُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُهُ "، قَالَ : فَكَشَفَ عَنْ بَطْنِهِ ، فَقَبَّلَ سُرَّتَهُ ، وَلَوْ كَانَتْ مِنَ الْعَوْرَةِ مَا كَشَفَهَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمیر بن اسحاق بیان کرتے ہیں: میں سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ مدینہ منورہ کے کسی راستے میں جا رہا تھا، ہماری ملاقات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، انہوں نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹائیں اور مجھے اپنے اوپر فدا ہونے کا موقع دیجیے تاکہ میں اس جگہ کا بوسہ لوں جہاں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو انہوں نے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹایا، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کی ناف پر بوسہ دیا۔ (راوی کہتے ہیں:) اگر ناف پردے میں شامل ہوتی تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اس سے کپڑا نہ ہٹاتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6965]

6966

Sahih Ibn Hibban #6966

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سَعِيدٍ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَلْيَنْظُرْ إِِلَى الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ "، فَإِِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”جو شخص کسی جنتی کو دیکھنا چاہتا ہو وہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھ لے“، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6966]

6967

Sahih Ibn Hibban #6967

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ النَّبَّالُ ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : طَرَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ لِبَعْضِ الْحَاجَةِ ، وَهُوَ مُشْتَمِلٌ عَلَى شَيْءٍ لا أَدْرِي مَا هُوَ ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ حَاجَتِي ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا الَّذِي أَنْتَ مُشْتَمِلٌ عَلَيْهِ ؟ فَكَشَفَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِِذَا هُوَ حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ عَلَى فَخِذَيْهِ ، فَقَالَ : هَذَانِ ابْنَايَ وَابْنَا ابْنَتِي ، اللَّهُمَّ إِِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں کسی کام کے سلسلے میں رات کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو اٹھائے ہوئے تھے، مجھے اندازہ نہیں ہوا وہ کیا چیز ہے، جب میں اپنے کام سے فارغ ہوا تو میں نے عرض کی: یہ کیا چیز ہے جس کے اوپر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر دی ہوئی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چادر کو ہٹایا تو وہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زانوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دونوں میرے بیٹے ہیں اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں، «اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا» ”اے اللہ! بے شک تو یہ بات جانتا ہے میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان دونوں سے محبت کر۔“” [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6967]

6968

Sahih Ibn Hibban #6968

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : بَلَغَ ابْنَ عُمَرَ وَهُوَ بِمَالٍ لَهُ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ قَدْ تَوَجَّهَ إِِلَى الْعِرَاقِ ، فَلَحِقَهُ عَلَى مَسِيرَةِ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلاثَةٍ ، فَقَالَ : إِِلَى أَيْنَ ؟ فَقَالَ : هَذِهِ كُتُبُ أَهْلِ الْعِرَاقِ وَبَيْعَتُهُمْ ، فَقَالَ : لا تَفْعَلْ ، فَأَبَى ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ : إِِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَيَّرَهُ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِفَاخْتَارَ الآخِرَةَ ، وَلَمْ يُرِدِ الدُّنْيَا ، وَإِِنَّكَ بَضْعَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَذَلِكَ يُرِيدُ مِنْكُمْ " ، فَأَبَى ، فَاعْتَنَقَهُ ابْنُ عُمَرَ ، وَقَالَ : أَسْتَوْدِعُكَ اللَّهَ ، وَالسَّلامُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ اطلاع ملی (وہ اس وقت اپنی زمینوں پر موجود تھے) کہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ عراق کی طرف جانے لگے ہیں، تو وہ دو یا تین دن کا سفر کر کے سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور دریافت کیا: آپ کہاں جانا چاہتے ہیں؟ انہوں نے بتایا: یہ اہل عراق کے خطوط ہیں اور ان کی بیعت (کے بارے میں خطوط ہیں) تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ایسا نہ کیجئے۔ لیکن سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے یہ بات نہیں مانی۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخرت کو اختیار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا نہیں چاہتے تھے۔ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جگر کے ٹکڑے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے بھی اسی چیز کے طلب گار ہوں گے (کہ آپ دنیا کی طرف متوجہ نہ ہوں) لیکن سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے یہ بات نہیں مانی۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں گلے لگایا اور کہا: «أَسْتَوْدِعُكَ اللَّهَ» ”میں آپ کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں“، والسلام۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6968]

6969

Sahih Ibn Hibban #6969

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نُعْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ شَيْءٍ ، قَالَ شُعْبَةُ : سَأَلَهُ عَنِ الْمُحْرِمِ يَقْتُلُ الذُّبَابَ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : يَسْأَلُونِي عَنْ قَتْلِ الذُّبَابِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُمَا رَيْحَانَتِي مِنَ الدُّنْيَا "، ابْنُ أَبِي نُعْمٍ : هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن ابونعیم بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو سنا، ایک شخص نے ان سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا۔ (شعبہ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے) ایک شخص نے ان سے احرام والے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو مکھی کو مار دیتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”یہ لوگ مجھ سے مکھی کو مارنے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، حالانکہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو شہید کر دیا تھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: «هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا» ”یہ دونوں (نواسے) دنیا میں میری خوشبو ہیں۔“ (ابن ابونعیم نامی راوی کا نام عبدالرحمن ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6969]

6970

Sahih Ibn Hibban #6970

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَالِحٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَثِبَانِ عَلَى ظَهْرِهِ " ، فَيُبَاعِدُهُمَا النَّاسُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :دَعُوهُمَا ، بِأَبِي هُمَا وَأُمِّي " مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّ هَذَيْنِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر چڑھ گئے، لوگوں نے انہیں پیچھے ہٹانا چاہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان دونوں کو کرنے دو، میرے ماں باپ ان پر قربان ہوں، جو شخص مجھ سے محبت رکھتا ہے وہ ان دونوں سے بھی محبت رکھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6970]

6971

Sahih Ibn Hibban #6971

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، عَنْ يَعْلَى الْعَامِرِيِّ ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى طَعَامٍ دُعُوا لَهُ ، فَإِِذَا حُسَيْنٌ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ ، فَاسْتَقْبَلَ أَمَامَ الْقَوْمِ ، ثُمَّ بَسَطَ يَدَهُ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَفِرُّ هَا هُنَا مَرَّةً وَهَهُنَا مَرَّةً ، وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَاحِكُهُ ، حَتَّى أَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ إِِحْدَى يَدَيْهِ تَحْتَ ذَقْنِهِ وَالأُخْرَى تَحْتَ قَفَاهِ ، ثُمَّ قَنَّعَ رَأْسَهُ فَوَضَعَ فَاهُ عَلَى فِيهِ فَقَبَّلَهُ ، وَقَالَ : حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا ، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الأَسْبَاطِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا یعلٰی عامری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک کھانے کی دعوت پر گئے جس میں انہیں بلایا گیا تھا، وہاں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے آگے بڑھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ پھیلا لیا تو وہ بچہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گرفت سے بچنے کے لیے) کبھی ادھر بھاگنے لگا کبھی ادھر بھاگنے لگا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے ہنسا رہے تھے، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک ہاتھ اس کی ٹھوڑی کے نیچے رکھا اور دوسرا گدی کے نیچے رکھا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا سر اوپر کیا اور اپنا منہ ان کے منہ پر رکھ کر بوسہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ» ”حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت کرے جو حسین سے محبت رکھتا ہو، حسین واقعی نواسہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6971]

6972

Sahih Ibn Hibban #6972

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا خَلادُ بْنُ أَسْلَمَ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ زِيَادٍ إِِذْجِيءَ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَقُولُ بِقَضِيبِهِ فِي أَنْفِهِ ، وَيَقُولُ : مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَذَا حُسْنًَا ، فَقُلْتُ : أَمَا إِِنَّهُ كَانَ مِنْ أَشْبَهِهِمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ابن زیاد کے پاس موجود تھا، اسی دوران سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر لایا گیا تو اس نے اپنی چھڑی کو ان کی ناک پر لگایا اور بولا: میں نے اتنا خوبصورت شخص کبھی نہیں دیکھا، تو میں نے کہا: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6972]

6973

Sahih Ibn Hibban #6973

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کوئی شخص سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت نہیں رکھتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6973]

6974

Sahih Ibn Hibban #6974

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا إِِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : الْحَسَنُ أَشْبَهُ النَّاسِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الصَّدْرِ إِِلَى الرَّأْسِ ، وَالْحُسَيْنُ أَشْبَهُ النَّاسِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حسن رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہیں جو سینے سے لے کر سر تک ہے، اور حسین رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہیں اس حصے کے بارے میں جو سینے سے نیچے ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6974]

6975

Sahih Ibn Hibban #6975

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْلَعُ لِسَانَهُ لِلْحُسَيْنِ ، فَيَرَى الصَّبِيُّ حُمْرَةَ لِسَانِهِ ، فَيَهَشُّ إِِلَيْهِ " ، فَقَالَ لَهُ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ : أَلا أَرَاهُ يَصْنَعُ هَذَا بِهَذَا ، فَوَاللَّهِ إِِنَّهُ لَيَكُونُ لِيَ الْوَلَدُ قَدْ خَرَجَ وَجْهُهُ ، وَمَا قَبَّلْتُهُ قَطُّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" مَنْ لا يَرْحَمُ لا يُرْحَمُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے (بچپن میں) ان کے لیے اپنی زبان باہر نکالتے تھے، وہ بچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان کی سرخی کو دیکھتا تو اسے وہ اچھی لگتی تھی۔ عیینہ بن بدر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ رہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچے کے ساتھ یہ کچھ کر رہے ہیں؟ اللہ کی قسم! میری بھی اولاد ہے، جس کا چہرہ نکل آیا ہے، لیکن میں نے کبھی اس کا بوسہ نہیں لیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6975]

6976

Sahih Ibn Hibban #6976

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، قَالا : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَنْ عَلِيٍّ فِي مَنْزِلِهِ ، فَقِيلَ لِي ذَهَبَ يَأْتِي بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِِذْ جَاءَ ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَخَلْتُ ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْفِرَاشِ ، وَأَجْلَسَ فَاطِمَةَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَلِيًّا عَنْ يَسَارِهِ ، وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَقَالَ : إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ، اللَّهُمَّ هَؤُلاءِ أَهْلِي " ، قَالَ وَاثِلَةُ : فَقُلْتُ مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ : وَأَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ أَهْلِكَ ؟ قَالَ : وَأَنْتَ مِنْ أَهْلِي، قَالَ وَاثِلَةُ : إِِنَّهَا لَمِنْ أَرْجَى مَا أَرْتَجِي"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گھر میں ان کے بارے میں دریافت کیا، تو مجھے یہ بتایا گیا کہ وہ گئے ہوئے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئیں گے، پھر وہ آ گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے اندر تشریف لے آئے اور میں بھی اندر آ گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بچھونے پر تشریف فرما ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے دائیں طرف، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے بائیں طرف، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو اپنے آگے بٹھا لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ آیت تلاوت کی) ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ [سورة الأحزاب: 33] ”اے اہل بیت! اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں اچھی طرح سے پاک و صاف کر دے۔“ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) «اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي» ”اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں۔“ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے گھر کے کنارے سے کہا: یا رسول اللہ! میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بھی میرے اہل بیت میں سے ہو۔“ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں جس چیز کی امید کر سکتا تھا، یہ ان میں سب سے زیادہ قابل دید چیز تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6976]

6977

Sahih Ibn Hibban #6977

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَسْبَاطِ بْنِ نَصْرٍ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ صُبَيْحٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِفَاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ : أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ ، وَسَلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”میں اس سے جنگ کروں گا جو تمہارے ساتھ جنگ کرے گا، اور اس کے ساتھ سلامت رہوں گا جو تمہارے ساتھ سلامت رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6977]

6978

Sahih Ibn Hibban #6978

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانِ بِالرَّقَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَسْدُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ،لا يُبْغِضَنَّ أَهْلَ الْبَيْتِ رَجُلٌ إِِلا أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، ہم اہل بیت کے ساتھ جو بھی شخص بغض رکھے گا، اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6978]

6979

Sahih Ibn Hibban #6979

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصْعِدِينَ فِي أُحُدٍ ، فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ظَهْرِهِ لِيَنْهَضَ عَلَى صَخْرَةٍ فَلَمْ يَسْتَطِعْ ، فَبَرَكَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ تَحْتَهُ ، فَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ظَهْرِهِ ، حَتَّى جَلَسَ عَلَى الصَّخْرَةِ ، قَالَ الزُّبَيْرُ : فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : أَوْجَبَ طَلْحَةُ ، ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَأَتَى الْمِهْرَاسَ ، وَأَتَاهُ بِمَاءٍ فِي دَرَقَتِهِ ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْرَبَ مِنْهُ فَوَجَدَ لَهُ رِيحًا فَعَافَهُ ، فَغَسَلَ بِهِ الدَّمَ الَّذِي فِي وَجْهِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : اشْتَدَّ غَضِبُ اللَّهِ عَلَى مَنْ دَمَّى وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اپنے والد (سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہم احد پہاڑ پر چڑھنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ایک چٹان پر چڑھنے کی کوشش کی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں چڑھ سکے، تو سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے گھٹنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے بچھائے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی پشت پر پاؤں رکھ کر اوپر چڑھ گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس چٹان پر تشریف فرما ہوئے۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: «أَوْجَبَ طَلْحَةُ» ”طلحہ نے (اپنے لئے جنت) واجب کر دی ہے“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، وہ مہراس کے پاس آئے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی ڈھال میں پانی لے کر آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پینا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں بو محسوس ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں پیا، پھر اس پانی کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر لگے ہوئے خون کو دھو دیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «اشْتَدَّ غَضَبُ اللهِ عَلَى مَنْ دَمَّى وَجْهَ رَسُولِ اللهِ» ”اللہ تعالیٰ کا غضب ان لوگوں پر شدت سے نازل ہو گا جنہوں نے اللہ کے رسول کے چہرے کو خون آلود کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6979]

6980

Sahih Ibn Hibban #6980

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، عَنْ إِِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ :لَمَّا صُرِفَ النَّاسُ يَوْمَ أُحُدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِِلَى رَجُلٍ بَيْنَ يَدَيْهِ يُقَاتِلُ عَنْهُ وَيَحْمِيهِ ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ : كُنْ طَلْحَةَ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ، مَرَّتَيْنِ ، قَالَ : ثُمَّ نَظَرْتُ إِِلَى رَجُلٍ خَلْفِي كَأَنَّهُ طَائِرٌ ، فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ أَدْرَكَنِي ، فَإِِذَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ، فَدَفَعْنَا إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِِذَا طَلْحَةُ بَيْنَ يَدَيْهِ صَرِيعٌ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دُونَكُمْ أَخُوكُمْ ، فَقَدْ أَوْجَبَ، قَالَ : وَقَدْ رُمِيَ فِي جَبْهَتِهِ وَوَجْنَتِهِ ، فَأَهْوَيْتُ إِِلَى السَّهْمِ الَّذِي فِي جَبْهَتِهِ لأَنْزِعَهُ ، فَقَالَ لِي أَبُو عُبَيْدَةَ : نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ يَا أَبَا بَكْرٍ إِِلا تَرَكْتَنِي ، قَالَ : فَتَرَكْتُهُ ، فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ السَّهْمَ بِفِيهِ فَجَعَلَ يُنَضْنِضُهُ ، وَيَكْرَهُ أَنْ يُؤْذِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ اسْتَلَّهُ بِفِيهِ ، ثُمَّ أَهْوَيْتُ إِِلَى السَّهْمِ الَّذِي فِي وَجَنَتِهِ لأَنْزِعَهُ ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ يَا أَبَا بَكْرِ إِِلا تَرَكْتَنِي ، فَأَخَذَ السَّهْمَ بِفِيهِ ، وَجَعَلَ يُنَضْنِضُهُ ، وَيَكْرَهُ أَنْ يُؤْذِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ اسْتَلَّهُ ، وَكَانَ طَلْحَةُ أَشَدَّ نَهْكَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ مِنْهُ ، وَكَانَ قَدْ أَصَابَ طَلْحَةَ بَضْعَةٌ وَثَلاثُونَ بَيْنَ طَعْنَةٍ وَضَرْبَةٍ وَرَمْيَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی کہ غزوۂ احد کے دن جب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے ہٹ گئے، تو میں وہ پہلا شخص تھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے ایک شخص کی طرف دیکھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے موجود تھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لڑائی میں حصہ لے رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچانے کی کوشش کر رہا تھا، تو میں نے دو مرتبہ یہ کہا: ”تم طلحہ ہو، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے پیچھے موجود شخص کو دیکھا جو پرندے کی مانند تھا، تھوڑی ہی دیر میں وہ مجھ تک پہنچ گیا تو وہ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ آپ کے سامنے مقابلہ کر رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بھائی کا خیال کرو، جس نے (اپنے لیے جنت) واجب کر لی ہے۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار پر تیر لگا تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر لگے ہوئے تیر کو نکالنے کا ارادہ کیا، سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: ”میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ آپ یہ کام میرے لیے چھوڑ دیں“، تو میں نے اسے چھوڑ دیا۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اپنے منہ کے ذریعے اس تیر کو پکڑا اور اس کو کھینچنے کی کوشش کرنے لگے، وہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف پہنچے، پھر انہوں نے اپنے منہ کے ذریعے اسے کھینچ لیا، پھر میں اس تیر کی طرف بڑھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار پر لگا تھا تاکہ اسے نکالوں۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے ابوبکر! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں اسے آپ میرے لیے چھوڑ دیں“، تو انہوں نے وہ تیر بھی اپنے منہ کے ذریعے پکڑا اور اسے نکالنے کی کوشش کرنے لگے، وہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف پہنچائیں، پھر انہوں نے اسے کھینچ دیا۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ زخمی تھے (یا انہوں نے لڑائی میں زیادہ حصہ لیا) جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زیادہ شدید تھے۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو اس دن نیزے، تلوار اور تیر کے تیس سے زیادہ زخم آئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6980]

6981

Sahih Ibn Hibban #6981

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ شَلاءَ وَقَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ دیکھا ہے جو شل ہو چکا تھا، وہ اس کے ذریعے غزوہ احد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بچا رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6981]

6982

Sahih Ibn Hibban #6982

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا عَتِيقُ بْنُ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ خُبَيْبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ لأَبِيهِ : يَا أَبَتِ ، حَدِّثْنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أُحَدِّثَ عَنْكَ ، فَإِِنَّ كُلَّ أَبْنَاءِ الصَّحَابَةِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : يَا بُنَيَّ ، مَا مِنْ أَحَدٍ صَحِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصُحْبَةٍ إِِلا وَقَدْ صَحِبْتُهُ مِثْلَهَا أَوْ أَفْضَلَ ، وَلَقَدْ عَلِمْتَ يَا بُنَيَّ أَنَّ أُمَّكَ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ كَانَتْ تَحْتِي ، وَلَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ خَالَتُكَ ، وَلَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ أُمِّي صَفِيَّةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَأَنَّ أَخْوَالِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَبُو طَالِبٍ وَالْعَبَّاسُ ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ خَالِي ، وَلَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّتِي خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ وَكَانَتْ تَحْتَهُ ، وَأَنَّ ابْنَتَهَا فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ أُمَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آمِنَةُ بِنْتُ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُهْرَةَ ، وَأَنَّ أُمَّ صَفِيَّةَ وَحَمْزَةَ هَالَةُ بِنْتُ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُهْرَةَ ، وَلَقَدْ صَحِبْتُهُ بِأَحْسَنَ صُحْبَةٍ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنے والد سے کہا: اے ابا جان! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مجھے کوئی حدیث بیان کیجیے تاکہ میں وہ آپ کے حوالے سے روایت کر سکوں، کیونکہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بچے اپنے والد کے حوالے سے حدیث بیان کرتے ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے! جو بھی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا ہے، میں بھی اس کی مانند یا اس سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہوں۔ اے میرے بیٹے! تم یہ بات جانتے ہو کہ تمہاری والدہ سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما میری بیوی تھیں اور تم یہ بات بھی جانتے ہو کہ سیدہ عائشہ بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما تمہاری خالہ ہیں اور تم یہ بات بھی جانتے ہو کہ میری والدہ سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا ہیں (جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ہیں) اور میرے ماموں سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ، جناب ابوطالب اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماموں زاد بھی ہیں؛ تم یہ بات بھی جانتے ہو کہ سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا میری پھوپھی تھیں، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ تھیں اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی صاحب زادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی ہیں اور تم یہ بات بھی جانتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ سیدہ آمنہ بنت وہب رضی اللہ عنہا ہیں، جبکہ (میری والدہ) سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا اور (میرے ماموں) سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی والدہ ہالہ بنت وہب ہیں (جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سگی خالہ ہیں)، تو میں «اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ» ”اللہ تعالیٰ کا شکر ہے“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اچھی طرح سے رہا ہوں؛ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہ کہی ہو وہ جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6982]

6983

Sahih Ibn Hibban #6983

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ حِرَاءَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ ، فَتَحَرَّكَ بِهِمُ الْجَبَلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اسْكُنْ حِرَاءُ ، فَإِِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حرا (پہاڑ) پر چڑھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم تھے، تو ان حضرات کی موجودگی میں اس پہاڑ نے حرکت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حرا! ساکن رہو، کیونکہ تمہارے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور ایک شہید موجود ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6983]

6984

Sahih Ibn Hibban #6984

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ، قَالَ : جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ قُرَيْظَةَ ، فَقَالَ : بِأَبِي وَأُمِّي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگِ قریظہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اپنے ماں باپ کو جمع کرتے ہوئے یہ فرمایا تھا: ”میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6984]

6985

Sahih Ibn Hibban #6985

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيْدَا ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَةَ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ : مَنْ رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ بَنِي قُرَيْظَةَ ؟ فَقَالَ الزُّبَيْرُ : أَنَا ، فَذَهَبَ عَلَى فَرَسِهِ ، فَجَاءَ بِخَبَرِهِمْ ، ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ : أَنَا ، ثُمَّ قَالَ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ : أَنَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ ، وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے دن ارشاد فرمایا: ”کون شخص بنو قریظہ کے بارے میں اطلاعات میرے پاس لے کر آئے گا؟“ تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں۔ پھر وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو گئے اور ان کے بارے میں اطلاع لے کر آئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ یہ بات کہی تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ یہ بات کہی تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر بن عوام ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6985]

6986

Sahih Ibn Hibban #6986

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، كَانَتْ تُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهِرَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهِيَ إِِلَى جَنْبِهِ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : مَا شَأْنُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : لَيْتَ رَجُلا صَالِحًا مِنْ أَصْحَابِي يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ ، قَالَتْ : فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ ، إِِذْ سَمِعْتُ صَوْتَ السِّلاحِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : مَا جَاءَ بِكَ ؟ قَالَ : جِئْتُ لأَحْرُسَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ "، قَالَ : فَسَمِعْتُ غَطِيطَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَوْمِهِ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک جاگتے رہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھیں، وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا ہوا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش میرے اصحاب میں سے کوئی صالح شخص آج رات میری حفاظت کرتا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ابھی ہم اسی حالت میں تھے کہ میں نے ہتھیار کی آواز سنی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کون ہے؟“ اس نے جواب دیا: سعد بن مالک۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم کیوں آئے ہو؟“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لیے آیا ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند کے دوران خراٹے سنے (یعنی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرسکون نیند سو گئے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6986]

6987

Sahih Ibn Hibban #6987

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قال : رَأَيْتُ عَنَ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَنْ شِمَالِهِ يَوْمَ أُحُدٍ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ ، مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلا بَعْدُ يَعْنِي جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوۂ احد کے دن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف اور بائیں طرف دو آدمی دیکھے جن کے جسم پر سفید کپڑے تھے، میں نے ان دونوں کو نہ تو اس سے پہلے کبھی دیکھا اور نہ ہی بعد میں دیکھا، (راوی کہتے ہیں:) وہ جبرائیل علیہ السلام اور سیدنا میکائیل علیہ السلام تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6987]

6988

Sahih Ibn Hibban #6988

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . وَسُفْيَانُ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لأَحَدٍ إِِلا لِسَعْدٍ ، فَإِِنَّهُ قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ :ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے کبھی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی کے لیے بھی اپنے والدین کو جمع کرتے ہوئے نہیں سنا، صرف سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے لیے سنا ہے، کیونکہ غزوہ احد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: «ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» ”تم تیر پھینکو، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6988]

6989

Sahih Ibn Hibban #6989

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : وَاللَّهِإِِنِّي لأَوَّلُ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَإِِنْ كُنَّا لَنَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ نَأْكُلُهُ إِِلا وَرَقُ الْحُبْلَةِ وَهَذَا السَّمُرُ ، حَتَّى إِِنْ كَانَ أَحَدُنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ مَا لَهُ خِلْطٌ ، ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الدِّينِ ، لَقَدْ خِبْتُ إِِذًا وَضَلَّ عَمَلِي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! میں عربوں میں سے وہ پہلا شخص ہوں جس نے اللہ کی راہ میں (جنگ کے دوران) تیر اندازی کی، ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوات میں شریک ہوتے تھے، ہمارے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا تھا، صرف درخت کے پتے ہوتے تھے اور یہ مخصوص قسم کا درخت ہوتا تھا، یہاں تک کہ ہم میں سے کوئی ایک شخص بکری کی مینگنی کی طرح پاخانہ کرتا تھا، اس میں کچھ ملا ہوا نہیں ہوتا تھا، اب اگر بنو اسد دین کے حوالے سے مجھے عار دلانے کی کوشش کریں پھر تو میں رسوا ہو گیا اور میرا عمل ضائع ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6989]

6990

Sahih Ibn Hibban #6990

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدًا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لَهُ إِِذَا دَعَاكَ يَعْنِي سَعْدًا """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لَهُ إِذَا دَعَاكَ» ”اے اللہ! جب یہ تجھ سے دعا کرے تو اس کو مستجاب کرنا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6990]

6991

Sahih Ibn Hibban #6991

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ مِنْ ذَا الْبَابِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، قَالَ : وَلَيْسَ مِنَّا أَحَدٌ إِِلا وَهُوَ يَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ ، فَإِِذَا سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ قَدْ طَلَعَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس دروازے سے تمہارے پاس ایک شخص آئے گا، جو جنتی ہو گا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ہم میں سے ہر شخص کی یہ خواہش تھی کہ وہ داخل ہونے والا شخص اس کے گھر والوں میں سے کوئی ہو، تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6991]