Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 9 · Chapter 83

سفر میں نماز قصر کرنے کے متعلق کتاب

حضر ( حالتِ اقامت ) اور سفر میں دو نمازوں کو جمع کرنے کا بیان

7 hadiths in this chapter

326

Muwatta Imam Malik #326

Sahih

[326] حَدَّثَنِی یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَیْنِ، عَنِ الأَعْرَجِ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہ ﷺ کَانَ یَجْمَعُ بَیْنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ، فِی سَفَرِہِ إِلَی تَبُوکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تبوک کی طرف اپنے سفر میں ظہر و عصر کو جمع فرمایا کرتے تھے ۔

327

Muwatta Imam Malik #327

Sahih

[327] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الزُّبَیْرِ الْمَکِّیِّ، عَنْ أبِی الطُّفَیْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَۃَ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَہُ : أَنَّہُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللّٰہ ﷺ عَامَ تَبُوکَ، فَکَانَ رَسُولُ اللّٰہ ﷺ یَجْمَعُ بَیْنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ، قَالَ : فَأَخَّرَ الصَّلَاۃَ یَوْماً، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ جَمِیعاً، ثُمَّ دَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ جَمِیعاً، ثُمَّ قَالَ : إِنَّکُمْ سَتَأْتُونَ غَداً إِنْ شَائَ اللَّہُ عَیْنَ تَبُوکَ، وَإِنَّکُمْ لَنْ تَأْتُوہَا حَتَّی یَضْحَی النَّہَارُ، فَمَنْ جَائَ ہَا فَـلَا یَمَسَّ مِنْ مَائِہَا شَیْئاً، حَتَّی آتِیَ فَجِئْنَاہَا وَقَدْ سَبَقَنَا إِلَیْہَا رَجُلَانِ، وَالْعَیْنُ تَبِضُّ بِشَیْئٍ مِنْ مَائٍ، فَسَأَلَہُمَا رَسُولُ اللّٰہ ﷺ : ہَلْ مَسِسْتُمَا مِنْ مَائِہَا شَیْئاً ؟ فَقَالَا : نَعَمْ. فَسَبَّہُمَا رَسُولُ اللّٰہ ﷺ ، وَقَالَ لَہُمَا مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ یَقُولَ، ثُمَّ غَرَفُوا بِأَیْدِیہِمْ مِنَ الْعَیْنِ قَلِیلاً قَلِیلاً حَتَّی اجْتَمَعَ فِی شَیْئٍ، ثُمَّ غَسَلَ رَسُولُ اللّٰہ ﷺ فِیہِ وَجْہَہُ وَیَدَیْہِ، ثُمَّ أَعَادَہُ فِیہَا، فَجَرَتِ الْعَیْنُ بِمَائٍ کَثِیرٍ، فَاسْتَقَی النَّاسُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ ﷺ : یُوشِکُ یَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ، أَنْ تَرَی ہَا ہُنَا قَدْ مُلِیَٔ جِنَاناً۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت معاذ بن جَبَل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یقیناً وہ ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ) رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ غزوہ تبوک کے سال ـ ( 9 ھ میں سفر جہاد ) میں نکلے ، تو رسول اللہ ﷺ ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو اکٹھا کرتے رہے ، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن آپ ﷺ نے نماز کو مؤخر کیا ، پھر آپ باہر تشریف لائے ، پھر آپ نے ظہر اور عصر اکٹھی پڑھائی ، پھر ( خیمے وغیرہ میں ) چلے گئے ، پھر تشریف لائے اور مغرب اور عشاء اکٹھی پڑھائی ، پھر فرمایا :’’ بلاشبہ تم کل جلد ہی تبوک کے چشمے پر پہنچ جاؤ گے ، انشاءاللہ ۔ چنانچہ تم اس تک ہرگز نہیں پہنچ سکو گے یہاں تک کہ دن چڑھ جائے ( اور دن کا سورج خوب بلند ہو جائے ) تو ( تم میں سے ) جو کوئی ( ہم سے پہلے ) اس پر پہنچ جائے تو وہ اس میں سے ہرگز کچھ بھی نہ چھوئے یہاں تک کہ میں آ جاؤں ۔‘‘ ـ ( حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے ) کہا کہ ( جب ) ہم اس تک پہنچے تو ( ہم سے پہلے ہی ) دو آدمی اس پر ( پہنچ چکے تھے اور ) سبقت لے جا چکے تھے اور ( تبوک کا ) چشمہ تھوڑے سے پانی کے ساتھ چمک رہا تھا ، ( اس کا پانی سورج کی شعاعوں سے چمک رہا تھا یا وہ تھوڑا تھوڑا بہہ رہا تھا ) رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں سے دریافت فرمایا :’’ کیا تم نے اس کے پانی کو چھوا ( اور ہاتھ لگایا ) ہے ؟‘‘ انھوں نے کہا کہ جی ہاں ، تو رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کو ( سرزنش کی اور ) برا بھلا کہا اور جو اللہ کو منظور تھا اُن سے کہہ دیا ، پھر لوگوں نے چشمے سے اپنے ہاتھوں کے ساتھ تھوڑا تھوڑا پانی چلوؤں کی شکل میں نکالا یہاں تک کہ کچھ پانی کسی چیز ( یعنی کسی برتن ) میں جمع ہو گیا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے اس ( برتن ) میں اپنا چہرہ اور ہاتھ مبارک دھوئے ، پھر اُس ( پانی ) کو اس ( چشمے ) میں دوبارہ ڈال دیا ، چنانچہ وہ چشمہ بہت وافر پانی کے ساتھ بہنے لگا ، تو لوگوں نے اس سے ( اپنی اپنی ضرورت کے مطابق ) پانی لیا ( اور پیا اور پلایا اور ذخیرہ کر لیا ) ، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اے معاذ ! ممکن ہے کہ اگر تمھاری زندگی لمبی ہوئی تو تم دیکھو گے کہ ( اس جگہ کا ) یہ پانی باغات کو بھرا کرے گا ۔‘‘

328

Muwatta Imam Malik #328

Sahih

[328] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ إِذَا عَجِلَ بِہِ السَّیْرُ، یَجْمَعُ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جب رسول اللہ ﷺ کو چلنے کی جلدی ہوتی تو آپ ﷺ مغرب و عشاء کو جمع کر لیتے تھے ۔

329

Muwatta Imam Malik #329

Sahih

[329] حَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الزُّبَیْرِ الْمَکِّیِّ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّہُ قَالَ : صَلَّی رَسُولُ اللّٰہ ﷺ الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ جَمِیعاً، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ جَمِیعاً، فِی غَیْرِ خَوْفٍ وَلَا سَفَرٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ظہر و عصر بھی اکٹھی پڑھائیں اور مغرب و عشاء بھی ، ( اور ان کو ) بغیر کسی خوف اور بغیر کسی سفر کے ( جمع فرمایا ) ۔

330

Muwatta Imam Malik #330

Sahih

[330] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہ بْنَ عُمَرَ، کَانَ إِذَا جَمَعَ الأُمَرَائُ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ فِی الْمَطَرِ، جَمَعَ مَعَہُمْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب ( حکمران طبقے والے ) اُمراء ( گورنر اور حکومتی عہدیدار ) مغرب و عشاء کو بارش کے موقع پر جمع کرتے تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ان کے ساتھ ( یہ نمازیں ) جمع کر لیتے ۔

331

Muwatta Imam Malik #331

Sahih

[331] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ: أَنَّہُ سَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہ ہَلْ یُجْمَعُ بَیْنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ فِی السَّفَرِ۔ فَقَالَ : نَعَمْ لَا بَأْسَ بِذَلِکَ، أَلَمْ تَرَ إِلَی صَلَاۃِ النَّاسِ بِعَرَفَۃَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انھوں نے سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا سفر میں ظہر و عصر کو جمع کیا جا سکتا ہے تو انھوں نے فرمایا : ہاں ، اس میں کوئی حرج نہیں ، کیا تم میدان عرفات میں لوگوں کی نماز کو نہیں دیکھتے ، ( کہ وہ ظہر و عصر کو ظہر کے وقت میں جمع کرتے ہیں اور سب مسافر ہوتے ہیں ) ۔

332

Muwatta Imam Malik #332

Sahih

[332] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَنَّہُ بَلَغَہُ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ، أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : کَانَ رَسُولُ اللّٰہ ﷺ إِذَا أَرَادَ أَنْ یَسِیرَ یَوْمَہُ، جَمَعَ بَیْنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَسِیرَ لَیْلَہُ، جَمَعَ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

علی بن حسین رضی اللہ عنہ ( المعروف حضرت زین ُ العابدین ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب ( سارا ) دن چلتے رہنے کا ارادہ فرماتے تو ظہر و عصر کو جمع کر کے پڑھتے اور جب ( ساری ) رات چلتے رہنے کا ارادہ فرماتے تو مغرب و عشاء کو جمع کر لیتے ۔