Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 46 · Chapter 595

متفرق مسائل کی کتاب

صدقہ کرنے کی ترغیب کا بیان

6 hadiths in this chapter

1835

Muwatta Imam Malik #1835

Sahih

[1835] عَنْ أبِی الْحُبَابِ سَعِیدِ بْنِ یَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : مَنْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ مِنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ، وَلَا یَقْبَلُ اللّٰہُ إِلاَّ طَیِّباً، کَانَ إِنَّمَا یَضَعُہَا فِی کَفِّ الرَّحْمَنِ، یُرَبِّیہَا کَمَا یُرَبِّی أَحَدُکُمْ فَلُوَّہُ أَوْ فَصِیلَہُ، حَتَّی تَکُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابوالحباب سعید بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے پاکیزہ ( حلال ) کمائی سے کوئی صدقہ کیا اور اللہ تعالیٰ بھی طیب یعنی پاکیزہ چیز کے علاوہ کچھ قبول نہیں کرتا ۔ تو بلاشبہ وہ شخص اسے رحمان کی ہتھیلی میں رکھ دیتا ہے ، ( پھر ) وہ ( اللہ ) اسے یوں پالتا ( اور بڑھاتا ) ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھوڑی کے بچے کو یا اپنی اونٹنی کے بچے کو پالتا ہے ، یہاں تک کہ وہ ( صدقہ ایک ) پہاڑ کی طرح ہو جاتا ہے ۔‘‘

1836

Muwatta Imam Malik #1836

Sahih

[1836] اَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ : کَانَ أَبُوطَلْحَۃَ أَکْثَرَ أَنْصَارِیٍّ بِالْمَدِینَۃِ مَالاً مِنْ نَخْلٍ، وَکَانَ أَحَبُّ أَمْوَالِہِ إِلَیْہِ بَیْرُحَائَ، وَکَانَتْ مُسْتَقْبِلَۃَ الْمَسْجِدِ، وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ یَدْخُلُہَا وَیَشْرَبُ مِنْ مَائٍ فِیہَا طَیِّبٍ، قَالَ أَنَسٌ : فَلَمَّا أُنْزِلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ : {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ} [آل عمران : 92] قَامَ أَبُو طَلْحَۃَ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ إِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی یَقُولُ : {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ} وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِی إِلَیَّ بَیْرُحَائَ، وَإِنَّہَا صَدَقَۃٌ لِلَّہِ أَرْجُو بِرَّہَا وَذُخْرَہَا عِنْدَ اللّٰہِ، فَضَعْہَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ حَیْثُ شِئْتَ۔ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : بَخْ، ذَلِکَ مَالٌ رَابِحٌ، ذَلِکَ مَالٌ رَابِحٌ، وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ فِیہِ، وَإِنِّی أَرَی أَنْ تَجْعَلَہَا فِی الْأَقْرَبِینَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَۃَ : أَفْعَلُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، فَقَسَمَہَا أَبُو طَلْحَۃَ فِی أَقَارِبِہِ وَبَنِی عَمِّہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں : ( ان کے سوتیلے والد ) حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں کھجوروں کے درختوں کے اعتبار سے تمام انصار صحابہ رضی اللہ عنہم میں سب سے زیادہ مالدار تھے اور ان کے نزدیک ان کے تمام اموال ( باغات ) میں سب سے زیادہ محبوب ’’ بَیْرُحَاء ‘‘ ( نامی باغ ) تھا اور وہ مسجد نبوی کے ( بالکل ) سامنے تھا ۔ رسول اللہ ﷺ اس میں داخل ہوا کرتے تھے اور اس میں موجود عمدہ ( ٹھنڈا و میٹھا ) پانی نوش فرمایا کرتے تھے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی : {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} ( آل عمران 92 : 3 ) ’’ تم ہرگز نیکی کو نہیں پا سکتے یہاں تک کہ اس میں سے خرچ کرو جس سے تم محبت رکھتے ہو ۔‘‘ تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی طرف اٹھ ( کر چلے ) گئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں : {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} ( آل عمران 92 : 3 ) اور یقیناً میرے تمام مالوں میں میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ مال ’’ بَیْرُحاء ‘‘ ہے اور بلاشبہ وہ ( اب میری طرف سے ) اللہ کے لیے صدقہ ہے ، میں اس کی نیکی ( اور خیر و بھلائی ) اور اللہ کے ہاں ذخیرہ ہو جانے کی امید رکھتا ہوں ۔ لہٰذا اے اللہ کے رسول ! آپ جہاں چاہیں اسے رکھ دیجیے ( خرچ کر دیجیے ) ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ واہ بھئی واہ ! یہ تو نفع بخش مال ہے ، یہ تو نفع بخش مال ہے ۔ تم نے اس کے متعلق جو کچھ کہا ، وہ میں نے سن لیا ہے اور بلاشبہ میں یہ ( زیادہ بہتر ) سمجھتا ہوں کہ تم اسے اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دو ۔‘‘ تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! میں ( ایسے ہی ) کر دیتا ہوں ۔ چنانچہ حضرت ابوطلحہ نے اسے اپنے رشتہ داروں اور اپنے چچا کے بیٹوں کے درمیان تقسیم کر دیا ۔

1837

Muwatta Imam Malik #1837

Zaeef

[1837] عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : أَعْطُوا السَّائِلَ وَإِنْ جَائَ عَلَی فَرَسٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

زید بن اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سائل ( مانگنے والے ) کو دیا کرو اور خواہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے ۔‘‘

1838

Muwatta Imam Malik #1838

Sahih

[1838] عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ الأَشْہَلِیِّ الْأَنْصَاری، عَنْ جَدَّتِہِ أَ نَّہَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : یَا نِسَائَ الْمُؤْمِنَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ إِحْدَاکُنَّ لِجَارَتِہَا، وَلَوْ کُرَاعَ شَاۃٍ مُحْرَقاً۔

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن معاذ ( بن سعد بن معاذ ) اشہلی انصاری رحمہ اللہ نے اپنی دادی ( حواء بنت یزید بن سکن رحمۃ اللہ علیہما ) سے روایت کیا ، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اے مومن عورتو ! تم میں سے کوئی بھی اپنی پڑوسن کے لیے ( ہدیہ بھیجنا ) حقیر نہ جانے ، اگرچہ وہ بکری کا جلا ہوا کھر ہو ۔‘‘

1839

Muwatta Imam Malik #1839

Zaeef

[1839] عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، أَنَّ مِسْکِیناً سَأَلَہَا وَہِیَ صَائِمَۃٌ، وَلَیْسَ فِی بَیْتِہَا إِلاَّ رَغِیفٌ، فَقَالَتْ لِمَوْلَاۃٍ لَہَا : أَعْطِیہِ إِیَّاہُ۔ فَقَالَتْ : لَیْسَ لَکِ مَا تُفْطِرِینَ عَلَیْہِ۔ فَقَالَتْ : أَعْطِیہِ إِیَّاہُ۔ قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، قَالَتْ : فَلَمَّا أَمْسَیْنَا أَہْدَی لَنَا أَہْلُ بَیْتٍ، أَوْ إِنْسَانٌ مَا کَانَ یُہْدِی لَنَا، شَاۃً وَکَفَنَہَا، فَدَعَتْنِی عَائِشَۃُ أُمُّ الْمُؤْمِنِینَ فَقَالَتْ : کُلِی مِنْ ہَذَا ہَذَا خَیْرٌ مِنْ قُرْصِکِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ پیغمبر ﷺ کے متعلق یہ خبر پہنچی کہ بیشک ایک مسکین نے ان سے ( کچھ مانگا ) وہ اس وقت روزے سے تھیں اور گھر میں ایک روٹی کے سوا کچھ نہ تھا ، پھر ( بھی ) انھوں نے اپنی آزاد کردہ باندی سے فرمایا کہ اسے وہ ( روٹی ) دے دو ۔ وہ کہنے لگی کہ آپ کے پاس کوئی ( اور ) چیز نہیں ہے جس سے آپ روزہ افطار کر سکیں تو انھوں نے فرمایا : تم اسے وہ دے دو ۔ اس لونڈی نے کہا کہ میں نے ایسا ہی کیا ۔ وہ کہتی ہے : جب ہم نے شام کی تو ہم کو کسی گھر والوں نے یا ( کہا کہ ) کسی شخص جو ( اس سے قبل ) ہمیں ہدیہ نہیں دیا کرتے تھے ، نے بکری اور وہ بھی پکی ہوئی ، ہدیے میں بھیج دی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بلایا اور فرمایا : اس میں سے تم بھی کھاؤ ۔ یہ تیری اس ( صدقہ میں دی ہوئی ) روٹی سے بہتر ہے ۔‘‘

1840

Muwatta Imam Malik #1840

Zaeef

[1840] عَنْ مَالِکٍ قَالَ : بَلَغَنِی أَنَّ مِسْکِیناً اسْتَطْعَمَ عَائِشَۃَ أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ، وَبَیْنَ یَدَیْہَا عِنَبٌ، فَقَالَتْ لإِنْسَانٍ خُذْ حَبَّۃً فَأَعْطِہِ إِیَّاہَا، فَجَعَلَ یَنْظُرُ إِلَیْہَا وَیَعْجَبُ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : أَتَعْجَبُ ؟ کَمْ تَرَی فِی ہَذِہِ الْحَبَّۃِ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّۃٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک ایک مسکین نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ پیغمبر ﷺ سے کھانا مانگا ، اس حال میں کہ ان کے سامنے انگور پڑے ہوئے تھے تو انھوں نے کسی شخص سے کہا : انگور کا ایک دانہ لو اور اس مسکین کو وہ دے آؤ تو وہ شخص ( حیرت سے ) انھیں دیکھنے لگا اور تعجب کرنے لگا ( کہ بھلا ایک دانہ بھی صدقہ میں دیا جاتا ہے ) تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کیا تو تعجب کر رہا ہے ، تم اس دانے میں کس قدر ذرات دیکھ رہے ہو ۔