Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 9 · Chapter 103

سفر میں نماز قصر کرنے کے متعلق کتاب

ضرورت کے وقت نماز میں جھانکنے اور ہاتھوں سے آواز پیدا کرنے کا بیان

3 hadiths in this chapter

392

Muwatta Imam Malik #392

Sahih

[392] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی حَازِمٍ سَلَمَۃَ بْنِ دِینَارٍ، عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ :أَنَّ رَسُولَ اللّٰہ ﷺ ذَہَبَ إِلَی بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، لِیُصْلِحَ بَیْنَہُمْ، وَحَانَتِ الصَّلَاۃُ، فَجَائَ الْمُؤَذِّنُ إِلَی أبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ، فَقَالَ : أَتُصَلِّی لِلنَّاسِ فَأُقِیمَ ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ فَصَلَّی أَبُو بَکْرٍ، فَجَائَ رَسُولُ اللّٰہ ﷺ وَالنَّاسُ فِی الصَّلَاۃِ، فَتَخَلَّصَ حَتَّی وَقَفَ فِی الصَّفِّ، فَصَفَّقَ النَّاسُ، وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ لَا یَلْتَفِتُ فِی صَلَاتِہِ, فَلَمَّا أَکْثَرَ النَّاسُ مِنَ التَّصْفِیقِ الْتَفَتَ أَبُو بَکْرٍ، فَرَأَی رَسُولَ اللّٰہ ﷺ ، فَأَشَارَ إِلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہ ﷺ أَنِ امْکُثْ مَکَانَکَ، فَرَفَعَ أَبُو بَکْرٍ یَدَیْہِ، فَحَمِدَ اللَّہَ عَلَی مَا أَمَرَہُ بِہِ رَسُولُ اللّٰہ ﷺ مِنْ ذَلِکَ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ حَتَّی اسْتَوَی فِی الصَّفِّ، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللّٰہ ﷺ فَصَلَّی، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ : یَا أَبَا بَکْرٍ، مَا مَنَعَکَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُکَ ۔ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : مَا کَانَ لاِبْنِ أبِی قُحَافَۃَ أَنْ یُصَلِّیَ بَیْنَ یَدَیْ رَسُولِ اللّٰہ ﷺ ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہ ﷺ : مَا لِی رَأَیْتُکُمْ أَکْثَرْتُمْ مِنَ التَّصْفِیحِ، مَنْ نَابَہُ شَیْئٌ فِی صَلَاتِہِ فَلْیُسَبِّحْ، فَإِنَّہُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَیْہِ، وَإِنَّمَا التَّصْفِیحُ لِلنِّسَائِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ بنو عمرو بن عوف خاندان کے پاس اُن کے درمیان صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے اور ( اِدھر عصر کی ) نماز کا وقت آ گیا تو مؤذن ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہنے لگا کہ کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں گے ، کہ میں پھر اقامت کہہ دوں ؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہاں ، چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے لگے ، پھر رسول اللہ ﷺ ( بھی ) آ گئے ، اس حال میں کہ لوگ نماز میں مصروف تھے ، سو آپ ﷺ ( صفوں کو چیرتے ہوئے ان کے درمیان سے ) نکل کر ( پہلی ) صف میں کھڑے ہو گئے ، لوگ ہاتھوں سے آواز نکالنے لگے اور ( جبکہ ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ( کی صورت حال یہ تھی کہ وہ ) نماز میں ( کسی اور طرف دھیان اور ) التفات نہیں کیا کرتے تھے ، پھر جب لوگوں نے بہت زیادہ ہی ہاتھ بجائے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ( چہرہ موڑ کر ) جھانکا اور رسول اللہ ﷺ کو ( اپنے پیچھے کھڑے ) دیکھ لیا ، رسول اللہ ﷺ نے اُن کی طرف اشارہ بھی کیا کہ اپنی جگہ پر کھڑے رہو ، ( لیکن ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ کی حمد بیان کی ( اور شکر ادا کیا ) اس بات پر کہ جو رسول اللہ ﷺ نے ان کو ( امامت کے لیے ) ٹھہرے رہنے کا حکم دیا تھا ، پھر پیچھے ہٹ آئے یہاں تک کہ صف میں کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ ﷺ آگے تشریف لے آئے ، چنانچہ آپ ﷺ نے نماز پڑھائی ، پھر نماز سے ( سلام پھیر کر ) فارغ ہوئے تو فرمایا :’’ اے ابوبکر ! جب میں نے تمھیں ( اشارے کے ذریعے ) حکم دے دیا تھا تو تمھیں کس چیز نے ( اپنی امامت والی جگہ پر ) ثابت رہنے سے منع کیا تھا ؟ ’’ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ابوقُحافہ کے بیٹے کے لائق ہی نہیں کہ وہ اللہ کے رسول ﷺ کے آگے کھڑا ہو ، پھر رسول اللہ ﷺ نے ( لوگوں سے ) فرمایا :’’ مجھے کیا ( محسوس ) ہوا کہ میں نے تمھیں ہاتھوں سے بہت زیادہ آواز نکالتے دیکھا ، ( سنو ! ) جسے اپنی نماز میں ( اس طرح کی ) کوئی چیز پیش آ جائے تو اُسے چاہیے کہ سُبْحان اللّٰہ کہے ، کیونکہ بلاشبہ جب وہ سُبحان اللہ کہے گا تو اس کی طرف ( توجہ اور ) التفات ہو جائے گا ۔ ( یہ ) ہاتھوں سے آواز نکالنا تو صرف اور صرف عورتوں کے لیے ( ہے اور یہ انھی کو زیب دیتا ) ہے ۔‘‘

393

Muwatta Imam Malik #393

Sahih

[393] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ لَمْ یَکُنْ یَلْتَفِتُ فِی صَلَاتِہِ.

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نماز میں التفات نہیں کرتے تھے ۔

394

Muwatta Imam Malik #394

Sahih

[394] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ ،عَنْ أبِی جَعْفَرٍ الْقَارِیِٔ،أَنَّہُ قَالَ : کُنْتُ أُصَلِّی وَعَبْدُ اللّٰہ بْنُ عُمَرَ وَرَائِی وَلَا أَشْعُرُ، فَالْتَفَتُّ فَغَمَزَنِی.

اردو ترجمہ · Urdu

ابوجعفر قاری رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میرے پیچھے تھے ، مجھے اُن کی خبر نہ تھی ، میں نے ( مڑ کر دیکھا یعنی ) التفات کیا تو انھوں نے مجھے ( اس سے روکنے کے لیے اپنا ) ہاتھ لگایا ۔