Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 46 · Chapter 596

متفرق مسائل کی کتاب

مانگنے سے بچنے کا بیان

6 hadiths in this chapter

1841

Muwatta Imam Malik #1841

Sahih

[1841] عَنْ أبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، أَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ فَأَعْطَاہُمْ، ثُمَّ سَأَلُوہُ فَأَعْطَاہُمْ، حَتَّی نَفِدَ مَا عِنْدَہُ، ثُمَّ قَالَ : مَا یَکُونُ عِنْدِی مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَہُ عَنْکُمْ، وَمَنْ یَسْتَعْفِفْ یُعِفَّہُ اللَّہُ، وَمَنْ یَسْتَغْنِ یُغْنِہِ اللَّہُ، وَمَنْ یَتَصَبَّرْ یُصَبِّرْہُ اللَّہُ، وَمَا أُعْطِیَ أَحَدٌ عَطَائً ہُوَ خَیْرٌ وَأَوْسَعُ مِنَ الصَّبْرِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ انصار میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا ( کہ ہمیں کچھ عنایت فرمائیے ) آپ ﷺ نے انھیں عطا فرما دیا ، انھوں نے پھر مانگا تو آپ ﷺ نے انھیں دے دیا ۔ تین بار ایسا ہوا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاس جو کچھ ( مال ) تھا وہ ختم ہو گیا ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے پاس جو کوئی بھی مال ہو گا ، میں اسے تم سے ( چھپا کر ) ذخیرہ نہیں کروں گا اور جو کوئی ( عفت و پاکدامنی اختیار کرنا اور ) مانگنے سے بچنا چاہے گا تو اللہ اسے بچا لے گا اور جو کوئی ( مخلوق سے ) بے نیاز بننا چاہے گا تو اللہ اسے بے نیازی عطا فرما دے گا اور جو کوئی صبر کرنا چاہے گا اللہ اسے صبر کی توفیق دے دے گا اور کسی شخص کو کوئی ایسی نعمت عطا نہیں کی گئی جو صبر سے زیادہ بہتر اور زیادہ وسعت والی ہو ۔‘‘

1842

Muwatta Imam Malik #1842

Sahih

[1842] عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ، وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ، وَہُوَ یَذْکُرُ الصَّدَقَۃَ وَالتَّعَفُّفَ عَنِ الْمَسْأَلَۃِ : الْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِنَ الْیَدِ السُّفْلَی، وَالْیَدُ الْعُلْیَا ہِیَ الْمُنْفِقَۃُ، وَالسُّفْلَی ہِیَ السَّائِلَۃُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس حال میں کہ وہ منبر پر تھے اور صدقے کا اور ( لوگوں سے ) مانگنے سے بچے رہنے کا تذکرہ فرما رہے تھے ، ( فرمایا ) :’’ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور اوپر والے ہاتھ سے مراد خرچ کرنے والا اور نیچے والے ہاتھ سے مراد مانگنے والا ہاتھ ہے ۔‘‘

1843

Muwatta Imam Malik #1843

Sahih

[1843] عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ أَرْسَلَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِعَطَائٍ، فَرَدَّہُ عُمَرُ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : لِمَ رَدَدْتَہُ ؟فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ أَلَیْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ خَیْراً لأَحَدِنَا أَنْ لَا یَأْخُذَ مِنْ أَحَدٍ شَیْئاً ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : إِنَّمَا ذَلِکَ عَنِ الْمَسْأَلَۃِ، فَأَمَّا مَا کَانَ مِنْ غَیْرِ مَسْأَلَۃٍ، فَإِنَّمَا ہُوَ رِزْقٌ یَرْزُقُکَہُ اللّٰہُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: أَمَا وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَا أَسْأَلُ أَحَداً شَیْئاً، وَلَا یَأْتِینِی شَیْئٌ مِنْ غَیْرِ مَسْأَلَۃٍ إِلاَّ أَخَذْتُہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ یقیناً رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف ان کا عطیہ ( حقِ خدمت ) بھیجا تو انھوں نے ( ازروئے زُہد ) اسے واپس لوٹا دیا ۔ پس رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا :’’ تم نے اسے کیوں واپس لوٹایا ‘‘؟ تو انھوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ ہی نے ہمیں یہ خبر نہیں دی تھی کہ یقیناً ہم میں سے ( ہر ) کسی کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ کسی سے کچھ نہ لے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بلاشبہ یہ بات تو مانگنے کے متعلق تھی ، رہا وہ مال جو بغیر مانگنے کے ( مل رہا ) ہو تو یقیناً وہ تو ایک ( خاص ) رزق ہے ، جو اللہ تمھیں عطا فرما رہا ہے ۔‘‘ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے : قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں کسی سے کچھ نہ مانگوں گا اور جو کچھ میرے پاس بغیر مانگے آئے گا ، اسے ضرور ضرور لے لوں گا ۔

1844

Muwatta Imam Malik #1844

Sahih

[1844] عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ، لیَأْخُذَ أَحَدُکُمْ حَبْلَہُ فَیَحْتَطِبَ عَلَی ظَہْرِہِ، خَیْرٌ لَہُ مِنْ أَنْ یَأْتِیَ رَجُلاً أَعْطَاہُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہِ، فَیَسْأَلَہُ أَعْطَاہُ أَوْ مَنَعَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یقیناً تم میں سے کوئی شخص اپنی رسی لے لے ، پھر وہ لکڑیاں اکٹھی کر کے اپنی کمر پر اٹھا لائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی آدمی کے پاس آئے ، جسے اللہ نے اپنے فضل میں سے کچھ عطا کر رکھا ہو ، پھر یہ اس سے مانگے ( اور ) وہ اسے دے یا نہ دے ۔‘‘

1845

Muwatta Imam Malik #1845

Sahih

[1845] عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی أَسَدٍ، أَ نَّہُ قَالَ : نَزَلْتُ أَنَا وَأَہْلِی بِبَقِیعِ الْغَرْقَدِ، فَقَالَ لِی أَہْلِی : اذْہَبْ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ فَاسْأَلْہُ لَنَا شَیْئاً نَأْکُلُہُ۔ وَجَعَلُوا یَذْکُرُونَ مِنْ حَاجَتِہِمْ، فَذَہَبْتُ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، فَوَجَدْتُ عِنْدَہُ رَجُلاً یَسْأَلُہُ، وَرَسُولُ اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ : لَا أَجِدُ مَا أُعْطِیکَ فَتَوَلَّی الرَّجُلُ عَنْہُ وَہُوَ مُغْضَبٌ، وَہُوَ یَقُولُ : لَعَمْرِی إِنَّکَ لَتُعْطِی مَنْ شِئْتَ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : إِنَّہُ لَیَغْضَبُ عَلَیَّ أَنْ لَا أَجِدَ مَا أُعْطِیہِ، مَنْ سَأَلَ مِنْکُمْ وَلَہُ أُوقِیَّۃٌ أَوْ عَدْلُہَا، فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافاً قَالَ الأَسَدِیُّ : فَقُلْتُ لَلَقْحَۃٌ لَنَا خَیْرٌ مِنْ أُوقِیَّۃٍ۔ قَالَ مَالِکٌ : وَالأُوقِیَّۃُ أَرْبَعُونَ دِرْہَماً۔ قَالَ : فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْہُ، فَقُدِمَ عَلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ بَعْدَ ذَلِکَ بِشَعِیرٍ وَزَبِیبٍ، فَقَسَمَ لَنَا مِنْہُ حَتَّی أَغْنَانَا اللّٰہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

بنو اسد کے ایک شخص سے روایت ہے ، کہتے ہیں : میں اور میرے گھر والوں نے ( مسجد نبوی ﷺ کے بائیں جانب مدینہ منورہ کے قبرستان ) بقیع غرقد کے پاس پڑاؤ ڈالا تو میرے گھر والے مجھ سے کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور آپ ﷺ سے ہمارے لیے کچھ مانگو جسے ہم کھا سکیں اور وہ شروع ہو گئے اپنی حاجت ( محتاجی ) کا تذکرہ کرنے لگے ۔ چنانچہ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف گیا تو میں نے آپ ﷺ کے پاس ایک شخص کو پایا ، جو آپ ﷺ سے مانگ رہا تھا اور رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے :’’ میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جو تمھیں دوں ( فی الحال کچھ موجود نہیں ہے ) ۔‘‘ تو وہ آدمی اس حال میں آپ ﷺ کے پاس سے جانے کے لیے مڑا ، وہ غصے میں تھا اور کہہ رہا تھا کہ میری عمر کی قسم ! یقیناً آپ جسے چاہتے ہیں اسی کو دیتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بیشک وہ مجھ پر اسی وجہ سے غصہ ہو رہا ہے کہ میں ( اس وقت ) کوئی چیز نہیں پاتا ، جو اسے دے سکوں ۔ ( سن لو ) تم میں سے جو شخص بھی اس حال میں سوال کرے ( اور کچھ مانگے ) کہ اس کے پاس ( اس کی ملکیت میں ) ایک اوقیہ ( چالیس درہم ) یا اس کے برابر ( کوئی مال ) ہو تو یقیناً اس نے اِلْحاف ( اور اصرار ) کرتے ہوئے ( چمٹ کر ) مانگا ( جو کہ ممنوع ہے ) ۔‘‘ وہ اَسَدی صحابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ( اپنے آپ سے ) کہا کہ ( ہمارے پاس تو ایک اونٹنی بھی موجود ہے اور ) یقیناً اونٹنی تو ایک اوقیہ سے بھی بہتر ہے ( لہٰذا ہمارے لیے تو مانگنے کی گنجائش نہیں رہتی ) ۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے ۔ وہ ( اسدی صحابی رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں : پھر میں واپس لوٹ آیا اور آپ ﷺ سے کچھ بھی نہ مانگا ۔ پھر اس کے ( تھوڑی ہی دیر ) بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ جَو اور مُنقّٰی ( خشک میوہ ، کشمش ) آئے تو آپ ﷺ نے اس میں سے ہمارے لیے بھی حصہ نکالا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں غنی ( مالدار اور بے نیاز ) کر دیا ۔

1846

Muwatta Imam Malik #1846

Sahih

[1846] عَنْ مَالِکٍ، عَنِ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَ نَّہُ سَمِعَہُ یَقُولُ : مَا نَقَصَتْ صَدَقَۃٌ مِنْ مَالٍ، وَمَا زَادَ اللّٰہُ عَبْداً بِعَفْوٍ إِلاَّ عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ عَبْدٌ إِلاَّ رَفَعَہُ اللَّہُ۔ قَالَ مَالِکٌ : لَا أَدْرِی أَیُرْفَعُ ہَذَا الْحَدِیثُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ أَمْ لَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ ، علاء بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں ، انھوں نے ان کو یہ فرماتے ہوئے سنا : اللہ کے لیے کیا ہوا کوئی صدقہ کسی مال میں کمی واقع نہیں کرتا ، اور اللہ تعالیٰ بندے کو اس کے معاف کر دینے کی وجہ سے عزت کے علاوہ کسی چیز میں نہیں بڑھاتا اور کسی بندے نے اللہ کے لیے تواضع ( عجز و انکسار ) کو اختیار نہیں کیا کہ جسے اللہ نے بلندی سے نہ نوازا ہو ‘‘… امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا : میں نہیں جانتا کہ وہ ( علاء بن عبدالرحمن رحمہ اللہ ) اس حدیث کو نبی کریم ﷺ سے مرفوع بیان کرتے تھے یا نہیں ۔