Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 8 · Chapter 74

نماز باجماعت کے متعلق کتاب

نماز ِعشاء اور نمازِ فجر کا بیان

4 hadiths in this chapter

291

Muwatta Imam Malik #291

Sahih

[291] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَۃَ الأَسْلَمِیِّ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہ ﷺ قَالَ : بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْمُنَافِقِینَ شُہُودُ الْعِشَائِ وَالصُّبْحِ، لَا یَسْتَطِیعُونَہُمَا أَوْ نَحْوَ ہَذَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیّب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہمارے درمیان اور منافقوں کے درمیان فرق ، نماز عشاء اور نماز فجر ( میں حاضر ہونے اور نہ ہونے ) کا ہے ، وہ ( منافق ) ان دونوں نمازوں کی طاقت نہیں پاتے ۔‘‘ یا آپ ﷺ نے اس سے ملتے جلتے الفاظ بیان فرمائے ۔

292

Muwatta Imam Malik #292

Sahih

[292] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ سُمَیٍّ مَوْلَی أبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أبِی صَالِحٍ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہ ﷺ قَالَ : « بَیْنَمَا رَجُلٌ یَمْشِی بِطَرِیقٍ إِذْ وَجَدَ غُصْنَ شَوْکٍ عَلَی الطَّرِیقِ، فَأَخَّرَہُ، فَشَکَرَ اللَّہُ لَہُ، فَغَفَرَ لَہُ۔ وَقَالَ : الشُّہَدَائُ خَمْسَۃٌ : الْمَطْعُونُ، وَالْمَبْطُونُ، وَالْغَرِقُ، وَصَاحِبُ الْہَدْمِ، وَالشَّہِیدُ فِی سَبِیلِ اللّٰہ۔ وَقَالَ : لَوْ یَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِی النِّدَائِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ یَجِدُوا إِلاَّ أَنْ یَسْتَہِمُوا عَلَیْہِ، لَاسْتَہَمُوا، وَلَوْ یَعْلَمُونَ مَا فِی التَّہْجِیرِ، لَاسْتَبَقُوا إِلَیْہِ، وَلَوْ یَعْلَمُونَ مَا فِی الْعَتَمَۃِ وَالصُّبْحِ، لأَتَوْہُمَا وَلَوْ حَبْواً ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ایک شخص کسی راستے میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک اس نے راستے پر ایک کانٹے دار ٹہنی کو پایا تو اُس نے اُسے دور ہٹا دیا ، اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ( اس عمل کی ) قدر دانی فرمائی اور اسے بخش دیا ۔‘‘ اور آپ ﷺ نے فرمایا :’’ شہداء پانچ قسم کے ہیں : طاعون کی بیماری سے مرنے والا ، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا ، ڈوبنے والا ، گرنے والی چیز کے نیچے دب کر مرنے والا اور اللہ کی راہ میں جام شہادت نوش کرنے والا ۔‘‘ اور فرمایا :’’ اگر لوگ اُس ( اجر و ثواب ) کو جان لیں جو اذان کہنے اور صف ِ اول میں ہے ، پھر وہ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ پائیں کہ اس کام پر قرعہ اندازی کریں تو وہ ضرور قرعہ بھی ڈال لیں ، اگر وہ اس ( ثواب و درجہ ) کو جان لیں جو نماز کی طرف جلدی جانے میں ہے تو وہ ضرور اس کی طرف ایک دوسرے سے سبقت کریں ، اور اگر وہ اس ( مرتبہ و شان اور اجر ) کو جان لیں جو نمازِ عشاء اور نمازِ فجر میں ہے تو وہ ضرور ان دونوں کو آئیں ، اگرچہ انھیں گھِسٹ کر آنا پڑے ۔‘‘

293

Muwatta Imam Malik #293

Sahih

[293] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ أبِی بَکْرِ بْنِ سُلَیْمَانَ بْنِ أبِی حَثْمَۃَ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَدَ سُلَیْمَانَ بْنَ أبِی حَثْمَۃَ فِی صَلَاۃِ الصُّبْحِ، وَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ غَدَا إِلَی السُّوقِ - وَمَسْکَنُ سُلَیْمَانَ بَیْنَ السُّوقِ وَالْمَسْجِدِ النَّبَوِیِّ - فَمَرَّ عَلَی الشِّفَائِ أُمِّ سُلَیْمَانَ، فَقَالَ لَہَا : لَمْ أَرَ سُلَیْمَانَ فِی الصُّبْحِ، فَقَالَتْ : إِنَّہُ بَاتَ یُصَلِّی فَغَلَبَتْہُ عَیْنَاہُ. فَقَالَ عُمَرُ : لأَنْ أَشْہَدَ صَلَاۃَ الصُّبْحِ فِی الْجَمَاعَۃِ، أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَقُومَ لَیْلَۃً۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابوبکر رحمہ اللہ بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نماز فجر میں حضرت سلیمان بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کو نہ پایا ، اور ( دن کے وقت ) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بازار کی طرف گئے ، حضرت سلیمان رضی اللہ عنہ کا گھر بازار اور مسجد کے در میان تھا ، تو ( امیرالمومنین رضی اللہ عنہ ) سلیمان رضی اللہ عنہ کی والدہ حضرت شفاء رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزرے ، اُن سے کہا کہ میں نے نماز فجر میں سلیمان کو نہیں دیکھا تھا ؟ وہ کہنے لگیں کہ یقیناً انھوں ( سلیمان ) نے ساری رات نماز پڑھتے ہوئے گزاری تھی ، پھر اُن کی آنکھوں نے اُن پر غلبہ لیا ( تو وہ سوئے رہے ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : میں نماز فجر کے لیے جماعت میں حاضر ہو جاؤں یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ ساری رات جاگتا رہوں ( اور فرض جماعت نہ پا سکوں ) ۔

294

Muwatta Imam Malik #294

Sahih

[294] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أبِی عَمْرَۃَ الْأَنْصَاری، أَنَّہُ قَالَ : جَائَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَی صَلَاۃِ الْعِشَائِ، فَرَأَی أَہْلَ الْمَسْجِدِ قَلِیلاً، فَاضْطَجَعَ فِی مُؤَخَّرِ الْمَسْجِدِ، یَنْتَظِرُ النَّاسَ أَنْ یَکْثُرُوا، فَأَتَاہُ ابْنُ أبِی عَمْرَۃَ فَجَلَسَ إِلَیْہ، فَسَأَلَہُ مَنْ ہُوَ فَأَخْبَرَہُ، فَقَالَ : مَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ؟ فَأَخْبَرَہُ. فَقَالَ لَہُ عُثْمَانُ : مَنْ شَہِدَ الْعِشَائَ، فَکَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ لَیْلَۃٍ، وَمَنْ شَہِدَ الصُّبْحَ فَکَأَنَّمَا قَامَ لَیْلَۃً۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرحمن بن ابی عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نمازِ عشاء کے لیے آئے تو انھوں نے دیکھا کہ اہل مسجد ( مسجد میں نماز کے لیے آنے والے لوگ ابھی ) تھوڑے ہیں تو وہ مسجد کے اخیر میں ( آخری صفوں میں ) لیٹ گئے اور لوگوں کے زیادہ ہو جانے کا انتظار کرنے لگے ، ابن ابی عمرہ رضی اللہ عنہ اُن کے پاس آئے اور بیٹھ گئے ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اُن سے پوچھا کہ وہ کون ہیں ؟ تو انھوں نے اُن کو ( اپنے بارے میں ) بتایا ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اُن سے فرمایا کہ جو شخص نماز عشاء میں حاضر ہوا تو گویا اس نے نصف رات کا قیام کیا اور جو نماز ِفجر میں حاضر ہوا تو گویا اس نے پوری رات کا قیام کیا ۔