Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 5 · Chapter 64

جمعہ کے مسائل کی کتاب

جمعہ کے دن ( قبولیت ِدعا والی مخصوص ) گھڑی کا بیان

2 hadiths in this chapter

237

Muwatta Imam Malik #237

Sahih

[237] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَکَرَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَقَالَ: فِیہِ سَاعَۃٌ لَا یُوَافِقُہَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَہُوَ قَائِمٌ یُصَلِّی یَسْأَلُ اللَّہَ شَیْئًا إِلاَّ أَعْطَاہُ إِیَّاہُ۔ وَأَشَارَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدِہِ یُقَلِّلُہَا ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :’’ اس میں ایک ایسی ساعت ( چھوٹی سی گھڑی اور مختصر سا وقت ) ہے کہ جو بھی مسلمان شخص اُسے اِس حال میں پا لے کہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہا ہو ( اور ) اللہ سے کچھ مانگ رہا ہو تو اللہ تعالیٰ ضرور ضرور اُسے وہ چیز عطا فرما دیتے ہیں ۔‘‘ اور ( تذکرہ کرتے ہوئے ) رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک سے اشارہ فرمایا ( جس میں ) آپ ﷺ اس گھڑی کے قلیل ہونے کو بیان فرما رہے تھے ۔

238

Muwatta Imam Malik #238

Sahih

[238] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْہَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِیِّ، عَنْ أبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّہُ قَالَ خَرَجْتُ إِلَی الطُّورِ فَلَقِیتُ کَعْبَ الأَحْبَارِ فَجَلَسْتُ مَعَہُ فَحَدَّثَنِی عَنِ التَّوْرَاۃِ وَحَدَّثْتُہُ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَکَانَ فِیمَا حَدَّثْتُہُ أَنْ قُلْتُ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: خَیْرُ یَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ فِیہِ خُلِقَ آدَمُ وَفِیہِ أُہْبِطَ مِنَ الْجَنَّۃِ وَفِیہِ تِیبَ عَلَیْہِ وَفِیہِ مَاتَ وَفِیہِ تَقُومُ السَّاعَۃُ وَمَا مِنْ دَابَّۃٍ إِلاَّ وَہِیَ مُصِیخَۃٌ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ مِنْ حِینِ تُصْبِحُ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنَ السَّاعَۃِ إِلاَّ الْجِنَّ وَالإِنْسَ وَفِیہِ سَاعَۃٌ لَا یُصَادِفُہَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَہُوَ یُصَلِّی یَسْأَلُ اللَّہَ شَیْئًا إِلاَّ أَعْطَاہُ إِیَّاہُ۔ قَالَ کَعْبٌ ذَلِکَ فِی کُلِّ سَنَۃٍ یَوْمٌ ۔ فَقُلْتُ بَلْ فِی کُلِّ جُمُعَۃٍ ۔ فَقَرَأَ کَعْبٌ التَّوْرَاۃَ فَقَالَ صَدَقَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ فَلَقِیتُ بَصْرَۃَ بْنَ أَبِی بَصْرَۃَ الْغِفَارِیَّ فَقَالَ مِنْ أَیْنَ أَقْبَلْتَ فَقُلْتُ مِنَ الطُّورِ ۔ فَقَالَ لَوْ أَدْرَکْتُکَ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَیْہِ مَا خَرَجْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: لَا تُعْمَلُ الْمَطِیُّ إِلاَّ إِلَی ثَلَاثَۃِ مَسَاجِدَ إِلَی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِلَی مَسْجِدِی ہَذَا وَإِلَی مَسْجِدِ إِیلْیَائَ أَوْ بَیْتِ الْمَقْدِسِ یَشُکُّ ۔ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ ثُمَّ لَقِیتُ عَبْدَ اللّٰہ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُہُ بِمَجْلِسِی مَعَ کَعْبِ الأَحْبَارِ وَمَا حَدَّثْتُہُ بِہِ فِی یَوْمِ الْجُمُعَۃِ فَقُلْتُ قَالَ کَعْبٌ ذَلِکَ فِی کُلِّ سَنَۃٍ یَوْمٌ ۔ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللّٰہ بْنُ سَلَامٍ کَذَبَ کَعْبٌ ۔ فَقُلْتُ ثُمَّ قَرَأَ کَعْبٌ التَّوْرَاۃَ فَقَالَ بَلْ ہِیَ فِی کُلِّ جُمُعَۃٍ ۔ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہ بْنُ سَلَامٍ صَدَقَ کَعْبٌ ۔ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللّٰہ بْنُ سَلَامٍ قَدْ عَلِمْتُ أَیَّۃَ سَاعَۃٍ ہِیَ ۔ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ فَقُلْتُ لَہُ أَخْبِرْنِی بِہَا وَلَا تَضِنَّ عَلَیَّ ۔ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہ بْنُ سَلَامٍ ہِیَ آخِرُ سَاعَۃٍ فِی یَوْمِ الْجُمُعَۃِ ۔ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ فَقُلْتُ وَکَیْفَ تَکُونُ آخِرُ سَاعَۃٍ فِی یَوْمِ الْجُمُعَۃِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَا یُصَادِفُہَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَہُوَ یُصَلِّی۔ وَتِلْکَ السَّاعَۃُ سَاعَۃٌ لَا یُصَلَّی فِیہَا فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہ بْنُ سَلَامٍ أَلَمْ یَقُلْ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا یَنْتَظِرُ الصَّلَاۃَ فَہُوَ فِی صَلَاۃٍ حَتَّی یُصَلِّیَ۔ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ فَقُلْتُ بَلَی۔ قَالَ فَہُوَ ذَلِکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں کوہِ طور ( کی زیارت کے لیے اُس ) کی طرف نکلا ، ( وہاں ) میری ملاقات کعب احبار رحمہ اللہ سے ہوئی ( جو اسلام لانے سے قبل یہودیوں کے عالم تھے ) ، میں اُن کے ہمراہ بیٹھ گیا تو انھوں نے تورات سے کچھ بیان کیا اور میں نے اُنھیں رسول اللہ ﷺ سے ( سیکھی ہوئی باتوں کو ) بیان کیا ، تو میں نے جو کچھ انھیں بیان کیا اُن میں سے ایک یہ بات بھی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سب سے بہتر دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے ، جمعہ کا دن ہے ، ( زمانہ ماضی میں بھی تاریخی دن تھا کیونکہ ) اسی میں ( تمام انسانوں کے باپ ) آدم ( علیہ السلام ) کو پیدا کیا گیا ، اسی میں اُن کو ( جنت سے زمین کی طرف ) اتارا گیا ( اور زمین کو آباد کیا گیا ) ، اِسی میں اُن کی توبہ قبول کی گئی اور اسی دن وہ فوت ہوئے اور ( مستقبل میں بھی یہ تاریخی دن ہو گا کیونکہ ) اسی میں قیامت قائم ہو گی ، اور جو کوئی بھی جاندار ہے ، وہ ضرور جمعہ کے دن صبح ( صادق یعنی اذانِ فجر ) سے لے کر طلوع ِآفتاب تک قیامت کے خوف سے کان لگائے ہوئے ( گویا کچھ سننے کی کوشش کر رہا ) ہوتا ہے ، سوائے جنوں اور انسانوں کے ( کہ یہ اس وقت بھی غافل ہی رہتے ہیں ) ، اس جمعہ کے دن میں ایک ایسی گھڑی آتی ہے کہ جو بھی مسلمان بندہ اس حال ( کی موافقت کر کے اس ) کو پا لے کہ وہ نماز پڑھ رہا ہو تو وہ اللہ سے کوئی چیز ( اس گھڑی میں ) مانگ لے تو وہ ضرور اُسے وہ چیز عطا فرما دیتا ہے ۔ کعب احبار رحمہ اللہ نے کہا کہ ( یہ گھڑی ) پورے سال میں صرف ایک دن ہی آتی ہے ، ( حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ) میں نے کہا : ( نہیں ) بلکہ ( یہ ) ہر جمعہ ( کے دن ) میں ( آتی ) ، ( یہ سن کر ) کعب رضی اللہ عنہ تورات پڑھنے لگے ( تاکہ اس سے کسی بات کی تصدیق ہو ) ، پھر کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نے سچ ہی فرمایا ہے ، ( تورات میں بھی یہی ہے ، مجھے غلطی لگی تھی ) ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر ( واپسی پر ) میں بصرہ بن ابی بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے ملا ، تو انھوں نے ( مجھ سے ) پوچھا کہ کدھر سے آ رہے ہو ؟ میں نے کہا کہ طور پہاڑ سے ( آ رہا ہوں ) ، تو وہ کہنے لگے کہ اگر تمھارے اس طرف جانے سے پہلے میں تمھیں پا لیتا ( اور ہماری ملاقات ہو جاتی ) تو تم ( اُدھر ) نہ جاتے ، ( کیونکہ ) میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا :’’ سواری کو ( کسی جگہ کو متبرک سمجھ کر اس کی طرف سفر کرنے کے لیے ) تیار نہ کیا جائے سوائے تین مساجد کے ، مسجد حرام ( بیت اللہ والی مسجد ) ، میری یہ مسجد ( مسجد نبوی ) اور مسجدِ ایلیاء ( جسے مسجد اقصیٰ کہتے ہیں ، ) یا بیت المقدس کی طرف ، یہ راوی کو شک ہے ( کہ مسجد ایلیاء اور بیت المقدس میں سے کون سا لفظ مسجد اقصیٰ کے لیے بولا تھا … حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میری ملاقات حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ہوئی ( جو اسلام قبول کرنے سے پہلے یہودیوں کے چوٹی کے عالم تھے ) ، تو میں نے اُنھیں اپنی اس مجلس کے متعلق بتایا جو کعب احبار کے ساتھ ہوئی تھی اور اس حدیث کا بھی ذکر کیا جو میں نے کعب احبار رحمہ اللہ کو جمعہ کے دن کے بارے میں سنائی تھی ، میں نے ( حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ) کہا کہ ( میری یہ بات سن کر ) کعب رحمہ اللہ نے کہا تھا کہ یہ گھڑی پورے سال میں صرف ایک دن ہی میں آتی ہے ، تو ( یہ سنتے ہی ) حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ کعب رحمہ اللہ نے جھوٹ کہا ، میں نے عرض کیا کہ پھر کعب رحمہ اللہ نے تورات کی قراءت کی تو کہنے لگے کہ ( سال میں صرف ایک بار نہیں ) بلکہ ( واقعی ) یہ ہر جمعہ کے دن میں آتی ہے ، حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ( اب ) کعب رحمہ اللہ نے سچ کہا … پھر حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یقیناً مجھے علم ہے کہ وہ کون سی گھڑی ہے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اُن سے عرض کیا کہ مجھے اس گھڑی کے متعلق خبر دیجیے اور بخل سے کام نہ لیجیے ۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ یہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہے ، تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی کیسے ہو سکتی ہے ؟ حالانکہ رسول اللہ ﷺ فرما چکے ہیں ’’ جو کوئی مسلمان بندہ اس حال میں اس گھڑی کی موافقت کرے کہ وہ نماز پڑھ رہا ہو ۔‘‘ اور یہ ( آپ کی بیان کردہ ) گھڑی تو ایسی ہے جس میں نماز نہیں پڑھی جاتی ۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا رسول اللہ ﷺ نے نہیں فرمایا کہ جو شخص کسی مجلس میں نماز کا انتظار کرتے ہوئے بیٹھے تو وہ نماز ہی میں ( شمار ہوتا رہتا ) ہے ، یہاں تک کہ نماز پڑھ لے ( اور فارغ ہو جائے ) ؟ ‘‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیوں نہیں ، ( واقعی رسول اللہ ﷺ یہ بھی فرما چکے ہیں ) تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ پس اِس کا یہی مطلب ہے ۔