Muwatta Imam Malik #1809
[1809] عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِیِّ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ :إِنَّ الرَّجُلَ لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِ مِنْ رِضْوَانِ اللّٰہِ، مَا کَانَ یَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ، یَکْتُبُ اللّٰہُ لَہُ بِہَا رِضْوَانَہُ إِلَی یَوْمِ یَلْقَاہُ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلَمِۃِ مِنْ سَخَطِ اللّٰہِ، مَا کَانَ یَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ، یَکْتُبُ اللّٰہُ لَہُ بِہَا سَخَطَہُ إِلَی یَوْمِ یَلْقَاہُ۔
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یقیناً آدمی اللہ کی رضامندی سے ( تعلق رکھنے والا ) کوئی ایسا کلمہ ( لفظ یا جملہ ) کہہ دیتا ہے کہ وہ یہ گمان بھی نہیں کر رہا ہوتا کہ وہ اس مقام ( و مرتبے ) تک پہنچ جائے گا جہاں تک وہ پہنچ چکا ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس ( کلمے ) کی وجہ سے اس کے لیے اپنی رضامندی اس دن تک ( کے لیے ) لکھ دیتے ہیں ، جس میں وہ ( بندہ ) اس سے ملاقات کرے گا ( یعنی قیامت تک کے لیے اس پر خوش ہو جاتا ہے ) اور یقیناً آدمی ( بعض اوقات ) اللہ کی ناراضی سے ( تعلق رکھنے والی ) کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے کہ وہ یہ گمان بھی نہیں کر رہا ہوتا کہ وہ اس جگہ تک پہنچ جائے گی جہاں تک وہ پہنچ چکی ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس ( بات ) کی وجہ سے اس دن تک اپنی ناراضی لکھ دیتے ہیں جس میں وہ اس سے ملاقات کرے گا ۔‘‘