Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 46 · Chapter 590

متفرق مسائل کی کتاب

چند مخصوص افراد کے عمل کی پاداش میں سب عوام پرعذاب مسلط ہونے کا بیان

2 hadiths in this chapter

1826

Muwatta Imam Malik #1826

Zaeef

[1826] عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ أَ نَہْلِکُ وَفِینَا الصَّالِحُونَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : نَعَمْ إِذَا کَثُرَ الْخَبَثُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا زوجہ پیغمبر ﷺ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! کیا ہم اس حال میں ہلاک ہو سکتے ہیں کہ ہمارے اندر نیک لوگ بھی موجود ہوں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، جب برائی ( یا زنا ) زیادہ ہو جائے ۔‘‘

1827

Muwatta Imam Malik #1827

Sahih

[1827] عَنْ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ یَقُولُ : کَانَ یُقَالُ إِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لَا یُعَذِّبُ الْعَامَّۃَ بِذَنْبِ الْخَاصَّۃِ، وَلَکِنْ إِذَا عُمِلَ الْمُنْکَرُ جِہَاراً اسْتَحَقُّوا الْعُقُوبَۃَ کُلُّہُمْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں : یہ تو کہا جاتا ہے کہ بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ خاص لوگوں کے گناہ کے سبب عام لوگوں کو عذاب میں مبتلا نہیں کرتا ، لیکن جب برائی کھلم کھلا کی جانے لگے تو وہ سب کے سب سزا کے مستحق بن جاتے ہیں ۔