Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 46 · Chapter 578

متفرق مسائل کی کتاب

اُن اعمال کا بیان جنھیں سفر میں کرنے کا حکم ہے

2 hadiths in this chapter

1795

Muwatta Imam Malik #1795

Sahih

[1795] عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ یَرْفَعُہُ : إِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی رَفِیقٌ یُحِبُّ الرِّفْقَ، وَیَرْضَی بِہِ، وَیُعِینُ عَلَیْہِ مَا لَا یُعِینُ عَلَی الْعُنْفِ، فَإِذَا رَکِبْتُمْ ہَذِہِ الدَّوَابَّ الْعُجْمَ، فَأَنْزِلُوہَا مَنَازِلَہَا، فَإِنْ کَانَتِ الأَرْضُ جَدْبَۃً فَانْجُوا عَلَیْہَا بِنِقْیِہَا، وَعَلَیْکُمْ بِسَیْرِ اللَّیْلِ، فَإِنَّ الأَرْضَ تُطْوَی بِاللَّیْلِ مَا لَا تُطْوَی بِالنَّہَارِ، وَإِیَّاکُمْ وَالتَّعْرِیسَ عَلَی الطَّرِیقِ، فَإِنَّہَا طُرُقُ الدَّوَابِّ، وَمَأْوَی الْحَیَّاتِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

خالد بن معدان رحمہ اللہ سے روایت ہے ، وہ اسے مرفوع ( یعنی رسول اللہ ﷺ سے ) بیان کرتے ہیں کہ بلاشبہ اللہ تبارک و تعالیٰ نرم خُو ہیں اور نرم روی کو پسند کرتے ہیں ، اس سے راضی ہوتے ہیں اور اس پر ( نرمی اختیار کرنے میں ) ایسی مدد فرماتے ہیں کہ سختی کرنے پر وہ ایسی مدد نہیں کرتے ۔ جب تم ان بے زبان جانوروں پر سواری کرو تو انھیں ان کے پڑاؤ کی جگہوں پر اتارا کرو ( جو جگہیں عموماً ان کے آرام کے لیے تیار کی گئی ہوں ، وہاں انھیں آرام کا موقع دیا کرو اور کھلاتے پلاتے رہا کرو ) ، پھر اگر زمین قحط زدہ ہو تو ان کی بیخ ( بچاتے ہوئے ) ان پر جلدی کیا کرو ( قحط زدہ اور بے آب و گیاہ علاقے سے جلدی جلدی گزر جاؤ ، وہاں اتنا وقت نہ لگاؤ کہ جانوروں کی چربی اور مخ ہی ختم ہو جائے کیونکہ جب کھانے پینے کو نہیں ملتا تو یہی چربی وغیرہ توانائی میں استعمال ہونے لگتی ہے اور اگر یہ بھی ختم ہو جائے تو جانور بھی مر جائیں گے اور پھر تمھاری جان کے بھی لالے پڑ جائیں گے ) اور رات کے سفر کو لازم پکڑو کیونکہ بلاشبہ زمین رات کے وقت لپیٹ دی جاتی ہے ۔ جو کہ دن کے وقت نہیں لپیٹی جاتی اور راستے کے بیچ میں رات کے وقت پڑاؤ ڈالنے سے بچو کیونکہ بلاشبہ وہ ( راہیں رات کے وقت ) جانوروں کی گزر گاہیں اور سانپوں کے پناہ پکڑنے کی جگہیں ہوتی ہیں ۔

1796

Muwatta Imam Malik #1796

Sahih

[1796] عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ :السَّفَرُ قِطْعَۃٌ مِنَ الْعَذَابِ، یَمْنَعُ أَحَدَکُمْ نَوْمَہُ, وَطَعَامَہُ وَشَرَابَہُ، فَإِذَا قَضَی أَحَدُکُمْ نَہْمَتَہُ مِنْ وَجْہِہِ، فَلْیُعَجِّلْ إِلَی أَہْلِہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے ۔ تم میں سے ( ہر ) کسی کو اپنے سونے ، اپنے کھانے اور اپنے پینے سے روک دیتا ہے ۔ لہٰذا جب تم میں سے کوئی اپنی جہت ( جدھر سفر کے لیے گیا ہو ) سے اپنی حاجت ( اور مقصد ) کو پورا کر لے تو اپنے گھر والوں کی طرف جلد ( لوٹ ) آئے ۔‘‘