Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 9 · Chapter 84

سفر میں نماز قصر کرنے کے متعلق کتاب

سفر میں نماز ِقصر کا بیان

3 hadiths in this chapter

333

Muwatta Imam Malik #333

Sahih

[333] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ ،عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ خَالِدِ بْنِ أَسِیدٍ، أَنَّہُ سَأَلَ عَبْدَ اللّٰہ بْنَ عُمَرَ، فَقَالَ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّا نَجِدُ صَلَاۃَ الْخَوْفِ وَصَلَاۃَ الْحَضَرِ فِی الْقُرْآنِ، وَلَا نَجِدُ صَلَاۃَ السَّفَرِ ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : یَا ابْنَ أَخِی، إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَیْنَا مُحَمَّداً ﷺ ، وَلَا نَعْلَمُ شَیْئاً، فَإِنَّمَا نَفْعَلُ کَمَا رَأَیْنَاہُ یَفْعَلُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

خالد بن اَسِید رحمہ اللہ کی اولاد میں سے ایک شخص ( اُمَیّہ بن عبداللہ رحمہ اللہ ) سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا ، کہا کہ اے عبدالرحمن ! ( یہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی کنیت ہے ، ) بے شک ، ہم قرآن مجید میں نمازِ خوف کا اور نمازِ حضر کا تذکرہ تو پاتے ہیں ، لیکن نمازِ سفر کا ذکر نہیں پاتے تو ( پھر اسے پڑھتے کیوں ہیں ؟ ) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے کہ اے بھتیجے ! یقیناً اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو ہماری طرف مبعوث فرمایا ، اُس وقت کہ جب ہم کچھ بھی نہیں جانتے تھے ، لہٰذا ہم تو اسی طرح کریں گے جس طرح ہم نے آپ ﷺ کو کرتے ہوئے دیکھا تھا ۔

334

Muwatta Imam Malik #334

Sahih

[334] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ أَنَّہَا قَالَتْ : فُرِضَتِ الصَّلَاۃُ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ فِی الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَأُقِرَّتْ صَلَاۃُ السَّفَرِ، وَزِیدَ فِی صَلَاۃِ الْحَضَرِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

زوجہ پیغمبر ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، کہتی ہیں کہ حضر اور سفر میں دو دو رکعتیں ہی فرض ہوئی تھیں ، پھر سفر کی نماز تو ( اپنی حالت پر ) برقرار رکھ دی گئی اور حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا ۔

335

Muwatta Imam Malik #335

Sahih

[335] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَنَّہُ قَالَ لِسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہ: مَا أَشَدَّ مَا رَأَیْتَ أَبَاکَ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ فِی السَّفَرِ ؟ فَقَالَ سَالِمٌ : غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَنَحْنُ بِذَاتِ الْجَیْشِ، فَصَلَّی الْمَغْرِبَ بِالْعَقِیقِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھوں نے سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ آپ نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) کو سفر کے دوران کس قدر زیادہ سے زیادہ نماز مغرب کو تاخیر سے پڑھتے ہوئے دیکھا تھا ؟ تو سالم رحمہ اللہ نے کہا کہ ( ایک دفعہ ) سورج ڈوبا تو ہم ذاتُ الجیش جگہ میں تھے ، پھر ( چھ یا سات میل یا بارہ میل دور جا کر ) عقیق جگہ میں نماز مغرب ادا کی ۔