Muwatta Imam Malik #426
[426] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَمِّہِ أبِی سُہَیْلِ بْنِ مَالِکٍ، عَنْ أَبِیہِ, أَنَّہُ سَمِعَ طَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللّٰہِ یَقُولُ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ مِنْ أَہْلِ نَجْدٍ، ثَائِرُ الرَّأْسِ یُسْمَعُ دَوِیُّ صَوْتِہ، وَلَا نَفْقَہُ مَا یَقُولُ، حَتَّی دَنَا، فَإِذَا ہُوَ یَسْأَلُ عَنِ الإِسْلَامِ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِی الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃِ۔ قَالَ: ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہُنَّ ؟ قَالَ: لَا، إِلاَّ أَنْ تَطَّوَّعَ۔ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : وَصِیَامُ شَہْرِ رَمَضَانَ۔ قَالَ: ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہُ ؟ قَالَ: لَا، إِلاَّ أَنْ تَطَّوَّعَ۔ قَالَ وَذَکَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ الزَّکَاۃَ۔ فَقَالَ: ہَلْ عَلَیَّ غَیْرُہَا ؟ قَالَ: لَا، إِلاَّ أَنْ تَطَّوَّعَ قَالَ : فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَہُوَ یَقُولُ : وَاللّٰہِ لَا أَزِیدُ عَلَی ہَذَا وَلَا أَنْقُصُ مِنْہُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَفْلَحَ الرَّجُلُ إِنْ صَدَقَ۔
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ اہل نجد میں سے تھا ، سر کے بال بکھرے ہوئے تھے ، اس کی آواز کی بھنبھناہٹ تو سنائی دیتی تھی لیکن وہ جو کچھ کہہ رہا تھا ہم اسے سمجھ نہیں پا رہے تھے ، یہاں تک کہ وہ قریب آ گیا تو یکایک ( ہمیں معلوم ہو گیا کہ ) وہ اسلام کے متعلق سوال کر رہا تھا ، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا :’’ ( اسلام کا ایک رکن ) دن اور رات میں پانچ نمازیں ( قائم کرنا ہے ) ۔ ‘‘ اس نے دریافت کیا کہ کیا مجھ پر ان ( پانچ ) کے علاوہ ( نمازیں بھی لازم ) ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، الا یہ کہ تو ( خوشی سے ) کوئی نفل ادا کرے ۔‘‘ ( پھر ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اور ( اسلام کا ایک رکن ) ماہِ رمضان کے روزے رکھنا ( ہے ) ۔‘‘ اس نے پوچھا کہ کیا مجھ پر اس ( رمضان ) کے علاوہ بھی کچھ فرض ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں الا یہ کہ تو کوئی نفلی روزہ ( رکھنا چاہے تو ) رکھ لے ‘‘ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زکاۃ کا بھی ذکر فرمایا تو اس نے پوچھا کہ کیا مجھ پر اس کے علاوہ بھی ( فرض ) ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، مگر یہ کہ تو کوئی نفلی صدقہ کر سکتا ہے ۔‘‘ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر وہ اس حال میں واپس ہوا کہ وہ یہ کہہ رہا تھا ۔ اللہ کی قسم ! میں نہ تو اس سے کچھ زیادہ کروں گا اور نہ کم کروں گا ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر وہ سچا ثابت ہوا تو ( یقیناً ) کامیابی پا گیا ۔‘‘