Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 9 · Chapter 88

سفر میں نماز قصر کرنے کے متعلق کتاب

مسافر کی نماز کا بیان جب کہ وہ خود امام ہو یا کسی امام کے پیچھے ہو

4 hadiths in this chapter

346

Muwatta Imam Malik #346

Sahih

[346] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ إِذَا قَدِمَ مَکَّۃَ صَلَّی بِہِمْ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ یَقُولُ : یَا أَہْلَ مَکَّۃَ أَتِمُّوا صَلَاتَکُمْ، فَإِنَّا قَوْمٌ سَفْرٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے ، وہ اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ تشریف لاتے تو لوگوں کو دو رکعتیں پڑھاتے ، پھر ( سلام پھیرتے ہی ) کہتے کہ اے مکہ والو ! اپنی نماز پوری کر لو کیونکہ ہم تو مسافر لوگ ہیں ( اسی لیے ہم نے نماز قصر کی ہے ) ۔

347

Muwatta Imam Malik #347

Sahih

[347] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِثْلَ ذَلِکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

زید بن اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اُن کے والد اسلم رحمہ اللہ نے بھی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اسی ( گزشتہ روایت ) کی طرح بیان کیا ہے ۔

348

Muwatta Imam Malik #348

Sahih

[348] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہ بْنَ عُمَرَ کَانَ یُصَلِّی وَرَائَ الإِمَامِ بِمِنًی أَرْبَعاً، فَإِذَا صَلَّی لِنَفْسِہِ صَلَّی رَکْعَتَیْنِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما منیٰ ( کے میدان ) میں امام کے پیچھے تو چار رکعات ہی پڑھتے تھے ، اور جب اکیلے ( کوئی فرض ) نماز پڑھتے تو دو رکعتیں ( نماز قصر ) پڑھتے تھے ۔

349

Muwatta Imam Malik #349

Sahih

[349] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ صَفْوَانَ، أَنَّہُ قَالَ : جَائَ عَبْدُ اللّٰہ بْنُ عُمَرَ یَعُودُ عَبْدَ اللّٰہ بْنَ صَفْوَانَ، فَصَلَّی لَنَا رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقُمْنَا فَأَتْمَمْنَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

صفوان بن عبداللہ بن صفوان رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میرے والد عبداللہ بن صفوان رحمہ اللہ کی تیمارداری کے لیے آئے تو انھوں نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں ( کیونکہ وہ مسافر کی حیثیت سے امامت کرا رہے تھے ) پھر انھوں نے سلام پھیر دیا تو ہم نے کھڑے ہو کر نماز پوری کی ۔