Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 46 · Chapter 581

متفرق مسائل کی کتاب

بیعت کا بیان

3 hadiths in this chapter

1802

Muwatta Imam Malik #1802

Sahih

[1802] عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِینَارٍ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ قَالَ : کُنَّا إِذَا بَایَعْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ، یَقُولُ لَنَا رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : فِیمَا اسْتَطَعْتُمْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ ہم جب رسول اللہ ﷺ کی سمع و طاعت ( بات سننے اور حکم کی تعمیل کرنے کے عہد ) پر بیعت کرتے تو رسول اللہ ﷺ ہم سے فرماتے :’’ تمھاری طاقت کے مطابق ۔‘‘

1803

Muwatta Imam Malik #1803

Sahih

[1803] عَنْ أُمَیْمَۃَ بِنْتِ رُقَیْقَۃَ، أَ نَّہَا قَالَتْ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ فِی نِسْوَۃٍ بَایَعْنَہُ عَلَی الإِسْلَامِ، فَقُلْنَ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ نُبَایِعُکَ عَلَی أَنْ لَا نُشْرِکَ بِاللّٰہِ شَیْئاً، وَلَا نَسْرِقَ، وَلَا نَزْنِیَ، وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا، وَلَا نَأْتِیَ بِبُہْتَانٍ نَفْتَرِیہِ بَیْنَ أَیْدِینَا وَأَرْجُلِنَا، وَلَا نَعْصِیَکَ فِی مَعْرُوفٍ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ :فِیمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ۔ قَالَتْ : فَقُلْنَ : اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَرْحَمُ بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا، ہَلُمَّ نُبَایِعْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : إنِّی لَا أُصَافِحُ النِّسَائَ، إِنَّمَا قَوْلِی لِمِئَۃِ امْرَأَۃٍ، کَقَوْلِی لاِمْرَأَۃٍ وَاحِدَۃٍ، أَوْ مِثْلِ قَوْلِی لاِمْرَأَۃٍ وَاحِدَۃٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، کہتی ہیں کہ میں کچھ عورتوں میں ( شامل ہو کر ) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی جو اسلام پر آپ ﷺ سے بیعت کرنا چاہتی تھیں ۔ وہ سب آپ ﷺ سے عرض کرنے لگیں کہ : اے اللہ کے رسول ! ہم آپ ﷺ سے اس بات پر بیعت کرتی ہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں گی ، نہ ہم چوری کریں گی ، نہ زنا کریں گی ، نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی ، نہ ( کسی پر ) کوئی ایسا بہتان لگائیں گی جسے ہم اپنے ہاتھوں اور اپنے پاؤں کے درمیان سے گھڑتی ہوں ( اور خود اپنی طرف سے بنا لیتی ہوں ) اور نہ ہی ہم کسی بھی نیکی کے کام میں آپ کی نافرمانی کریں گی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس قدر کہ جو تم استطاعت رکھتی ہو ۔‘‘ حضرت امیمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ ( صحابیات ) کہنے لگی : اللہ اور اس کے رسول ہم سے بڑھ کر ہمارے ساتھ رحم ( اور شفقت و مہربانی ) فرمانے والے ہیں ۔ اے اللہ کے رسول ! ( اپنا ہاتھ ) لائیے ( تاکہ ) ہم آپ سے بیعت کر لیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یقیناً میں عورتوں سے ہاتھ نہیں ملایا کرتا ۔ بلاشبہ ایک صد عورتوں سے میرا کلام کر لینا ایسے ہی ہے جیسے میں ایک عورت سے کلام کر لوں ۔‘‘

1804

Muwatta Imam Malik #1804

Sahih

[1804] عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِینَارٍ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَتَبَ إِلَی عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ یُبَایِعُہُ، فَکَتَبَ إِلَیْہِ : بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ۔ أَمَّا بَعْدُ، لِعَبْدِ اللّٰہِ عَبْدِ الْمَلِکِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، سَلَامٌ عَلَیْکَ، فَإِنِّی أَحْمَدُ إِلَیْکَ اللّٰہَ الَّذِی لَا إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ، وَأُقِرُّ لَکَ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ، عَلَی سُنَّۃِ اللّٰہِ وَسُنَّۃِ رَسُولِہِ، فِیمَا اسْتَطَعْتُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن دینار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ( حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی شہادت کے بعد جب تمام سلطنت اسلامیہ امیر شام کی طرف منتقل ہو گئی تو خلیفہ وقت ) عبدالملک بن مروان رحمہ اللہ کی طرف ( ایک بیعت نامہ ) لکھا ( جس میں ) وہ ان سے بیعت کر رہے تھے ۔ چنانچہ انھوں نے لکھا : بسم اللہ الرحمن الرحیم ، اَمَّا بَعْدُ ! ( یہ بیعت نامہ ) امیر المؤمنین عبدالملک بن مروان رحمہ اللہ کے نام سے ، آپ پر سلامتی نازل ہو ۔ یقیناً میں آپ کے روبرو اس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور میں اللہ کی سنت ( حکم ) کے مطابق اور اس کے رسول کی سنت ( ہدایت ) کے موافق ، اپنی استطاعت کے مطابق آپ کے لیے ( آپ کی بات ) سننے اور اطاعت کرنے کا اقرار کرتا ہوں ۔