Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 9 · Chapter 107

سفر میں نماز قصر کرنے کے متعلق کتاب

نماز کے متفرق مسائل کا بیان

14 hadiths in this chapter

412

Muwatta Imam Malik #412

Sahih

[412] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَیْمٍ الزُّرَقِیِّ، عَنْ أبِی قَتَادَۃَ الْأَنْصَاری : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یُصَلِّی وَہُوَ حَامِلٌ أُمَامَۃَ بِنْتَ زَیْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، وَلأبِی الْعَاصِ بْنِ رَبِیعَۃَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَہَا، وَإِذَا قَامَ حَمَلَہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس حال میں نماز پڑھا لیا کرتے تھے کہ آپ ( اپنی نواسی ) امامہ کو اٹھائے ہوئے ہوتے تھے جو کہ ( آپ ﷺ کی بڑی بیٹی ) حضرت زینب بنت رسول اللہ ﷺ کی اور ( آپ ﷺ کے داماد ) حضرت ابو العاص بن ربیعہ بن عبدشمس رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھی ، چنانچہ جب آپ ﷺ سجدہ کرنے لگتے تو اسے بٹھا دیتے اور جب کھڑے ہونے لگتے تو اسے اٹھا لیتے ۔

413

Muwatta Imam Malik #413

Sahih

[413] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : یَتَعَاقَبُونَ فِیکُمْ مَلَائِکَۃٌ بِاللَّیْلِ وَمَلَائِکَۃٌ بِالنَّہَارِ، وَیَجْتَمِعُونَ فِی صَلَاۃِ الْعَصْرِ وَصَلَاۃِ الْفَجْرِ، ثُمَّ یَعْرُجُ الَّذِینَ بَاتُوا فِیکُمْ، فَیَسْأَلُہُمْ وَہُوَ أَعْلَمُ بِہِمْ, کَیْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِی ؟ فَیَقُولُونَ : تَرَکْنَاہُمْ وَہُمْ یُصَلُّونَ، وَأَتَیْنَاہُمْ وَہُمْ یُصَلُّونَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تمھارے اندر رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے باری باری آتے جاتے رہتے ہیں اور نماز عصر اور نماز فجر میں جمع ہوتے ہیں ۔ پھر جنھوں نے تمھارے ساتھ رات گزاری ہوتی ہے وہ ( جبکہ آسمان کی طرف ) چڑھ جاتے ہیں ، تو وہ ( اللہ تعالیٰ ) ان سے دریافت فرماتا ہے حالانکہ وہ ان ( بندوں کے احوال ) سے بخوبی واقف ہوتا ہے ، ( پوچھتا ہے کہ ) تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ان کو چھوڑا ( اور ان کے پاس سے آئے ) تو اس حال میں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور ہم ان کے پاس آئے تھے تو بھی اس حال میں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے ۔‘‘

414

Muwatta Imam Malik #414

Sahih

[414] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ،عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ لِلنَّاسِ۔ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : إِنَّ أَبَا بَکْرٍ یَا رَسُولَ اللّٰہِ إِذَا قَامَ فِی مَقَامِکَ لَمْ یُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُکَائِ، فَمُرْ عُمَرَ فَلِیُصَلِّ لِلنَّاسِ، قَالَ : مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ لِلنَّاسِ۔ قَالَتْ عَائِشَۃُ : فَقُلْتُ لِحَفْصَۃَ قُولِی لَہُ : إِنَّ أَبَا بَکْرٍ إِذَا قَامَ فِی مَقَامِکَ لَمْ یُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُکَائِ، فَمُرْ عُمَرَ فَلْیُصَلِّ لِلنَّاسِ، فَفَعَلَتْ حَفْصَۃُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : إِنَّکُنَّ لأَ نْتُنَّ صَوَاحِبُ یُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ لِلنَّاسِ۔ فَقَالَتْ حَفْصَۃُ لِعَائِشَۃَ : مَا کُنْتُ لأُصِیبَ مِنْکِ خَیْراً۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ پیغمبر ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ( اپنے مرض الوفات میں ) فرمایا :’’ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ‘‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عرض کرنے لگیں کہ اے اللہ کے رسول ! بے شک ابوبکر رضی اللہ عنہ جب آپ کی جگہ میں کھڑے ہوں گے تو وہ رونے کی وجہ سے لوگوں کو ( اپنی آواز اور قراءت ) نہ سنا پائیں گے ، آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دے دیجیے کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ پھر میں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ تم رسول اللہ ﷺ سے عرض کرو کہ یقیناً ابوبکر رضی اللہ عنہ جب آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو وہ رونے کی بنا پر لوگوں کو کچھ نہ سنا سکیں گے ، لہٰذا آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دے دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں ، چنانچہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ( اسی طرح ہی ) کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ( برا مناتے ہوئے ) فرمایا :’’ بلاشبہ تم یوسف علیہ السلام ( کے واقعے ) والی عورتوں کی طرح ہو ، ( پھر آپ ﷺ نے تیسری مرتبہ فرمایا ) ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔‘‘ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ( نبی کریم ﷺ کی طرف سے ناراضی کا اظہار سن کر ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہنے لگیں کہ میں تم سے کوئی خیر نہیں پا سکتی ۔

415

Muwatta Imam Malik #415

Sahih

[415] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَزِیدَ اللَّیْثِیِّ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَدِیِّ بْنِ الْخِیَارِ، أَنَّہُ قَالَ : بَیْنَمَا رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ جَالِسٌ بَیْنَ ظَہْرَانَی النَّاسِ، إِذْ جَائَ ہُ رَجُلٌ فَسَارَّہُ، فَلَمْ یُدْرَ مَا سَارَّہُ بِہِ، حَتَّی جَہَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ ، فَإِذَا ہُوَ یَسْتَأْذِنُہُ فِی قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِین، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ حِینَ جَہَرَ : أَلَیْسَ یَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَأَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللّٰہِ ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ : بَلَی، وَلَا شَہَادَۃَ لَہُ، فَقَالَ أَلَیْسَ یُصَلِّی۔ قَالَ : بَلَی، وَلَا صَلَاۃَ لَہُ، فَقَالَ ﷺ : أُولَئِکَ الَّذِینَ نَہَانِی اللّٰہُ عَنْہُمْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبیداللہ بن عدی بن خیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے کہ اسی اثنا میں اچانک ایک آدمی آپ ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے سرگوشی کرنے لگا ، ہم اس کی آپ ﷺ سے سرگوشی کو نہ جان سکے ، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی آواز بلند فرمائی تو یکایک ( ہمیں پتا چلا کہ ) وہ آپ ﷺ سے منافقین میں سے ایک شخص کے قتل کی اجازت مانگ رہا تھا ، جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی آواز بلند کی تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا :’’ کیا وہ یہ گواہی نہیں دیتا کہ یقیناً اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور بے شک محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ؟ ’’ اس آدمی نے جواب دیا کہ کیوں نہیں ، ( وہ گواہی تو دیتا ہے لیکن ) اس کی شہادت ( اور گواہی معتبر ) ہی نہیں ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا وہ نماز نہیں پڑھتا ؟ تو اس نے کہا کہ کیوں نہیں لیکن اس کی تو نماز بھی ( قابل قبول ) نہیں ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہی وہ لوگ ہیں ( جو توحید و رسالت کی گواہی دے کر نماز پڑھنے لگیں خواہ وہ اس میں سچے ہوں یا نہ ، تو یہی ہیں وہ ) جن ( کے قتل ) سے اللہ نے مجھے منع فرما دیا ہے ‘‘

416

Muwatta Imam Malik #416

Sahih

[416] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : اللّٰہُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِی وَثَناً یُعْبَدُ، اشْتَدَّ غَضَبُ اللّٰہِ عَلَی قَوْمٍ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِیَائِہِمْ مَسَاجِدَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عطار بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ( دعا مانگتے ہوئے ) فرمایا :’’ اے اللہ ! میری قبر کو بت ( یعنی ایسی عبادت گاہ ) نہ بنانا جس کی پوجا کی جاتی ہو ، اللہ کا غضب ان لوگوں پر بہت سخت ہو گیا جنھوں نے اپنے انبیائے کرام علیہم السلام کی قبروں کو مساجد بنا لیا ۔‘‘

417

Muwatta Imam Malik #417

Sahih

[417] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِیعِ الْأَنْصَاری، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِکٍ کَانَ یَؤُمُّ قَوْمَہُ وَہُوَ أَعْمَی، وَأَنَّہُ قَالَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ﷺ : إِنَّہَا تَکُونُ الظُّلْمَۃُ وَالْمَطَرُ وَالسَّیْلُ، وَأَنَا رَجُلٌ ضَرِیرُ الْبَصَرِ، فَصَلِّ یَا رَسُولَ اللّٰہِ فِی بَیْتِی مَکَاناً أَتَّخِذْہُ مُصَلًّی، فَجَائَ ہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ : أَیْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّیَ؟ فَأَشَارَ لَہُ إِلَی مَکَانٍ مِنَ الْبَیْتِ، فَصَلَّی فِیہِ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ( ایک بدری صحابی ) حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی امامت کراتے تھے اس حال میں کہ وہ نابینا تھے ، یقیناً انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی کہ بلاشبہ اندھیرا بھی ہوتا ہے ، ( کبھی ) بارش بھی ہوتی ہے اور سیلاب بھی ہوتا ہے اور ( جبکہ ) میں کمزور بینائی والا شخص ہوں ، اے اللہ کے رسول ! میرے گھر میں کسی جگہ پر نماز پڑھ دیجیے تاکہ میں اس جگہ کو اپنی جائے نماز بنا لوں ، حضرت محمود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( ان کی درخواست پر ) رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے ، پھر فرمایا :’’ تم کہاں پسند کرتے ہو کہ میں نماز پڑھوں ؟‘‘ انھوں نے گھر کی ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس جگہ میں نماز ادا فرمائی ۔

418

Muwatta Imam Malik #418

Sahih

[418] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِیمٍ، عَنْ عَمِّہِ, أَنَّہُ رَأَی رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ مُسْتَلْقِیاً فِی الْمَسْجِدِ وَاضِعاً إِحْدَی رِجْلَیْہِ عَلَی الأُخْرَی۔

اردو ترجمہ · Urdu

عباد بن تمیم رحمہ اللہ اپنے چچا ( حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں چت لیٹے ہوئے دیکھا ، اس حال میں کہ آپ ﷺ نے اپنا ایک پاؤں دوسرے پر رکھا ہوا تھا ۔

419

Muwatta Imam Malik #419

Sahih

[419] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رضی اللہ عنہما ، کَانَا یَفْعَلَانِ ذَلِکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بھی اس طرح کر لیا کرتے تھے ( کہ سیدھے لیٹ کر پاؤں پر پاؤں رکھ لیتے ) ۔

420

Muwatta Imam Malik #420

Sahih

[420] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ لإِنْسَانٍ : إِنَّکَ فِی زَمَانٍ کَثِیرٌ فُقَہَاؤُہُ، قَلِیلٌ قُرَّاؤُہُ، تُحْفَظُ فِیہِ حُدُودُ الْقُرْآنِ، وَتُضَیَّعُ حُرُوفُہُ، قَلِیلٌ مَنْ یَسْأَل، کَثِیرٌ مَنْ یُعْطِی، یُطِیلُونَ فِیہِ الصَّلَاۃَ، وَیَقْصُرُونَ الْخُطْبَۃَ، یُبَدِّئُ وْنَ أَعْمَالَہُمْ قَبْلَ أَہْوَائِہِمْ، وَسَیَأْتِی عَلَی النَّاسِ زَمَان، قَلِیلٌ فُقَہَاؤُہُ، کَثِیرٌ قُرَّاؤُہُ، یُحْفَظُ فِیہِ حُرُوفُ الْقُرْآنِ، وَتُضَیَّعُ حُدُودُہُ، کَثِیرٌ مَنْ یَسْأَلُ، قَلِیلٌ مَنْ یُعْطِی، یُطِیلُونَ فِیہِ الْخُطْبَۃ، وَیَقْصُرُونَ الصَّلَاۃَ، یُبَدُّونَ فِیہِ أَہْوَائَ ہُمْ قَبْلَ أَعْمَالِہِمْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے فرمایا کہ بے شک تم ایک ایسے زمانے میں ہو جس میں ( دین کی حقیقی سمجھ رکھنے والے ) فقہا بہت زیادہ ہیں اور ( صرف الفاظ تک محدود رہنے والے ) قراء یعنی قاری حضرات بہت کم ہیں ، اس زمانے میں قرآن مجید کی حدود محفوظ ہیں ( اور اس کے بیان کردہ قوانین پر عمل جاری ہے ) اور اس کے حروف ضائع کیے جاتے ہیں ( یعنی زیادہ توجہ عمل پر ہے اور حروف کی ادائیگی میں تکلّفات سے کام نہیں لیا جاتا ) مانگنے والے بہت کم ہیں اور دینے والے بہت زیادہ ہیں ، وہ نماز کو لمبا کرتے ہیں اور خطبہ چھوٹا دیتے ہیں ۔ وہ اپنی خواہشات سے پہلے اعمال کو ترجیح دیتے ہیں ۔ اور لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان کے فقہاء کم ہوں گے اور قرآن پڑھنے والے زیادہ ہوں گے ۔ اس میں قرآن مجید کے حروف کی حفاظت کی جائے گی اور اس کی حدود کو ضائع کیا جائے گا ، سوال کرنے والے زیادہ ہوں گے اور دینے والے بہت کم ہوں گے ، اس زمانے میں لوگ خطبہ لمبا کریں گے اور نماز کو چھوٹا رکھیں گے ( اور ) وہ اس دور میں اپنی خواہشات کو ترجیح دے کر اپنے عملوں سے مقدم رکھیں گے ۔

421

Muwatta Imam Malik #421

Zaeef

[421] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَنَّہُ قَالَ : بَلَغَنِی أَنَّ أَوَّلَ مَا یُنْظَرُ فِیہِ مِنْ عَمَلِ الْعَبْدِ الصَّلَاۃُ، فَإِنْ قُبِلَتْ مِنْہُ، نُظِرَ فِیمَا بَقِیَ مِنْ عَمَلِہِ، وَإِنْ لَمْ تُقْبَلْ مِنْہُ، لَمْ یُنْظَرْ فِی شَیْئٍ مِنْ عَمَلِہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید سے روایت ہے ، ان کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک بندے کے عمل میں سب سے پہلی وہ چیز جس کو دیکھا جائے گا وہ نماز ہے ۔ پھر اگر بندے سے وہ قبول کر لی گئی تو اس کے باقی عمل دیکھے جائیں گے اور اگر آدمی کی نماز ہی قبول نہ ہو سکی تو اس کے کسی بھی اور عمل کو نہیں دیکھا جائے گا ۔

422

Muwatta Imam Malik #422

Sahih

[422] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، أَنَّہَا قَالَتْ : کَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ الَّذِی یَدُومُ عَلَیْہِ صَاحِبُہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ پیغمبر ﷺ سے روایت ہے ، کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے نزدیک سب سے پسندیدہ و محبوب عمل وہ تھا جس کو کرنے والا اس پر ہمیشگی کرے ۔

423

Muwatta Imam Malik #423

Sahih

[423] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَنَّہُ بَلَغَہُ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أبِی وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّہُ قَالَ : کَانَ رَجُلَانِ أَخَوَانِ، فَہَلَکَ أَحَدُہُمَا قَبْلَ صَاحِبِہِ، بِأَرْبَعِینَ لَیْلَۃً, فَذُکِرَتْ فَضِیلَۃُ الْأَوَّلِ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، فَقَالَ : أَلَمْ یَکُنِ الآخَرُ مُسْلِماً ؟ قَالُوا : بَلَی یَا رَسُولَ اللّٰہِ، وَکَانَ لَا بَأْسَ بِہِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : وَمَا یُدْرِیکُمْ مَا بَلَغَتْ بِہِ صَلَاتُہُ، إِنَّمَا مَثَلُ الصَّلَاۃِ، کَمَثَلِ نَہْرٍ غَمْرٍ عَذْبٍ بِبَابِ أَحَدِکُمْ، یَقْتَحِمُ فِیہِ کُلَّ یَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، فَمَا تَرَوْنَ ذَلِکَ یُبْقِی مِنْ دَرَنِہِ، فَإِنَّکُمْ لَا تَدْرُونَ مَا بَلَغَتْ بِہِ صَلَاتُہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عامر بن سعد رحمہ اللہ اپنے والد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ، انھوں نے کہا کہ ( رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ) دو بھائی تھے ، ان میں سے ایک ( بھائی ) اپنے ساتھی ( یعنی دوسرے بھائی ) سے چالیس راتیں پہلے فوت ہو گیا ۔ ( دوسرا بھائی چالیس دن بعد فوت ہوا ) رسول اللہ ﷺ کے پاس ( ان میں سے ) پہلے ( فوت ہونے والے بھائی ) کی فضیلت کا تذکرہ ہوا ( اور لوگوں نے اسے دوسرے بھائی سے زیادہ اجر کا مستحق جانا ) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا دوسرا ( بھائی جو بعد میں فوت ہوا ) مسلمان نہیں تھا ‘‘؟ لوگوں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں ۔ اے اللہ کے رسول ! ( وہ بھی مسلمان ہی تھا ) اور اس ( کے اسلام ) میں بھی کوئی حرج نہیں تھا ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم اس کے مرتبے اور درجے کو کیا جانو ، جس تک اس کی ( چالیس دن کی ) نماز نے اسے پہنچا دیا ہے ۔ یقیناً نماز کی مثال تو اس میٹھے پانی والی گہری نہر کی طرح ہے جو تم میں سے کسی کے دروازے پر ( اس کے سامنے سے بہتی ) ہو ، وہ اس میں ہر روز پانچ دفعہ داخل ہوتا ( ہو اور اس میں غسل کرتا ) ہو ، تو تمھارا کیا خیال ہے کہ یہ عمل اس ( کے بدن ) پر کچھ بھی میل کچیل باقی رہنے دے گا ؟ ( یقیناً نہیں ؟ ) لہٰذا بلاشبہ تم اس مرتبہ و مقام کو نہیں جان سکتے جہاں تک اس کی نماز نے ( اسے ) پہنچا دیا ہے ۔‘‘

424

Muwatta Imam Malik #424

Sahih

[424] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَنَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ عَطَائَ بْنَ یَسَارٍ کَانَ إِذَا مَرَّ عَلَیْہِ بَعْضُ مَنْ یَبِیعُ فِی الْمَسْجِدِ، دَعَاہُ فَسَأَلَہُ مَا مَعَکَ وَمَا تُرِیدُ ؟ فَإِنْ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ یُرِیدُ أَنْ یَبِیعَہُ، قَالَ : عَلَیْکَ بِسُوقِ الدُّنْیَا، فَإِنَّمَا ہَذَا سُوقُ الآخِرَۃِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ عطاء بن یسار رحمہ اللہ کے پاس سے جب کوئی ایسا شخص گزرتا جو مسجد میں ( کوئی چیز ) بیچ رہا ہوتا تو اسے بلا لیتے ، پھر اس سے پوچھتے کہ تیرے پاس کیا چیز ہے اور تم کیا چاہتے ہو ؟ چنانچہ اگر تو وہ ان کو یہ بتاتا کہ وہ اسے بیچنا چاہتا ہے تو فرماتے کہ پھر تم دنیا کے ( کسی ) بازار کو لازم پکڑو اور یہ ( مسجد ) تو صرف اور صرف آخرت ہی کا بازار ہے ۔

425

Muwatta Imam Malik #425

Zaeef

[425] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَنَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَنَی رَحْبَۃً فِی نَاحِیَۃِ الْمَسْجِدِ تُسَمَّی الْبُطَیْحَائَ وَقَالَ : مَنْ کَانَ یُرِیدُ أَنْ یَلْغَطَ، أَوْ یُنْشِدَ شِعْراً، أَوْ یَرْفَعَ صَوْتَہُ، فَلْیَخْرُجْ إِلَی ہَذِہِ الرَّحْبَۃِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی کے ایک کونے میں ایک کھلی جگہ ( صحن نما چبوترہ کے طور پر ) بنا دی ، جسے ’’ بُطَیْحاء ‘‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ( اعلان کرتے ہوئے ) فرما دیا کہ جو شخص شور مچانا ( اور بک بک کرنا ) چاہتا ہے ، یا شعر پڑھنا چاہتا ہے یا اپنی آواز کو بلند کرنا چاہتا ہے تو وہ اس جگہ کی طرف چلا جائے ۔