Muwatta Imam Malik #1841
[1841] عَنْ أبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، أَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ فَأَعْطَاہُمْ، ثُمَّ سَأَلُوہُ فَأَعْطَاہُمْ، حَتَّی نَفِدَ مَا عِنْدَہُ، ثُمَّ قَالَ : مَا یَکُونُ عِنْدِی مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَہُ عَنْکُمْ، وَمَنْ یَسْتَعْفِفْ یُعِفَّہُ اللَّہُ، وَمَنْ یَسْتَغْنِ یُغْنِہِ اللَّہُ، وَمَنْ یَتَصَبَّرْ یُصَبِّرْہُ اللَّہُ، وَمَا أُعْطِیَ أَحَدٌ عَطَائً ہُوَ خَیْرٌ وَأَوْسَعُ مِنَ الصَّبْرِ۔
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ انصار میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا ( کہ ہمیں کچھ عنایت فرمائیے ) آپ ﷺ نے انھیں عطا فرما دیا ، انھوں نے پھر مانگا تو آپ ﷺ نے انھیں دے دیا ۔ تین بار ایسا ہوا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاس جو کچھ ( مال ) تھا وہ ختم ہو گیا ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے پاس جو کوئی بھی مال ہو گا ، میں اسے تم سے ( چھپا کر ) ذخیرہ نہیں کروں گا اور جو کوئی ( عفت و پاکدامنی اختیار کرنا اور ) مانگنے سے بچنا چاہے گا تو اللہ اسے بچا لے گا اور جو کوئی ( مخلوق سے ) بے نیاز بننا چاہے گا تو اللہ اسے بے نیازی عطا فرما دے گا اور جو کوئی صبر کرنا چاہے گا اللہ اسے صبر کی توفیق دے دے گا اور کسی شخص کو کوئی ایسی نعمت عطا نہیں کی گئی جو صبر سے زیادہ بہتر اور زیادہ وسعت والی ہو ۔‘‘