Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 46 · Chapter 597

متفرق مسائل کی کتاب

اس صدقے کا بیان جو ( وصول کرنا ) مکروہ ہے

3 hadiths in this chapter

1847

Muwatta Imam Malik #1847

Sahih

[1847] عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : لَا تَحِلُّ الصَّدَقَۃُ لآلِ مُحَمَّدٍ، إِنَّمَا ہِیَ أَوْسَاخُ النَّاسِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آل محمد ( ﷺ ) کے لیے صدقہ حلال نہیں ہے کیونکہ بلاشبہ یہ تو لوگوں کی میل کچیل ہے ۔‘‘

1848

Muwatta Imam Malik #1848

Zaeef

[1848] عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی بَکْرٍ، عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ اسْتَعْمَلَ رَجُلاً مِنْ بَنِی عَبْدِ الأَشْہَلِ عَلَی الصَّدَقَۃِ، فَلَمَّا قَدِمَ سَأَلَہُ إِبِلاً مِنَ الصَّدَقَۃِ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ حَتَّی عُرِفَ الْغَضَبُ فِی وَجْہِہِ، وَکَانَ مِمَّا یُعْرَفُ بِہِ الْغَضَبُ فِی وَجْہِہِ أَنْ تَحْمَرَّ عَیْنَاہُ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ الرَّجُلَ لَیَسْأَلُنِی مَا لَا یَصْلُحُ لِی وَلَا لَہُ، فَإِنْ مَنَعْتُہُ کَرِہْتُ الْمَنْعَ، وَإِنْ أَعْطَیْتُہُ أَعْطَیْتُہُ مَا لَا یَصْلُحُ لِی وَلَا لَہُ فَقَالَ الرَّجُلُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ لَا أَسْأَلُکَ مِنْہَا شَیْئاً أَبَداً۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن ابی بکر رحمہ اللہ اپنے والد ( ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے بنوعبدالاشہل قبیلے میں سے ایک شخص کو زکاۃ ( اکٹھی کرنے ) پر عامل بنا کر بھیجا ۔ چنانچہ جب وہ ( واپس ) آئے تو انھوں نے آپ ﷺ سے ( اپنی اجرت سے زائد ) صدقہ کا ایک اونٹ مانگ لیا تو رسول اللہ ﷺ غضبناک ہو گئے یہاں تک کہ غصہ ( کا اثر ) آپ ﷺ کے چہرہ مبارک میں معلوم ہونے لگا ، اور ان علامتوں کہ جن کے ذریعے آپ ﷺ کے چہرہ انور میں غصہ پہچانا جاتا تھا ، میں سے ایک یہ تھی کہ آپ ﷺ کی دونوں آنکھیں سرخ ہو جاتی تھیں ۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بیشک ایک شخص مجھ سے ایسی چیز مانگتا ہے جو نہ میرے لیے ( اسے دینا ) درست ہے اور نہ اس کے لیے ( اسے لینا درست ہے ) ، چنانچہ اگر میں اسے نہ دوں ( اور روکے رکھوں ) تو میں روک لینے کو بھی ناپسند کرتا ہوں اور اگر اسے دے دوں تو اسے ایسی چیز دوں گا ، جو نہ میرے لیے ( اسے دینا ) درست ہے اور نہ اس کے لیے ‘‘ ( اسے لینا جائز ہے ۔ الغرض اس نے مجھے بھی آزمائش میں ڈال دیا ہے اور وہ مجھے کسی ناپسند معاملے میں واقع کرنے پر تلا ہوا ہے ) ، تو وہ شخص کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! میں آپ سے اس صدقے میں سے کوئی بھی چیز کبھی نہیں مانگوں گا ۔

1849

Muwatta Imam Malik #1849

Sahih

[1849] عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِیہِ، أَ نَّہُ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الأَرْقَمِ : ادْلُلْنِی عَلَی بَعِیرٍ مِنَ الْمَطَایَا أَسْتَحْمِلُ عَلَیْہِ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ۔ فَقُلْتُ : نَعَمْ جَمَلاً مِنَ الصَّدَقَۃِ۔ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الأَرْقَمِ : أَتُحِبُّ أَنَّ رَجُلاً بَادِناً فِی یَوْمٍ حَارٍّ، غَسَلَ لَکَ مَا تَحْتَ إِزَارِہِ وَرُفْغَیْہِ، ثُمَّ أَعْطَاکَہُ فَشَرِبْتَہُ ؟ قَالَ : فَغَضِبْتُ وَقُلْتُ : یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکَ، أَتَقُولُ لِی مِثْلَ ہَذَا ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الأَرْقَمِ : إِنَّمَا الصَّدَقَۃُ أَوْسَاخُ النَّاسِ یَغْسِلُونَہَا عَنْہُمْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

زید بن اسلم رحمہ اللہ اپنے والد ( اسلم رحمہ اللہ مولیٰ عمر رضی اللہ عنہ ) سے روایت کرتے ہیں ، انھوں نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ( مجھ سے ) کہا کہ : مجھے سواریوں میں سے کسی اونٹ کا بتاؤ ( تاکہ ) میں امیرالمؤمنین سے اس پر سواری کرنے کے لیے اسے مانگ لوں ۔ ( اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ) میں نے کہا کہ ٹھیک ہے ، ( میں آپ کو ) صدقے میں سے ایک اونٹ ( کی خبر دیتا ہوں ) ۔ اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ( یہ سن کر ) حضرت عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ ایک موٹے بدن والا شخص ، ایک گرم دن میں تمھارے لیے اپنے ازار کا نیچے والا حصہ ( یعنی شرمگاہ ) اور اپنے چڈے ( رانوں یا سرینوں کی جڑیں جو میل کچیل اور پسینہ جمع ہونے کی جگہیں ہیں ) دھوئے ، پھر وہ اسی ( مَیل والے پانی ) کو تمھیں دے دے ، پھر تم اسے پی لو ۔ اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں غصے میں آ گیا اور میں نے کہا : اللہ آپ کی مغفرت فرمائے ، کیا آپ اس طرح کی بات میرے لیے کر رہے ہیں ؟ ( یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ ) تو حضرت عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : یقیناً صدقہ ( کے مال ) تو لوگوں کی میل کچیل ہی ہوتے ہیں ، جسے وہ خود سے ( اپنے جسم سے ) دھو کر ( اپنی صفائی ) کر رہے ہوتے ہیں ۔