Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 9 · Chapter 91

سفر میں نماز قصر کرنے کے متعلق کتاب

چاشت کے وقت نفلی نماز کے متعلق متفرق احکام کا بیان

2 hadiths in this chapter

360

Muwatta Imam Malik #360

Sahih

[360] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہ بْنِ أبِی طَلْحَۃَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: أَنَّ جَدَّتَہُ مُلَیْکَۃَ دَعَتْ رَسُولَ اللّٰہ ﷺ لِطَعَامٍ، فَأَکَلَ مِنْہُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ ﷺ : قُومُوا فِلأُصَلِّیَ لَکُمْ۔ قَالَ أَنَسٌ: فَقُمْتُ إِلَی حَصِیرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ، فَنَضَحْتُہُ بِمَائٍ، فَقَامَ عَلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہ ﷺ ، وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْیَتِیمُ وَرَائَ ہُ، وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا، فَصَلَّی لَنَا رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی نانی حضرت ملیکہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کی کھانے کی دعوت کی ، چنانچہ آپ ﷺ ( آئے اور آپ ﷺ ) نے اس کھانے میں سے کچھ تناول فرمایا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے ( گھر والوں سے ) فرمایا :’’ کھڑے ہو جاؤ تاکہ میں تمھیں ( نفل ) نماز پڑھاؤں ۔ ‘‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنی ایک چٹائی ( کھجور وغیرہ کے پتوں سے بنی ہوئی بوری ) کی طرف اٹھا جو کہ لمبا عرصہ استعمال ہونے کی وجہ سے سیاہ ہو چکی تھی ، میں نے اس پر پانی چھڑکا ( تاکہ وہ نرم ہو جائے اور اُسے بچھا دیا ) تو رسول اللہ ﷺ ( اس پر ) کھڑے ہوئے اور میں نے اور ( ایک ) یتیم ( بچے ) نے آپ ﷺ کے پیچھے صف بنا لی اور بوڑھی اماں جان ( نانی صاحبہ ) ہمارے پیچھے ( اکیلی ) کھڑی ہو گئیں ، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں ، پھر آپ ﷺ ( نماز سے فارغ ہو کر ) تشریف لے گئے ۔

361

Muwatta Imam Malik #361

Sahih

[361] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہ بْنِ عَبْدِ اللّٰہ بْنِ عُتْبَۃَ بن مَسْعُود، عَنْ أبِیہِ، أَنَّہُ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِالْہَاجِرَۃِ، فَوَجَدْتُہُ یُسَبِّحُ، فَقُمْتُ وَرَائَ ہُ، فَقَرَّبَنِی حَتَّی جَعَلَنِی حِذَائَ ہُ عَنْ یَمِینِہِ، فَلَمَّا جَائَ یَرْفَأُ, تَأَخَّرْتُ فَصَفَفْنَا وَرَائَ ہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبیداللہ بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد عبداللہ بن عُتبہ بن مسعود رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں ، انھوں نے کہا کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ( دوپہر سے کچھ پہلے ) گیا ، سخت گرمی کے وقت ( جب میں ) گیا تو میں نے انھیں نفل نماز پڑھتے ہوئے پایا ، میں اُن کے پیچھے ( اکیلا ) کھڑا ہو گیا تو انھوں نے مجھے اپنے قریب کر کے اپنی دائیں جانب اپنے برابر کھڑا کر لیا ، پھر جب ( اُن کا غلام ) یَرْفَا بھی آ گیا تو میں پیچھے آ گیا اور ہم نے ان کے پیچھے صف بنا لی ۔