Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 46 · Chapter 583

متفرق مسائل کی کتاب

گفتگو میں حفاظت و احتیاط کا حکم

2 hadiths in this chapter

1809

Muwatta Imam Malik #1809

Sahih

[1809] عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِیِّ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ :إِنَّ الرَّجُلَ لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِ مِنْ رِضْوَانِ اللّٰہِ، مَا کَانَ یَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ، یَکْتُبُ اللّٰہُ لَہُ بِہَا رِضْوَانَہُ إِلَی یَوْمِ یَلْقَاہُ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلَمِۃِ مِنْ سَخَطِ اللّٰہِ، مَا کَانَ یَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ، یَکْتُبُ اللّٰہُ لَہُ بِہَا سَخَطَہُ إِلَی یَوْمِ یَلْقَاہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یقیناً آدمی اللہ کی رضامندی سے ( تعلق رکھنے والا ) کوئی ایسا کلمہ ( لفظ یا جملہ ) کہہ دیتا ہے کہ وہ یہ گمان بھی نہیں کر رہا ہوتا کہ وہ اس مقام ( و مرتبے ) تک پہنچ جائے گا جہاں تک وہ پہنچ چکا ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس ( کلمے ) کی وجہ سے اس کے لیے اپنی رضامندی اس دن تک ( کے لیے ) لکھ دیتے ہیں ، جس میں وہ ( بندہ ) اس سے ملاقات کرے گا ( یعنی قیامت تک کے لیے اس پر خوش ہو جاتا ہے ) اور یقیناً آدمی ( بعض اوقات ) اللہ کی ناراضی سے ( تعلق رکھنے والی ) کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے کہ وہ یہ گمان بھی نہیں کر رہا ہوتا کہ وہ اس جگہ تک پہنچ جائے گی جہاں تک وہ پہنچ چکی ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس ( بات ) کی وجہ سے اس دن تک اپنی ناراضی لکھ دیتے ہیں جس میں وہ اس سے ملاقات کرے گا ۔‘‘

1810

Muwatta Imam Malik #1810

Sahih

[1810] عَنْ أبِی صَالِحٍ السَّمَّانِ، أَ نَّہُ أَخْبَرَہُ، أَنَّ أَ بَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ : إِنَّ الرَّجُلَ لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِ مَا یُلْقِی لَہَا بَالاً، یَہْوِی بِہَا فِی نَارِ جَہَنَّمَ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلَمَۃِ مَا یُلْقِی لَہَا بَالاً، یَرْفَعُہُ اللّٰہُ بِہَا فِی الْجَنَّۃِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے فرمایا : بے شک آدمی ( بعض اوقات ) ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کو وہ کوئی اہمیت نہیں دے رہا ہوتا ( لیکن ) وہ اس کی وجہ سے جہنم کی آگ میں جا گرتا ہے اور بے شک آدمی ( کبھی کبھار ) ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کو وہ کوئی اہمیت نہیں دے رہا ہوتا ( لیکن ) اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اسے جنت میں بلند مقام عطا فرما دیتے ہیں ۔