Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 46 · Chapter 579

متفرق مسائل کی کتاب

غلام لونڈی کے ساتھ نرمی کرنے کا حکم

3 hadiths in this chapter

1797

Muwatta Imam Malik #1797

Sahih

[1797] اَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : لِلْمَمْلُوکِ طَعَامُہُ وَکِسْوَتُہُ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَا یُکَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ إِلاَّ مَا یُطِیقُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ غلام کے لیے اس کا کھانا اور کپڑے پہنانا معروف طریقے کے مطابق ( مالک کے ذمے ) ہے اور اسے کسی کام کی تکلیف نہ دی جائے مگر صرف اس کی کہ جس کی وہ طاقت رکھتا ہو ۔‘‘

1798

Muwatta Imam Malik #1798

Zaeef

[1798] مَالِکٌ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ یَذْہَبُ إِلَی الْعَوَالِی کُلَّ یَوْمِ سَبْتٍ، فَإِذَا وَجَدَ عَبْداً فِی عَمَلٍ لَا یُطِیقُہُ، وَضَعَ عَنْہُ مِنْہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بیشک حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہر ہفتے کے دن عوالی ( مدینہ منورہ کے بالائی حصوں کی بستیوں ) کی طرف جاتے تھے ۔ چنانچہ جب وہ کسی غلام کو کسی ایسے کام میں پاتے جس کی وہ طاقت نہ پا رہا ہوتا تو اس ( غلام ) سے اس ( کام ) میں کچھ تخفیف کر دیتے ۔

1799

Muwatta Imam Malik #1799

Sahih

[1799] مَالِکٌ، عَنْ عَمِّہِ أبِی سُہَیْلِ بْنِ مَالِکٍ، عَنْ أَبِیہِ، أَ نَّہُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَہُوَ یَخْطُبُ وَہُوَ یَقُولُ : لَا تُکَلِّفُوا الأَمَۃَ غَیْرَ ذَاتِ الصَّنْعَۃِ الْکَسْبَ, فَإِنَّکُمْ مَتَی کَلَّفْتُمُوہَا ذَلِکَ کَسَبَتْ بِفَرْجِہَا، وَلَا تُکَلِّفُوا الصَّغِیرَ الْکَسْبَ، فَإِنَّہُ إِذَا لَمْ یَجِدْ سَرَقَ، وَعِفُّوا إِذْ أَعَفَّکُمُ اللَّہُ، وَعَلَیْکُمْ مِنَ الْمَطَاعِمِ بِمَا طَابَ مِنْہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ اپنے چچا ابوسہیل بن مالک رحمہ اللہ سے اور وہ اپنے والد ( مالک بن ابی عامر اصبحی رحمہ اللہ ) سے روایت کرتے ہیں ، انھوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو سنا ، اس حال میں کہ وہ خطبہ دے رہے تھے اور فرما رہے تھے : وہ لونڈی جو کسی کاریگری ( اور ہنر کو جاننے ) والی نہ ہو ، اسے کمائی کا پابند نہ کرو ( کچھ کما کر لانے پر مجبور نہ کرو ) کیونکہ بلاشبہ جب بھی تم اسے اس ( کمائی ) کا پابند کرو گے ، وہ اپنی شرمگاہ سے ( عزت کو بیچ کر یعنی زنا کے ذریعے ) کمائی کرے گی ، اور نہ ہی تم چھوٹے بچے کو کما کر لانے پر مجبور کرو کیونکہ یقیناً وہ جب کچھ نہ پائے گا تو چوری کرے گا ۔ اور تم عفت اختیار کرو ( ایسی لونڈی اور غلام بچے کو مجبور کرنے اور ان پر مشقت ڈالنے سے بچتے رہو ) جس وقت کہ اللہ نے تمھیں ( وسعتِ رزق عطا فرما کر ہاتھ پھیلانے اور مانگنے سے ) عفت و پاکدامنی عطا فرمائی ہو اور تم انھی کھانوں کو لازم پکڑو جو ان میں سے حلال اور پاکیزہ ہیں ( یعنی صرف حلال کمائی کی جستجو کرو اور حلال ہی استعمال کرو ) ۔