Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 46 · Chapter 588

متفرق مسائل کی کتاب

سچ اور جھوٹ کا بیان

5 hadiths in this chapter

1819

Muwatta Imam Malik #1819

Zaeef

[1819] عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَیْمٍ، أَنَّ رَجُلاً قَالَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ﷺ : أَکْذِبُ امْرَأَتِی یَا رَسُولَ اللّٰہِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : لَا خَیْرَ فِی الْکَذِبِ فَقَالَ الرَّجُلُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، أَعِدُہَا وَأَقُولُ لَہَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : لَا جُنَاحَ عَلَیْکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

صفوان بن سلیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : کیا میں اپنی بیوی سے جھوٹ بول سکتا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جھوٹ میں کوئی خیر نہیں ہے ۔‘‘ وہ آدمی کہنے لگا : کیا میں اس سے ( خالی ) وعدہ کر سکتا ہوں اور اس سے کہہ سکتا ہوں ( کہ تیرے لیے یہ کروں گا اور وہ کروں گا ) ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ( ایسا کرنے میں ) تجھ پر کوئی گناہ نہ ہو گا ۔‘‘

1820

Muwatta Imam Malik #1820

Zaeef

[1820] عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُودٍ کَانَ یَقُولُ : عَلَیْکُمْ بِالصِّدْقِ، فَإِنَّ الصِّدْقَ یَہْدِی إِلَی الْبِرِّ، وَالْبِرَّ یَہْدِی إِلَی الْجَنَّۃِ، وَإِیَّاکُمْ وَالْکَذِبَ، فَإِنَّ الْکَذِبَ یَہْدِی إِلَی الْفُجُورِ، وَالْفُجُورَ یَہْدِی إِلَی النَّارِ، أَلَا تَرَی أَنَّہُ یُقَالُ : صَدَقَ وَبَرَّ، وَکَذَبَ وَفَجَرَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے :’’ سچ کو لازم پکڑو ، کیونکہ بلاشبہ سچ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے اور خود کو جھوٹ سے بچاؤ کیونکہ یقیناً جھوٹ برائی کی راہ دکھاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف لے جاتی ہے ۔ کیا تم نے دیکھا ( سنا ) نہیں کہ یہ کہا جانے لگتا ہے کہ اس ( فلاں ) نے سچ کہا اور نیکی کی اور ( فلاں نے ) جھوٹ بولا اور برائی کی ۔

1821

Muwatta Imam Malik #1821

Sahih

[1821] عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَ نَّہُ قِیلَ لِلُقْمَانَ : مَا بَلَغَ بِکَ مَا نَرَی ؟ یُرِیدُونَ الْفَضْلَ۔ فَقَالَ لُقْمَانُ : صِدْقُ الْحَدِیثِ، وَأَدَائُ الْأَمَانَۃِ، وَتَرْکُ مَا لَا یَعْنِینِی۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ لقمان حکیم سے کہا گیا : آپ کو اس مقام تک کس چیز نے پہنچایا ہے جہاں ہم آپ کو دیکھ رہے ہیں ؟ وہ فضل ( فضیلت و بزرگی کا حصول ) مراد لے رہے تھے تو لقمان رحمہ اللہ نے کہا : بات کی سچائی نے ، امانت کی ادائیگی نے اور ہر اس چیز ( بات ، کام ، سوچ ) کو چھوڑ دینے نے جو لا تیعنی اور بے مقصد ہو ۔

1822

Muwatta Imam Malik #1822

Zaeef

[1822] عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُودٍ کَانَ یَقُولُ : لَا یَزَالُ الْعَبْدُ یَکْذِبُ، وَتُنْکَتُ فِی قَلْبِہِ نُکْتَۃٌ سَوْدَائُ حَتَّی یَسْوَدَّ قَلْبُہُ کُلُّہُ، فَیُکْتَبَ عِنْدَ اللّٰہِ مِنَ الْکَاذِبِینَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : آدمی مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے اور اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے جو ( مسلسل بڑھتا رہتا ہے ) یہاں تک کہ اس کا ( سارا ) دل سیاہ ہو جاتا ہے ، چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں جھوٹوں میں سے لکھ دیا جاتا ہے ۔

1823

Muwatta Imam Malik #1823

Zaeef

[1823] عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَیْمٍ، أَ نَّہُ قَالَ : قِیلَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ﷺ : أَیَکُونُ الْمُؤْمِنُ جَبَاناً ؟ فَقَالَ :نَعَمْ ؟فَقِیلَ لَہُ : أَیَکُونُ الْمُؤْمِنُ بَخِیلاً ؟ فَقَالَ: نَعَمْ فَقِیلَ لَہُ : أَیَکُونُ الْمُؤْمِنُ کَذَّاباً ؟ فَقَالَ : لَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

صفوان بن سلیم رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے کہا گیا : کیا مومن بزدل ہو سکتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ پھر آپ ﷺ سے کہا گیا : کیا مومن بخیل ہو سکتا ہے ؟ فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ پھر آپ ﷺ سے پوچھا گیا : کیا مومن جھوٹا ہو سکتا ہے ؟ فرمایا :’’ نہیں ۔‘‘