Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Hibban · Book 22 · Chapter 1

Book of Vows

Hadith 2382–2421

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2382

Sahih Ibn Hibban #2382

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِشْكَابَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ وَعِنْدَهُ أُنَاسٌ ، فَجَاءَ بِلالٌ فَأَذَّنَ ، ثُمَّ جَعَلَ يَتْبَعُ فَاهُ هَهُنَا وَهَهُنَا ، قَالَ سُفْيَانُ : يَعْنِي بِقَوْلِ : حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ ، قَالَ : وَأَخْرَجَ فَضْلَ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ النَّاسُ مِنْ بَيْنِ نَائِلٍ ، وَنَاضِحٍ ، حَتَّى جَعَلَ الصَّغِيرُ يُدْخِلُ يَدَهُ تَحْتَ إِبَاطِ الْقَوْمِ فَيُصِيبُ ذَلِكَ ،وَرَكَزَ بِلالٌ بَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةً ، فَيَمُرُّ الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ لا يُمْنَعُ ، فَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عون بن ابو جحیفہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں بطحاء میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سرخ خیمے میں موجود تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ لوگ بھی تھے، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے اذان دی، انہوں نے (اذان دیتے ہوئے) اپنا منہ اس طرف بھی پھیرا اور اس طرف بھی پھیرا۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: یعنی «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ”نماز کی طرف آؤ“ اور «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”کامیابی کی طرف آؤ“ کہتے ہوئے ایسا کیا۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی لے کر باہر آئے، تو کچھ لوگوں کو وہ پانی ملا اور کچھ کو نہیں ملا، یہاں تک کہ ایک کم سن بچے نے لوگوں کی بغلوں کے نیچے سے اپنا ہاتھ داخل کیا اور اس پانی تک پہنچ گیا، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک نیزہ گاڑ دیا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرنے لگے) پھر گدھے یا عورت یا کتے کے (اس کے دوسری طرف سے گزرنے پر) منع نہیں کیا جا رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز میں دو رکعات پڑھائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لانے تک دو، دو رکعات ہی ادا کرتے رہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2382]

2383

Sahih Ibn Hibban #2383

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ ، بِبَغْدَادَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الأَذْرَمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ عَمَّا يَقْطَعُ الصَّلاةَ ، فَقَالَ : إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْكَ كَآخِرَةِ الرَّحْلِ : الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ ، قُلْتُ : مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَصْفَرِ مِنَ الأَبْيَضِ ؟ ، قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي ، فَقَالَ : الْكَلْبُ الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الأَذْرِمَةُ قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى نَصِيبِينَ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن صامت بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا جو نماز کو توڑ دیتی ہے، تو انہوں نے فرمایا: ”جب تمہارے آگے پالان کی پچھلی لکڑی جتنی کوئی چیز نہ ہو، تو عورت، گدھا اور سیاہ کتا (نمازی کے آگے سے گزر کر نماز کو توڑ دیتے ہیں)۔“ میں نے کہا: اس میں سیاہ کتے کی کیا خصوصیت ہے، زرد یا سفید کیوں نہیں؟ انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اذرمہ“ نصیبین کی بستیوں میں سے ایک بستی ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2383]

2384

Sahih Ibn Hibban #2384

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : يَقْطَعُ صَلاةَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ : الْمَرْأَةُ ، وَالْحِمَارُ ، وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَبْيَضِ مِنَ الأَحْمَرِ ؟ ، قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي ، فَقَالَ : الْكَلْبُ الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن صامت، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی کے نماز پڑھنے کے دوران اس کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی جتنی کوئی چیز (سترے کے طور پر) نہ ہو، تو عورت، گدھا اور سیاہ کتا (نمازی کے آگے سے گزر کر) اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: اے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ! سیاہ کتے کا کیا معاملہ ہے، سفید اور سرخ کیوں نہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2384]

2385

Sahih Ibn Hibban #2385

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الصَّامِتِ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَقْطَعُ صَلاةَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ كَآخِرَةِ الرَّحْلِ : الْحِمَارُ ، وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ ، وَالْمَرْأَةُ " ، قَالَ : قُلْتُ : مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَحْمَرِ مِنَ الأَصْفَرِ ؟ ، فَقَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي ، فَقَالَ : " الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”گدھا، سیاہ کتا اور عورت آدمی (کے آگے سے گزر کر اس کی) نماز کو منقطع کر دیتے ہیں جب آدمی کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی جتنی (کوئی چیز سترے کے طور پر) نہ ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے (سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے) دریافت کیا: سیاہ کتا کیوں؟ سرخ یا زرد کیوں نہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سیاہ (کتا) شیطان ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2385]

2386

Sahih Ibn Hibban #2386

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَقْطَعُ الصَّلاةَ : الْكَلْبُ ، وَالْحِمَارُ ، وَالْمَرْأَةُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کتا، گدھا اور عورت (نمازی کے آگے سے گزر کر) اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2386]

2387

Sahih Ibn Hibban #2387

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الطُّوسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَقْطَعُ الصَّلاةَ : الْكَلْبُ ، وَالْمَرْأَةُ ، الْحَائِضُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کتا اور حیض والی عورت (اس کا یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے بالغ عورت) نمازی کے آگے سے گزر کر اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2387]

2388

Sahih Ibn Hibban #2388

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، بِخَبَرٍ غَرِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ أَبِي الذَّيَّالِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقْطَعُ الصَّلاةَ : الْمَرْأَةُ ، وَالْحِمَارُ ، وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ " ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا ذَرٍّ : مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَحْمَرِ مِنَ الأَصْفَرِ ؟ ، فَقَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي ، فَقَالَ : " الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن صامت سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عورت، گدھا اور سیاہ کتا (نمازی کے آگے سے گزر کر) نماز کو توڑ دیتے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: اے (سیدنا) ابوذر (رضی اللہ عنہ)! سیاہ کتا کیوں، سرخ یا زرد کیوں نہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیاہ (کتا) شیطان ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2388]

2389

Sahih Ibn Hibban #2389

حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَحَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَقْطَعُ الصَّلاةَ : الْحِمَارُ ، وَالْمَرْأَةُ ، وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَحْمَرِ مِنَ الأَصْفَرِ مِنَ الأَبْيَضِ ؟ ، قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْكَلْبَ الأَسْوَدَ شَيْطَانٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن صامت، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”گدھا، عورت اور سیاہ کتا (نمازی کے آگے سے گزر کر اس کی) نماز کو توڑ دیتے ہیں۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے دریافت کیا: سیاہ کتا کیوں؟ سرخ یا زرد یا سفید کیوں نہیں؟ انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی پوچھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2389]

2390

Sahih Ibn Hibban #2390

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ : قَالَتْ عَائِشَةُ لَقَدْ رَأَيْتُنِيبَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَرِضَةً كَاعْتِرَاضِ الْجَنَازَةِ وَهُوَ يُصَلِّي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چوڑائی کی سمت میں یوں لیٹی ہوتی تھی جس طرح جنازہ رکھا جاتا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز ادا کر رہے ہوتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2390]

2391

Sahih Ibn Hibban #2391

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبُسْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : تُعَادُ الصَّلاةُ مِنْ مَمَرِّ الْحِمَارِ ، وَالْمَرْأَةِ ، وَالْكَلْبِ الأَسْوَدِ " ، قُلْتُ : مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَصْفَرِ مِنَ الأَحْمَرِ ؟ ، فَقَالَ : فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي ، فَقَالَ : " الْكَلْبُ الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن صامت سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”گدھے، عورت یا سیاہ کتے کے (نمازی کے آگے سے گزرنے سے) دوبارہ نماز ادا کی جائے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: سیاہ کتا کیوں؟ زرد یا سرخ کیوں نہیں؟ تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2391]

2392

Sahih Ibn Hibban #2392

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ ، فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلاتَهُ الْمَرْأَةُ ، وَالْحِمَارُ ، وَالْكَلْبُ الأَسْوَدِ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، فَمَا بَالُ الْكَلْبِ الأَسْوَدِ مِنَ الْكَلْبِ الأَحْمَرِ مِنَ الْكَلْبِ الأَصْفَرِ ؟ ، قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا سَأَلْتَنِي عَنْهُ ، فَقَالَ : " الْكَلْبُ الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن صامت رحمہ اللہ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کسی شخص کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی جتنی کوئی چیز (سترے کے طور پر) نہ ہو، تو عورت، گدھا اور سیاہ کتا (اس کے آگے سے گزر کر) اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: اے (سیدنا) ابوذر رضی اللہ عنہ! سیاہ کتا کیوں؟ سرخ کتا یا زرد کتا کیوں نہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! جس چیز کے بارے میں تم نے مجھ سے سوال کیا ہے اس کے بارے میں، میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2392]

2393

Sahih Ibn Hibban #2393

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، ، أَنَّهُ قَالَ : أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الاحْتِلامَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى ، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ ، فَنَزَلْتُ فَأَرْسَلْتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ ، وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا، میں اس وقت قریب البلوغ تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ میں ایک صف کے کچھ حصے کے آگے سے گزرا، پھر میں اس سے نیچے اتر گیا اور میں نے گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا، پھر میں صف میں آ کر شامل ہو گیا تو اس حوالے سے کسی نے مجھ پر اعتراض نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2393]

2394

Sahih Ibn Hibban #2394

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالأَبْطَحِ فِي قُبَّةٍ لَهُ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ " ، قَالَ : فَخَرَجَ بِلالٌ بِوَضُوئِهِ ، فَبَيْنَ نَائِلٍ وَنَاضِحٍ ، قَالَ :" فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ سَاقَيْهِ " ، قَالَ : " فَتَوَضَّأَ وَأَذَّنَ بِلالٌ ، فَجَعَلَ يَتْبَعُ فَاهُ هَهُنَا وَهَهُنَا ، يَقُولُ يَمِينًا وَشِمَالا : حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ ، ثُمَّ رُكِزَتْ لَهُ عَنَزَةٌ ، فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْحِمَارُ وَالْكَلْبُ لا يَمْنَعُ ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عون بن ابی جحیفہ اپنے والد (سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ”ابطح“ میں چمڑے کے بنے سرخ خیمے میں موجود تھے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی لے کر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ باہر آئے، تو لوگوں نے اس پانی کو حاصل کرنا شروع کر دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرخ حلہ پہنا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیوں کی سفیدی کا منظر گویا آج بھی میری نگاہ میں ہے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی اور اذان دیتے ہوئے اپنے منہ کو اس طرف اور اس طرف، یعنی دائیں طرف اور بائیں طرف پھیرا، یعنی «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ”نماز کی طرف آؤ“ اور «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”کامیابی کی طرف آؤ“ کہتے ہوئے ایسا کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نیزہ گاڑھ دیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز کی دو رکعات پڑھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے (نیزے کی دوسری جانب سے) گدھے اور کتے گزرتے رہے، انہیں روکا نہیں گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ واپس آنے تک مسلسل دو رکعات (یعنی قصر) نماز ادا کرتے رہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2394]

2395

Sahih Ibn Hibban #2395

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولابِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ الْعَامِرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلاةَ الصُّبْحِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ مِنْ مِنًى ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ إِذَا رَجُلانِ فِي آخِرِ النَّاسِ لَمْ يُصَلِّيَا ، فَأُتِيَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا ، فَقَالَ : مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا ؟ " قَالا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا ، قَالَ : " فَلا تَفْعَلا ،إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ، ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ فَصَلِّيَا مَعَهُمْ ، فَإِنَّهَا لَكُمْ نَافِلَةٌ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جابر بن یزید عامری اپنے والد (یزید بن اسود رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج میں شریک ہوا تھا۔ میں نے ”منی“ میں مسجدِ خیف میں صبح کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ادا کی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو لوگوں کے پیچھے دو ایسے افراد موجود تھے جنہوں نے نماز ادا نہیں کی تھی۔ ان دونوں کو لایا گیا تو وہ کانپ رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم نے ہمارے ساتھ نماز ادا کیوں نہیں کی؟“ انہوں نے عرض کی: ہم اپنی رہائشی جگہ پر پہلے ہی نماز ادا کر چکے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو، جب تم اپنی رہائشی جگہ پر نماز ادا کر چکے ہو اور پھر تم باجماعت نماز والی مسجد میں آؤ تو ان لوگوں کے ساتھ بھی نماز ادا کرو، یہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2395]

2396

Sahih Ibn Hibban #2396

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، ، أَنَّهُ رَأَى ابْنَ عُمَرَ جَالِسًا بِالْبَلاطِ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ ، فَقُلْتُ : مَا يُجْلِسُكَ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ ؟ قَالَ : إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَانَا أَنْ نُعِيدَ صَلاةً فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ فِي نَفْسِهِ ثِقَةٌ يُحْتَجُّ بِخَبَرِهِ إِذَا رَوَى عَنْ غَيْرِ أَبِيهِ ، فَأَمَّا رِوَايَتُهُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، فَلا تَخْلُو مِنِ انْقِطَاعٍ وَإِرْسَالٍ فِيهِ ، فَلِذَلِكَ لَمْ نَحْتَجَّ بِشَيْءٍ مِنْهُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بلاط میں بیٹھے ہوئے دیکھا، لوگ اس وقت نماز ادا کر رہے تھے۔ میں نے دریافت کیا: آپ کیوں بیٹھے ہوئے ہیں جبکہ لوگ نماز ادا کر رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں نماز ادا کر چکا ہوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ”ہم ایک ہی دن میں کوئی نماز دو مرتبہ ادا کریں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عمرو بن شعیب نامی بذات خود ثقہ ہے، اس کی نقل کردہ روایات سے استدلال کیا جائے گا جب وہ اپنے والد کی بجائے کسی اور کے حوالے سے روایت نقل کرے۔ جہاں تک اس کی ان روایات کا تعلق ہے جو اس نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سے نقل کی ہیں، تو ان میں انقطاع اور ارسال پایا جاتا ہے، اسی وجہ سے ہم ایسی کسی روایت سے استدلال نہیں کرتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2396]

2397

Sahih Ibn Hibban #2397

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ ، بِالأُبُلَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلامَنْ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَلْيُصَلِّ مَعَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا کوئی شخص اس پر صدقہ کرے گا، یوں کہ وہ اس کے ساتھ نماز ادا کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2397]

2398

Sahih Ibn Hibban #2398

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُرَّةَ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلامَنْ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز ادا کر چکے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کوئی شخص اس پر صدقہ کرے گا، یوں کہ وہ اس کے ساتھ نماز ادا کر لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2398]

2399

Sahih Ibn Hibban #2399

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو نماز پڑھا دی، پھر ایک شخص آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کون شخص اس پر صدقہ کرے گا، یوں کہ وہ اس کے ساتھ نماز ادا کرے؟“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2399]

2400

Sahih Ibn Hibban #2400

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ فَيَؤُمُّهُمْ ، قَالَ : فَأَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَصَلَّى مَعَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْنَا فَتَقَدَّمَ لَيَؤُمَّنَا ، فَافْتَتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ تَنَحَّى فَصَلَّى وَحْدَهُ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَقُلْنَا لَهُ : مَا لَكَ يَا فُلانُ ، أَنَافَقْتَ ؟ قَالَ : مَا نَافَقْتُ ، وَلآتِيَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلأُخْبِرَنَّهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ مُعَاذًا يُصَلِّي مَعَكَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا ، وَإِنَّكَ أَخَّرْتَ الْعِشَاءَ الْبَارِحَةَ فَصَلَّى مَعَكَ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْنَا فَتَقَدَّمَ لَيَؤُمَّنَا ، فَافْتَتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ تَنَحَّيْتُ فَصَلَّيْتُ وَحْدِي ، أَيْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ ، وَإِنَّمَا نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ ؟ أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ ؟ اقْرَأْ بِسُورَةِ كَذَا وَسُورَةِ كَذَا "، قَالَ عَمْرٌو : " وَأَمَرَهُ بِسُوَرٍ قِصَارٍ " لا أَحْفَظُهَا ، قَالَ سُفْيَانُ : فَقُلْنَا لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ : إِنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ قَالَ لَهُمْ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : " اقْرَأْ بِ : السَّمَاءِ وَالطَّارِقِ ، وَ السَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ ، وَ الشَّمْسِ وَضُحَاهَا ، وَ اللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى " ، قَالَ عَمْرٌو : نَحْوَ هَذَا"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کرتے تھے، پھر وہ اپنی قوم کی طرف واپس جا کر ان کی امامت کیا کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کی، سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی پھر وہ ہمارے پاس واپس آئے اور ہماری امامت کرنے کے لیے آگے بڑھ گئے۔ انہوں نے سورہ بقرہ کی تلاوت شروع کر دی، حاضرین میں سے ایک صاحب نے جب یہ صورت حال دیکھی تو وہ پیچھے ہٹے، انہوں نے تنہا نماز ادا کی اور چلے گئے۔ ہم نے ان صاحب سے دریافت کیا: اے فلاں! کیا وجہ ہے؟ کیا تم منافق ہو گئے ہو؟ اس نے جواب دیا: میں منافق نہیں ہوا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ضرور حاضر ہو کر آپ کو اس بارے میں بتاؤں گا۔ پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سیدنا معاذ آپ کی اقتداء میں نماز ادا کرتے ہیں پھر وہ واپس آ کر ہماری امامت کرتے ہیں، گزشتہ رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کی تھی، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی پھر یہ ہمارے پاس واپس آئے اور آگے کھڑے ہوئے، انہوں نے سورہ بقرہ پڑھنی شروع کر دی، جب میں نے یہ صورت حال دیکھی تو میں پیچھے ہٹا اور اکیلے نماز ادا کر لی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کام کاج کرنے والے لوگ ہیں، ہم خود کام کرتے ہیں (ہمارے لیے اتنی لمبی نماز پڑھنا مشکل ہوتا ہے)۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے معاذ! کیا تم آزمائش کا شکار کرنا چاہتے ہو؟ تم فلاں اور فلاں سورت کی تلاوت کیا کرو۔“ عمرو نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مختصر سورتوں کو پڑھنے کا حکم دیا تھا، ان سورتوں کے نام مجھے یاد نہیں رہے۔ سفیان نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ ہم نے عمرو بن دینار نامی راوی سے کہا: ابوزبیر نامی راوی نے ان لوگوں کو یہ حدیث سنائی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا تھا: ”تم سورہ طارق، سورہ بروج اور سورہ شمس کی تلاوت کیا کرو۔“ تو عمرو نے کہا: اسی کی مانند (الفاظ ہوں گے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2400]

2401

Sahih Ibn Hibban #2401

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ ، بِمِصْرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍيُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْعِشَاءِ ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ إِلَى قَوْمِهِ فَيُصَلِّيهَا لَهُمْ ، وَكَانَ إِمَامَهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں عشاء کی نماز ادا کرتے تھے، پھر وہ اپنی قوم کی طرف واپس جا کر ان لوگوں کو یہ نماز پڑھاتے تھے، وہ ان کے امام تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2401]

2402

Sahih Ibn Hibban #2402

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : كَانَ مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ جَبَلٍيُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ فَيَؤُمُّهُمْ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ (راوی کہتے ہیں کہ یہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز ادا کرتے تھے، پھر وہ اپنی قوم کی طرف واپس جا کر ان لوگوں کی امامت کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2402]

2403

Sahih Ibn Hibban #2403

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرْكِينَ ، بِدِمَشْقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ مُعَاذًا كَانَيُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ إِلَى قَوْمِهِ فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلاةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں عشاء کی نماز ادا کرتے تھے، پھر وہ اپنی قوم کی طرف واپس جا کر ان لوگوں کو یہ نماز پڑھاتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2403]

2404

Sahih Ibn Hibban #2404

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ مُعَاذٌيُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ ، فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلاةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کرتے تھے، پھر وہ واپس جا کر اپنی قوم کی امامت کیا کرتے تھے اور ان لوگوں کو وہی نماز پڑھاتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2404]

2405

Sahih Ibn Hibban #2405

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدُّئِلِ يُقَالُ لَهُ : بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ، ثُمَّ رَجَعَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ ، أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ ؟ " قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَكِنِّي قَدْ كُنْتُ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" إِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زید بن اسلم نے بنو دئل سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بسر بن محجن کے حوالے سے ان کے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ وہ ایک محفل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے تو سیدنا محجن رضی اللہ عنہ اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا: ”کیا وجہ ہے کہ تم نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی؟ کیا تم مسلمان نہیں ہو؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (میں مسلمان ہوں) لیکن میں اپنے گھر میں نماز ادا کر چکا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم آؤ تو لوگوں کے ساتھ بھی نماز ادا کر لو، اگرچہ تم پہلے نماز ادا کر چکے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2405]

2406

Sahih Ibn Hibban #2406

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : أَخَّرَ ابْنُ زِيَادٍ الصَّلاةَ ، فَأَتَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ كُرْسِيًّا ، فَجَلَسَ عَلَيْهِ ، فَذَكَرْتُ لَهُ صَنِيعَ بْنِ زِيَادٍ ، فَعَضَّ عَلَى شَفَتِهِ ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِي ، وَقَالَ : إِنِّي سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ ، فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ ، فَقَالَ : إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي ، وَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ ، فَقَالَ : صَلِّ الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا ، فَإِنْ أَدْرَكْتَ مَعَهُمْ فَصَلِّ ، وَلا تَقُلْ : إِنِّي صَلَّيْتُ فَلا أُصَلِّي """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوالعالیہ براء بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ابن زیاد نے ایک نماز تاخیر سے ادا کی تو عبداللہ بن صامت میرے پاس تشریف لائے، میں نے ان کے لیے کرسی رکھی وہ اس پر تشریف فرما ہوئے۔ میں نے ان کے سامنے ابن زیاد کے اس عمل کا تذکرہ کیا، تو وہ اپنے ہونٹ چبانے لگے، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ میرے زانو پر مارا اور بولے: میں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ایک سوال کیا، تو انہوں نے میرے زانو پر اسی طرح ہاتھ مارا جس طرح میں نے تمہارے زانو پر ہاتھ مارا ہے، پھر انہوں نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا جس طرح تم نے مجھ سے سوال کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے زانو پر اسی طرح ہاتھ مارا تھا جس طرح میں نے تمہارے زانو پر ہاتھ مارا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”(اس طرح کی صورت حال میں) تم نماز کو اس کے وقت پر ادا کر لو، اگر تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز ملے، تو تم اسے بھی ادا کر لو، تم یہ نہ کہو: میں نماز ادا کر چکا ہوں اس لیے اب نہیں پڑھوں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2406]

2407

Sahih Ibn Hibban #2407

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْوِتْرُ حَقٌّ ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيُوتِرْ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلاثٍ فَلْيُوتِرْ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيُوتِرْ بِهَا ، وَمَنْ شَقَّ عَلَيْهِ ذَلِكَ فَلْيُومِئْ إِيمَاءً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”وتر حق ہیں، جو شخص پانچ وتر ادا کرنا چاہے وہ ادا کر لے، جو شخص تین وتر ادا کرنا چاہے وہ انہیں ادا کر لے، جو شخص ایک وتر ادا کرنا چاہے وہ اسے ادا کر لے اور جس شخص کے لیے اسے ادا کرنا دشواری کا باعث ہو وہ اشارے کے ساتھ اسے پڑھ لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2407]

2408

Sahih Ibn Hibban #2408

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ وَلَمْ يُوتِرْ فَلا وِتْرَ لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص صبح صادق کو پا لے اور اس نے وتر ادا نہ کیے ہوں، تو اس کے وتر نہیں ہوتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2408]

2409

Sahih Ibn Hibban #2409

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ وَأَوْتَرَ ، فَلَمَّا كَانَتِ الْقَابِلَةُ اجْتَمَعْنَا فِي الْمَسْجِدِ ، وَرَجَوْنَا أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا ، فَلَمْ نَزَلْ فِيهِ حَتَّى أَصْبَحْنَا ، ثُمَّ دَخَلْنَا فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اجْتَمَعْنَا فِي الْمَسْجِدِ ، وَرَجَوْنَا أَنْ تُصَلِّيَ بِنَا ، فَقَالَ : إِنِّيخَشِيتُ أَوْ كَرِهْتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمُ الْوِتْرُ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَانِ خَبَرَانِ لَفْظَاهُمَا مُخْتَلِفَانِ ، وَمَعْنَاهُمَا مُتَبَايِنَانِ ، إِذْ هُمَا فِي حَالَتَيْنِ فِي شَهْرَيْ رَمَضَانَ ، لا فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ فِي شَهْرٍ وَاحِدٍ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے میں ہمیں آٹھ رکعات پڑھائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر ادا کیے، پھر جب اگلی رات آئی تو ہم لوگ مسجد میں اکٹھے ہو گئے، ہمیں یہ امید تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائیں گے۔ ہم اسی حالت میں رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی، پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم مسجد میں اکٹھے ہوئے تھے، ہمیں یہ امید تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھائیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے یہ اندیشہ ہوا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) میں نے اس بات کو ناپسند کیا، تم پر وتر کو لازم کر دیا جائے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان دونوں روایات کے الفاظ ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ان دونوں کا مفہوم بھی ایک دوسرے سے مختلف ہے کہ یہ دو مختلف رمضانوں میں دو مختلف حالتوں میں پیش آئی تھیں، ایسا نہیں ہے کہ ایک ہی مہینے میں ایک ہی حالت میں واقعہ پیش آیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2409]

2410

Sahih Ibn Hibban #2410

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْوِتْرُ حَقٌّ ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِخَمْسٍ ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِثَلاثٍ ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِوَاحِدَةٍ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”وتر حق ہے، جو شخص چاہے وہ پانچ وتر ادا کرے اور جو چاہے تین ادا کرے اور جو چاہے وہ ایک وتر ادا کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2410]

2411

Sahih Ibn Hibban #2411

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : الْوِتْرُ حَقٌّ ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيُوتِرْ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلاثٍ فَلْيُوتِرْ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيُوتِرْ بِهَا ، وَمَنْ غَلَبَهُ ذَلِكَ فَلْيُومِئْ إِيمَاءً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”وتر حق ہیں، جو شخص پانچ وتر ادا کرنا چاہے وہ انہیں ادا کر لے، اور جو شخص تین وتر ادا کرنا چاہے وہ انہیں ادا کر لے، اور جو شخص ایک وتر ادا کرنا چاہے وہ اسے ادا کر لے، اور جو شخص انہیں ادا نہ کر سکتا ہو وہ انہیں اشارے کے ساتھ پڑھ لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2411]

2412

Sahih Ibn Hibban #2412

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، ، أَنَّهُ كَانَيُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ، وَيَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ اونٹ پر ہی وتر ادا کر لیتے تھے اور یہ بات ذکر کرتے تھے کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا کر لیا کرتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2412]

2413

Sahih Ibn Hibban #2413

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ ، فَلَمَّا خَشِيتُ الصُّبْحَ نَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : أَيْنَ كُنْتَ ؟ فَقُلْتُ : خَشِيتُ الْفَجْرَ فَنَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ ، فَقَالَ : أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ ؟ " فَقُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : " فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن یسار بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکہ کے راستے میں سفر کر رہا تھا، جب مجھے صبح صادق قریب ہونے کا اندیشہ ہوا تو میں سواری سے اترا اور میں نے وتر ادا کر لیے، پھر میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھ سے دریافت کیا: ”تم کہاں رہ گئے تھے؟“ میں نے جواب دیا: مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ صبح صادق ہونے والی ہے، اس لیے میں سواری سے اترا اور میں نے وتر ادا کر لیے، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے میں نمونہ نہیں ہے؟“ میں نے جواب دیا: جی ہاں ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر ہی وتر ادا کر لیتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2413]

2414

Sahih Ibn Hibban #2414

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ أَدْرَكَهُ الصُّبْحُ فَلَمْ يُوتِرْ ، فَلا وِتْرَ لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس شخص کو صبح صادق ہو جائے اور اس نے وتر ادا نہیں کیے ہوں، تو اس کے وتر نہیں ہوتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2414]

2415

Sahih Ibn Hibban #2415

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُمِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ ، وَأَوْتَرَ ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الْقَابِلَةُ اجْتَمَعْنَا فِي الْمَسْجِدِ ، وَرَجَوْنَا أَنْ يَخْرُجَ فَيُصَلِّيَ بِنَا ، فَأَقَمْنَا فِيهِ حَتَّى أَصْبَحْنَا ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَجَوْنَا أَنْ تَخْرُجَ فَتُصَلِّيَ بِنَا ، قَالَ : إِنِّيكَرِهْتُ أَوْ خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمُ الْوِتْرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رمضان کے مہینے میں آٹھ رکعات پڑھائیں اور وتر ادا کیے اور جب اگلی رات آئی تو ہم لوگ مسجد میں اکٹھے ہو گئے۔ ہمیں یہ امید تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا کر ہمیں نماز پڑھائیں گے، ہم وہاں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی، (اگلے دن) ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں یہ امید تھی کہ آپ تشریف لا کر ہمیں نماز پڑھائیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے اس بات کو ناپسند کیا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) مجھے اس بات کا اندیشہ ہوا کہ وتر تم پر لازم ہو جائیں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2415]

2416

Sahih Ibn Hibban #2416

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ ، بِحَلَبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَمِ افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ مِنَ الصَّلاةِ ؟ قَالَ : خَمْسُ صَلَوَاتٍ " ، قَالَ : هَلْ قَبْلَهُنَّ أَوْ بَعْدَهُنَّ شَيْءٌ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ صَلَوَاتٍ خَمْسًا " ، قَالَ : فَحَلَفَ الرَّجُلُ بِاللَّهِ : لا يَزِيدُ عَلَيْهِنَّ وَلا يَنْقُصُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ صَدَقَ دَخَلَ الْجَنَّةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ نمازیں“ اس نے عرض کی: کیا ان سے پہلے یا ان کے بعد بھی کوئی چیز ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں“ راوی کہتا ہے: اس شخص نے اللہ کے نام کی قسم اٹھائی، وہ ان میں کوئی اضافہ یا کوئی کمی نہیں کرے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے، تو یہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2416]

2417

Sahih Ibn Hibban #2417

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنِ الْمُخْدَجِيِّ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ أَبَا مُحَمَّدٍ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ عَنِ الْوِتْرِ ، فَقَالَ : الْوِتْرُ وَاجِبٌ كَوُجُوبِ الصَّلاةِ ، فَأَتَى عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ ، مَنْ لَمْ يَنْتَقِصْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ ، فَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا جَاعِلٌ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَهْدًا أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ وَقَدِ انْتَقَصَ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ ، لَمْ يَكُنْ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ شَيْءٌ ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مخدجی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا ابومحمد رضی اللہ عنہ سے، جو انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی ہیں، وتر کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: نماز کے فرض ہونے کی طرح وتر بھی فرض ہیں۔ وہ شخص سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا تو وہ بولے: سیدنا ابومحمد رضی اللہ عنہ نے غلط کہا ہے، میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”پانچ نمازیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کی ہیں، جو شخص ان کے حق کو کم سمجھتے ہوئے ان میں کوئی کمی نہیں کرے گا، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کے لیے یہ عہد مقرر کرے گا کہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص انہیں ادا کرے گا اور ان کے حق کو کم سمجھتے ہوئے ان میں کمی کر دے، تو ایسے شخص کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی عہد نہیں ہے، اگر وہ چاہے گا تو اسے عذاب دے گا، اگر چاہے گا تو اس کی مغفرت کر دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2417]

2418

Sahih Ibn Hibban #2418

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَفَّارَاتٌ لَمَّا بَيْنَهُنَّ مَا لَمْ تُغْشَ الْكَبَائِرُ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”پانچ نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک، ان کے درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں جب تک کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2418]

2419

Sahih Ibn Hibban #2419

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ قَالَ : إِنَّكَتَقْدُمُ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللَّهِ ، فَإِذَا عَرَفُوا اللَّهَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ ، فَإِذَا فَعَلُوهُ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكَاةً تُؤْخَذُ مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ ، فَإِذَا أَطَاعُوا بِهَذَا فَخُذْ مِنْهُمْ ، وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِ النَّاسِ "، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الاسْتِدْلالُ بِمِثْلِ هَذِهِ الأَخْبَارِ عَلَى أَنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِفَرْضٍ تَكْثُرُ فِيمَا ذَكَرْنَا مِنْهَا غُنْيَةٌ لِمَنْ وَفَقَّهُ اللَّهُ لِلسَّدَادِ ، وَهَدَاهُ لِسُلُوكِ الرَّشَادِ أَنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِفَرْضٍ ، وَكَانَ بَعْثُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ قَبْلَ خُرُوجِهِ مِنَ الدُّنْيَا بِأَيَّامٍ يَسِيرَةٍ ، وَأَمَرَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُخْبِرَهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ ، وَلَوْ كَانَ الْوِتْرُ فَرْضًا ، أَوْ شَيْئًا زَادَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِلنَّاسِ عَلَى صَلَوَاتِهِمْ كَمَا زَعَمَ مَنْ جَهِلَ صِنَاعَةَ الْحَدِيثِ ، وَلَمْ يُمَيِّزْ بَيْنَ صَحِيحِهَا وَسَقِيمِهَا ، لأَمَرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَنْ يُخْبِرَهُمْ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا فَرَضَ عَلَيْهِمْ سِتَّ صَلَوَاتٍ لا خَمْسًا ، فَفِيمَا وَصَفْنَا أَبْيَنُ الْبَيَانِ بِأَنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِفَرْضٍ ، وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے پاس جا رہے ہو، تم نے سب سے پہلے انہیں اس بات کی دعوت دینی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، جب وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کر لیں، تو تم نے انہیں بتانا ہے، اللہ تعالیٰ نے ان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جب وہ ایسا کریں، تو تم نے انہیں بتانا ہے، اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوۃ فرض کی ہے، جو ان کے اموال میں سے وصول کی جائے گی اور ان کے غریب لوگوں کی طرف لوٹا دی جائے گی، اگر وہ اس بارے میں تمہاری اطاعت کریں، تو تم ان سے زکوۃ کی وصولی کر لینا اور لوگوں کے عمدہ حاصل کرنے سے بچنے کی کوشش کرنا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس نوعیت کی روایات سے اس بات پر استدلال کیا جا سکتا ہے کہ وتر فرض نہیں ہیں اور ہم نے جو چیز پہلے ذکر کی ہے اس میں بکثرت اس بات کا بیان موجود ہے جو اس شخص کو بے نیاز کر دے گا جسے اللہ تعالیٰ سیدھے راستے کی توفیق عطا کرے اور ہدایت کے راستے کی طرف اس کی راہنمائی کرے کہ وتر فرض نہیں ہے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تھا اور آپ نے دنیا سے تشریف لے جانے سے کچھ دن پہلے بھیجا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی تھی کہ ان لوگوں کو بتا دیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے ان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔“ اگر وتر بھی فرض ہوتے یا اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی نماز میں مزید کسی بات کا اضافہ کیا ہوتا جیسا کہ وہ شخص اس بات کا قائل ہے جو علم حدیث سے ناواقف ہے اور صحیح اور غیر مستند روایات کے درمیان تمیز نہیں کر سکتا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یہ ہدایت کرتے کہ ”اللہ تعالیٰ نے ان پر چھ نمازیں فرض کی ہیں، پانچ نمازیں فرض نہیں کی ہیں“ تو ہم نے جو چیز ذکر کی ہے اس میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ وتر فرض نہیں ہیں۔ باقی توفیق اللہ تعالیٰ کی مدد سے حاصل ہو سکتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2419]

2420

Sahih Ibn Hibban #2420

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا مَرِضَ فَلَمْ يُصَلِّ مِنَ اللَّيْلِ ، صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے، تو آپ نے رات کے نوافل ادا نہیں کیے تھے، آپ نے اگلے دن، دن کے وقت بارہ رکعات ادا کی تھیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2420]

2421

Sahih Ibn Hibban #2421

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُسَبِّحُ عَلَى رَاحِلَتِهِ قِبَلَ أَيِّ وَجْهٍ تَوَجَّهَ ، وَيُوتِرُ عَلَيْهَا ، غَيْرَ أَنَّهُ لا يُصَلِّي عَلَيْهَا الْمَكْتُوبَةَ """

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر ہی نفل نماز ادا کر لیتے تھے، خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت میں ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر بھی اس پر ادا کر لیتے تھے، البتہ فرض نماز اس پر ادا نہیں کرتے تھے۔ سالم نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اپنی سواری پر رہتے ہوئے رات کے وقت نوافل ادا کر لیتے تھے حالانکہ وہ سواری چل رہی ہوتی تھی اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس بات کی پروا نہیں کرتے تھے کہ ان کا رخ کس طرف ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2421]