Muwatta Imam Malik #1851
[1851] عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اسْتَعْمَلَ مَوْلًی لَہُ یُدْعَی ہُنَیًّا عَلَی الْحِمَی، فَقَالَ : یَا ہُنَیُّ، اضْمُمْ جَنَاحَکَ عَنِ النَّاسِ، وَاتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّ دَعْوَۃَ الْمَظْلُومِ مُجَابَۃٌ، وَأَدْخِلْ رَبَّ الصُّرَیْمَۃِ وَرَبَّ الْغُنَیْمَۃِ، وَإِیَّایَ وَنَعَمَ ابْنِ عَوْفٍ وَنَعَمَ ابْنِ عَفَّانَ، فَإِنَّہُمَا إِنْ تَہْلِکْ مَاشِیَتُہُمَا یَرْجِعَا إِلَی نَخْلٍ وَزَرْعٍ، وَإِنَّ رَبَّ الصُّرَیْمَۃِ وَرَبَّ الْغُنَیْمَۃِ إِنْ تَہْلِکْ مَاشِیَتُہُمَا یَأْتِنِی بِبَنِیہِ فَیَقُولُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ! یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ! أَفَتَارِکُہُمْ أَنَا لَا أَبَا لَکَ ؟ فَالْمَائُ وَالْکَلأُ أَیْسَرُ عَلَیَّ مِنَ الذَّہَبِ وَالْوَرِقِ، وَایْمُ اللّٰہِ إِنَّہُمْ لَیَرَوْنَ إنِّی قَدْ ظَلَمْتُہُمْ إِنَّہَا لَبِلَادُہُمْ وَمِیَاہُہُمْ، قَاتَلُوا عَلَیْہَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، وَأَسْلَمُوا عَلَیْہَا فِی الإِسْلَامِ، وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْلَا الْمَالُ الَّذِی أَحْمِلُ عَلَیْہِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، مَا حَمَیْتُ عَلَیْہِمْ مِنْ بِلَادِہِمْ شِبْراً۔
اردو ترجمہ · Urdu
زید بن اسلم رحمہ اللہ اپنے والد ( اسلم رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ بیشک حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک آزاد کردہ غلام جسے ہُنَیّ کہا جاتا تھا ، کو ( بیت المال کے جانوروں کے لیے مخصوص ) چراگاہ پر عامل ( سرکاری نگران ) مقرر کیا ۔ پس انھوں نے فرمایا :’’ اے ہُنَیّ ! لوگوں ( پر ظلم اور سختی کرنے ) سے اپنے بازو کو ( روک کر رکھنا اور اپنے ساتھ ہی ) ملائے رکھنا اور مظلوم کی بددعا سے بچتے رہنا کیونکہ بلاشبہ مظلوم کی دعا ( ضرور ) قبول کی جاتی ہے اور تھوڑے سے ( یعنی تیس ) اونٹوں اور تھوڑی سی ( یعنی چالیس ) بکریوں کے ریوڑ والے کو ( اس چراگاہ میں ) داخل ہونے دینا اور مجھے ( حضرت عثمان ) ابن عفّان اور ( حضرت عبدالرحمن ) ابن عوف رضی اللہ عنہما کے چوپایوں سے بچا کر رکھنا ( ان کے جانوروں کو چراگاہ میں نہ آنے دینا ، وہ مالدار ہیں ، کہیں اور چرا لیں گے ) کیونکہ بلاشبہ اگر ان دونوں کے چوپائے ہلاک ہو جائیں تو وہ مدینہ منورہ کی طرف یعنی اپنی کھیتی کی طرف لوٹ آئیں گے ( جانور ہلاک ہو جانے کی صورت میں ان کی آمدنی کے دوسرے ذرائع موجود ہیں ) اور بلاشبہ جو شخص تیس اونٹوں اور چالیس بکریوں کے ریوڑ والا ہے اگر اس کے چوپائے ہلاک ہو گئے تو وہ میرے پاس اپنے بیٹوں ( اولاد ) کو لے کر آ جائے گا اور کہے گا : اے امیر المؤمنین ! اے امیر المؤمنین ! ( ہمارا کیا بنے گا ، ہماری مدد کرو ) ، تو کیا میں انھیں چھوڑ دوں گا ، تمھارا باپ نہ ہو ( تمھارا ناس ہو ، اس صورت میں مجھے ان کو بیت المال سے سونا اور چاندی دینے پڑیں گے اور اگر ان کے چوپائے ، ہماری چراگاہ میں چرتے رہنے سے زندہ رہیں تو مجھے سونا چاندی خرچ کرنے کے لیے سوچنا نہ پڑے گا ) اور پانی اور گھاس ( کا دینا ) مجھ پر سونے اور چاندی کی نسبت زیادہ آسان ہے ، اور اللہ کی قسم ! بلاشبہ وہ ( بعض لوگ ) سمجھتے ہیں کہ میں نے ( صدقے کے جانوروں کے لیے چراگاہ خاص کر کے ) ان پر ظلم کیا ہے اور ( وہ کہتے ہیں کہ ) بلاشبہ ان کی زمینیں ہیں اور ان کے پانی ہیں ، جن پر وہ جاہلیت میں لڑتے رہے اور اسلام میں انھی ( زمینوں اور پانیوں کی ملکیت ) پر داخل ہوئے ، ( تو اب میرا یہ عمل ان پر گراں ہے حالانکہ میں نے بھی اہل اسلام کی خدمت ہی کے لیے یہ عمل کیا ہے ۔ ) اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر ( جانوروں کی صورت میں یہ ) مال نہ ہوتا جس پر میں اللہ کی راہ میں ( جانے والے مجاہدین کو ) سوار کرتا ہوں تو میں ان کی زمینوں میں سے ایک بالشت برابر جگہ بھی نہ روکتا ۔