Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 5 · Chapter 61

جمعہ کے مسائل کی کتاب

جمعہ کے دن امام کے خطبہ کے دوران ، خاموش رہنے کے متعلق آنے والی روایات کا بیان

6 hadiths in this chapter

229

Muwatta Imam Malik #229

Sahih

[229] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِکَ أَنْصِتْ وَالإِمَامُ یَخْطُبُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَقَدْ لَغَوْتَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تو نے اپنے ساتھی سے یہ کہہ دیا کہ خاموش ہو جاؤ ، اس حال میں کہ ( تمھارے ایسا کہنے کے وقت ) امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے ایک لغو حرکت کی ۔‘‘

230

Muwatta Imam Malik #230

Sahih

[230] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ ثَعْلَبَۃَ بْنِ أَبِی مَالِکٍ الْقُرَظِیِّ، أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّہُمْ، کَانُوا فِی زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ یُصَلُّونَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ حَتَّی یَخْرُجَ عُمَرُ فَإِذَا خَرَجَ عُمَرُ وَجَلَسَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُونَ - قَالَ ثَعْلَبَۃُ - جَلَسْنَا نَتَحَدَّثُ فَإِذَا سَکَتَ الْمُؤَذِّنُونَ وَقَامَ عُمَرُ یَخْطُبُ أَنْصَتْنَا فَلَمْ یَتَکَلَّمْ مِنَّا أَحَدٌ۔ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ فَخُرُوجُ الإِمَامِ یَقْطَعُ الصَّلَاۃَ وَکَلَامُہُ یَقْطَعُ الْکَلَامَ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ثعلبہ بن ابی مالک قرظی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک لوگ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جمعہ کے دن ( پہلے سے آ کر ) نماز پڑھتے رہتے تھے ، یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ( خطبہ کے لیے ) باہر تشریف لے آتے ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نکلتے اور منبر پر بیٹھ جاتے اور مؤذن اذانیں دے رہے ہوتے تو ثعلبہ کہتے ہیں کہ ( چونکہ ابھی خطبہ شروع نہ ہوتا تھا اس لیے ) ہم بیٹھے گفتگو کر لیتے تھے ، پھر جب مؤذن خاموش ہو جاتے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر خطبہ دینے لگتے تو ہم خاموش ہو جاتے اور ہم میں سے کوئی بھی گفتگو نہ کرتا ، ( اس حدیث کے راوی ) ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ( دورِ فاروقی میں صحابہ و تابعین کے اس عمل سے ثابت ہوا کہ ) امام کا ( خطبہ کے لیے ) باہر نکلنا ( لوگوں کے ) نماز ( پڑھنے ) کو موقوف کر دے گا اور امام کا ( خطبہ میں ) کلام کرنا ( لوگوں کے ) کلام کو موقوف کر دے گا ۔

231

Muwatta Imam Malik #231

Sahih

[231] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ، عَنْ مَالِکِ بْنِ أَبِی عَامِرٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، کَانَ یَقُولُ فِی خُطْبَتِہِ قَلَّمَا یَدَعُ ذَلِکَ إِذَا خَطَبَ إِذَا قَامَ الإِمَامُ یَخْطُبُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَاسْتَمِعُوا وَأَنْصِتُوا فَإِنَّ لِلْمُنْصِتِ الَّذِی لَا یَسْمَعُ مِنَ الْحَظِّ مِثْلَ مَا لِلْمُنْصِتِ السَّامِعِ فَإِذَا قَامَتِ الصَّلَاۃُ فَاعْدِلُوا الصُّفُوفَ وَحَاذُوا بِالْمَنَاکِبِ فَإِنَّ اعْتِدَالَ الصُّفُوفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاۃِ۔ ثُمَّ لَا یُکَبِّرُ حَتَّی یَأْتِیَہُ رِجَالٌ قَدْ وَکَّلَہُمْ بِتَسْوِیَۃِ الصُّفُوفِ فَیُخْبِرُونَہُ أَنْ قَدِ اسْتَوَتْ فَیُکَبِّرُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

مالک بن ابن عامر رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جب خطبہ دیتے تو اپنے خطبہ میں ( اکثر یہ ) کہا کرتے تھے اور بہت ہی کم ان کلمات کو ترک کرتے ، ( فرماتے : ) جب جمعہ کے دن امام کھڑا ہو کر خطبہ دینے لگے تو توجہ سے کان لگا لیا کرو اور خاموش رہا کرو کیونکہ بلاشبہ اس خاموش رہنے والے کے لیے جو ( بہرے پن کی وجہ سے یا خطیب سے دور ہونے کی وجہ سے اس کی آواز ) نہیں سن پاتا ( اس کے لیے بھی ) اتنا ہی اجر کا حصہ ہے جتنا کہ خاموش رہ کر ( امام کی آواز ) سننے والے کو ملتا ہے ، پھر جب نماز کھڑی ہو ( اور نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے ) تو صفیں ( سیدھی اور ) برابر کر لو اور اپنے کندھوں کو ( بھی ایک دوسرے کی سیدھ میں ) برابر کر لو ، کیونکہ یقیناً صفوں کو برابر کرنا نماز کی تکمیل میں شامل ہے ، پھر ( حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اقامت ہو جانے کے باوجود ) تکبیر تحریمہ نہیں کہتے تھے حتی کہ وہ لوگ جن کو آپ نے صفیں برابر کرنے پر مقرر کیا ہوتا ، وہ آپ کے پاس آ کر بتاتے کہ صفیں برابر ہو گئی ہیں تو پھر وہ تکبیر تحریمہ کہتے ، پھر ( جب ) وہ ان کو یہ بتا دیتے کہ صفیں سیدھی ہو چکی ہیں تو تکبیر تحریمہ کہتے تھے ۔

232

Muwatta Imam Malik #232

Sahih

[232] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰہ بْنَ عُمَرَ، رَأَی رَجُلَیْنِ یَتَحَدَّثَانِ وَالإِمَامُ یَخْطُبُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَحَصَبَہُمَا أَنِ اصْمُتَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دو آدمیوں کو دیکھا کہ وہ آپس میں باتیں کر رہے ہیں اور امام خطبہ دے رہا ہے تو انھوں نے دونوں کو کنکریاں ماریں ، ( تاکہ ) وہ چپ ہو جائیں ۔

233

Muwatta Imam Malik #233

Sahih

[233] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ مَالِکٍ، أَنَّہُ بَلَغَہُ أَنَّ رَجُلاً، عَطَسَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالإِمَامُ یَخْطُبُ فَشَمَّتَہُ إِنْسَانٌ إِلَی جَنْبِہِ فَسَأَلَ عَنْ ذَلِکَ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ فَنَہَاہُ عَنْ ذَلِکَ وَقَالَ لَا تَعُدْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ ایک شخص نے جمعہ کے دن چھینک مار دی ، اس حال میں کہ امام خطبہ دے رہا تھا ، تو اس کے پہلو میں موجود ایک شخص نے اُسے ’’ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ ‘‘ ( اللہ تجھ پر رحم کرے ) کہہ کر دعا دی ، پھر اس نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انھوں نے اُسے اس سے منع کر دیا اور کہا کہ پھر ایسا نہ کرنا ۔

234

Muwatta Imam Malik #234

Sahih

[234] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، أَنَّہُ سَأَلَ ابْنَ شِہَابٍ عَنِ الْکَلَامِ، یَوْمَ الْجُمُعَۃِ إِذَا نَزَلَ الإِمَامُ عَنِ الْمِنْبَرِ، قَبْلَ أَنْ یُکَبِّرَ، ۔ فَقَالَ ابْنُ شِہَابٍ لَا بَأْسَ بِذَلِکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انھوں نے ابن شہاب رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ جمعہ کے دن امام منبر سے نیچے آ چکا ہو تو اس کے تکبیر تحریمہ کہنے سے پہلے گفتگو کرنا کیسا ہے ؟ تو ابن شہاب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔