Muwatta Imam Malik #1817
[1817] عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِینَارٍ، قَالَ : کُنْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ عِنْدَ دَارِ خَالِدِ بْنِ عُقْبَۃَ الَّتِی بِالسُّوقِ، فَجَائَ رَجُلٌ یُرِیدُ أَنْ یُنَاجِیَہُ وَلَیْسَ مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ أَحَدٌ غَیْرِی وَغَیْرُ الرَّجُلِ الَّذِی یُرِیدُ أَنْ یُنَاجِیَہُ، فَدَعَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ رَجُلاً آخَرَ، حَتَّی کُنَّا أَرْبَعَۃً، فَقَالَ لِی وَلِلرَّجُلِ الَّذِی دَعَاہُ : اسْتَأْخِرَا شَیْئاً، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ : لَا یَتَنَاجَی اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ۔
اردو ترجمہ · Urdu
عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں : میں اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ، حضرت خالد بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے جو کہ بازار میں تھا ، ان ( حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ) کے پاس ایک آدمی آیا جو ان کے ساتھ سرگوشی کرنا چاہتا تھا ۔ اس وقت حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ میرے سوا اور اس ( آنے والے ) شخص جو ان سے سرگوشی کرنے کا ارادہ رکھتا تھا ، کے سوا کوئی نہ تھا ، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک اور آدمی کو بلا لیا ، یہاں تک کہ ہم چار افراد ہو گئے ، پھر انھوں نے مجھے اور اس شخص جسے انھوں نے بلایا تھا ، سے فرمایا : تھوڑا سا پیچھے ہٹ جاؤ ( اتنی دور کہ ہماری سرگوشی نہ سن پاؤ ) ۔ کیونکہ بلاشبہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا :’’ ایک کو چھوڑ کر ( باقی ) دو آدمی آپس میں سرگوشی نہ کریں اور وہ دونوں اس کو ( تنہا نہ ) چھوڑیں ، ( کیونکہ بلاشبہ یہ ( عمل ) اس کو غم میں ڈال دے گا ) ۔‘‘