Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 8 · Chapter 75

نماز باجماعت کے متعلق کتاب

امام کے ساتھ دوبارہ نماز پڑھنے کا بیان

5 hadiths in this chapter

295

Muwatta Imam Malik #295

Sahih

[295] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی الدِّیلِ یُقَالُ لَہُ عَنْ بُسْرِ بْنِ مِحْجَنٍ، عَنْ أَبِیہِ مِحْجَنٍ : أَنَّہُ کَانَ فِی مَجْلِسٍ مَعَ رَسُولِ اللّٰہ ﷺ ، فَأُذِّنَ بِالصَّلَاۃِ، فَقَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ فَصَلَّی، ثُمَّ رَجَعَ وَمِحْجَنٌ فِی مَجْلِسِہِ لَمْ یُصَلِّ مَعَہُ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہ ﷺ : مَا مَنَعَکَ أَنْ تُصَلِّیَ مَعَ النَّاسِ ؟ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ ؟ فَقَالَ : بَلَی یَا رَسُولَ اللّٰہ، وَلَکِنِّی قَدْ صَلَّیْتُ فِی أَہْلِی، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہ ﷺ : إِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ، وَإِنْ کُنْتَ قَدْ صَلَّیْتَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

بُسر بن محجن رحمہ اللہ اپنے باپ مِحْجَن رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ( ایک دفعہ ) وہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک مجلس میں ( بیٹھے ہوئے ) تھے ، اتنے میں نماز کے لیے اذان دی گئی تو رسول اللہ ﷺ اٹھے اور نماز ادا فرمائی ، پھر واپس آئے تو دیکھا کہ حضرت مِحْجَن رضی اللہ عنہ اپنی مجلس ہی میں بیٹھے ہوئے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا کہ ’’ تمھیں کس چیز نے منع کیا تھا کہ لوگوں کے ہمراہ ( باجماعت ) نماز ادا کرو ؟ کیا تم مسلمان آدمی نہیں ہو ؟‘‘ حضرت محجن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیوں نہیں ، اے اللہ کے رسول ! ( میں مسلمان ہی ہوں ، نماز کا منکر نہیں ہوں ، ) لیکن دراصل میں اپنے گھر والوں میں نماز پڑھ چکا تھا ، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا :’’ جب تم ( مسجد کی طرف ) آؤ تو لوگوں کے ہمراہ نماز ادا کیا کرو ، خواہ تم اُسے ( پہلے بھی ) پڑھ چکے ہو ۔‘‘

296

Muwatta Imam Malik #296

Sahih

[296] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ عَبْدَ اللّٰہ بْنَ عُمَرَ فَقَالَ: إنِّی أُصَلِّی فِی بَیْتِی، ثُمَّ أُدْرِکُ الصَّلَاۃَ مَعَ الإِمَامِ، أَفَأُصَلِّی مَعَہُ ؟ فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللّٰہ بْنُ عُمَرَ : نَعَمْ. فَقَالَ الرَّجُلُ : أَیَّتَہُمَا أَجْعَلُ صَلَاتِی؟ فَقَالَ لَہُ ابْنُ عُمَرَ : أَوَذَلِکَ إِلَیْکَ، إِنَّمَا ذَلِکَ إِلَی اللّٰہ، یَجْعَلُ أَیَّتَہُمَا شَائَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ ( کبھی یوں ہوتا ہے کہ ) بے شک میں اپنے گھر میں ( خود کو لیٹ سمجھ کر ) نماز پڑھ چکا ہوتا ہوں ، ( لیکن ) پھر میں امام کے ساتھ بھی نماز پا لیتا ہوں ، تو کیا میں امام کے ساتھ نماز پڑھوں ؟ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اُس سے کہا کہ ہاں ( ضرور پڑھو ) ، وہ آدمی کہنے لگا کہ میں ان دونوں نمازوں میں سے کس کو اپنی ( فرضی ) نماز شمار کروں ؟ تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اُسے جواب دیا کہ کیا یہ معاملہ تمھارے ذمے ہے ؟ ( تجھے اس سے کیا سروکار ؟ ) یہ معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے ، وہ جسے چاہے ، فرض شمار کر لے ۔

297

Muwatta Imam Malik #297

Sahih

[297] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ ،عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ : أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ فَقَالَ : إنِّی أُصَلِّی فِی بَیْتِی، ثُمَّ آتِی الْمَسْجِدَ، فَأَجِدُ الإِمَامَ یُصَلِّی، أَفَأُصَلِّی مَعَہُ، فَقَالَ سَعِیدٌ : نَعَمْ. فَقَالَ الرَّجُلُ : فَأَیُّہُمَا صَلَاتِی، فَقَالَ سَعِیدٌ : أَوَأَنْتَ تَجْعَلُہُمَا، إِنَّمَا ذَلِکَ إِلَی اللّٰہ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سوال کیا ، کہنے لگا کہ یقیناً ( بسا اوقات ) میں گھر میں نماز پڑھ چکا ہوتا ہوں ، پھر میں مسجد میں آتا ہوں تو امام کو ( ابھی ) نماز پڑھتے ہوئے پا لیتا ہوں ، تو کیا میں اس کے ساتھ مل کر بھی نماز پڑھوں ؟ سعید بن مسیَّب رحمہ اللہ نے فرمایا : ہاں ، اس آدمی نے کہا کہ میں اُن میں سے کس کو اپنی ( فرض ) نماز شمار کروں ؟ تو سعید رحمہ اللہ نے اُسے فرمایا کہ کیا تو ( اُن میں سے کسی ) نماز کو ( فرض ) بنا سکتا ہے ؟ یہ تو صرف اور صرف اللہ ہی کا کام ہے ۔

298

Muwatta Imam Malik #298

Zaeef

[298] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَفِیفٍ السَّہْمِیِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی أَسَدٍ، أَنَّہُ سَأَلَ أَبَا أَیُّوبَ الأَنْصَارِیَّ، فَقَالَ : إنِّی أُصَلِّی فِی بَیْتِی، ثُمَّ آتِی الْمَسْجِدَ، فَأَجِدُ الإِمَامَ یُصَلِّی، أَفَأُصَلِّی مَعَہُ ؟ فَقَالَ أَبُو أَیُّوبَ : نَعَمْ فَصَلِّ مَعَہُ، فَإِنَّ مَنْ صَنَعَ ذَلِکَ فَإِنَّ لَہُ سَہْمَ جَمْعٍ، أَوْ مِثْلَ سَہْمِ جَمْعٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

بنو اسد سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ میں ( بعض اوقات ) اپنے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہوں ، پھر مسجد میں آتا ہوں تو امام کو نماز پڑھاتے ہوئے پا لیتا ہوں تو کیا میں اُس کے ساتھ بھی نماز پڑھ لوں ؟ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہاں تو اس کے ساتھ نماز پڑھ کیونکہ جو شخص بھی ایسا کرے گا تو یقیناً اس کے لیے جماعت یا لشکر کا حصہ ہے ، یا ( فرمایا کہ ) جماعت یا لشکر کے حصے کی طرح ہے ۔

299

Muwatta Imam Malik #299

Sahih

[299] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُولُ : مَنْ صَلَّی الْمَغْرِبَ أَوِ الصُّبْحَ، ثُمَّ أَدْرَکَہُمَا مَعَ الإِمَامِ فَلَا یَعُدْ لَہُمَا.

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے : جس شخص نے نماز ِمغرب یا نماز ِ فجر پڑھ لی ہو ، پھر وہ ان دونوں کو امام کے ساتھ پا لے تو ان دونوں کو دوبارہ نہ پڑھے ۔