Muwatta Imam Malik #1795
[1795] عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ یَرْفَعُہُ : إِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی رَفِیقٌ یُحِبُّ الرِّفْقَ، وَیَرْضَی بِہِ، وَیُعِینُ عَلَیْہِ مَا لَا یُعِینُ عَلَی الْعُنْفِ، فَإِذَا رَکِبْتُمْ ہَذِہِ الدَّوَابَّ الْعُجْمَ، فَأَنْزِلُوہَا مَنَازِلَہَا، فَإِنْ کَانَتِ الأَرْضُ جَدْبَۃً فَانْجُوا عَلَیْہَا بِنِقْیِہَا، وَعَلَیْکُمْ بِسَیْرِ اللَّیْلِ، فَإِنَّ الأَرْضَ تُطْوَی بِاللَّیْلِ مَا لَا تُطْوَی بِالنَّہَارِ، وَإِیَّاکُمْ وَالتَّعْرِیسَ عَلَی الطَّرِیقِ، فَإِنَّہَا طُرُقُ الدَّوَابِّ، وَمَأْوَی الْحَیَّاتِ۔
اردو ترجمہ · Urdu
خالد بن معدان رحمہ اللہ سے روایت ہے ، وہ اسے مرفوع ( یعنی رسول اللہ ﷺ سے ) بیان کرتے ہیں کہ بلاشبہ اللہ تبارک و تعالیٰ نرم خُو ہیں اور نرم روی کو پسند کرتے ہیں ، اس سے راضی ہوتے ہیں اور اس پر ( نرمی اختیار کرنے میں ) ایسی مدد فرماتے ہیں کہ سختی کرنے پر وہ ایسی مدد نہیں کرتے ۔ جب تم ان بے زبان جانوروں پر سواری کرو تو انھیں ان کے پڑاؤ کی جگہوں پر اتارا کرو ( جو جگہیں عموماً ان کے آرام کے لیے تیار کی گئی ہوں ، وہاں انھیں آرام کا موقع دیا کرو اور کھلاتے پلاتے رہا کرو ) ، پھر اگر زمین قحط زدہ ہو تو ان کی بیخ ( بچاتے ہوئے ) ان پر جلدی کیا کرو ( قحط زدہ اور بے آب و گیاہ علاقے سے جلدی جلدی گزر جاؤ ، وہاں اتنا وقت نہ لگاؤ کہ جانوروں کی چربی اور مخ ہی ختم ہو جائے کیونکہ جب کھانے پینے کو نہیں ملتا تو یہی چربی وغیرہ توانائی میں استعمال ہونے لگتی ہے اور اگر یہ بھی ختم ہو جائے تو جانور بھی مر جائیں گے اور پھر تمھاری جان کے بھی لالے پڑ جائیں گے ) اور رات کے سفر کو لازم پکڑو کیونکہ بلاشبہ زمین رات کے وقت لپیٹ دی جاتی ہے ۔ جو کہ دن کے وقت نہیں لپیٹی جاتی اور راستے کے بیچ میں رات کے وقت پڑاؤ ڈالنے سے بچو کیونکہ بلاشبہ وہ ( راہیں رات کے وقت ) جانوروں کی گزر گاہیں اور سانپوں کے پناہ پکڑنے کی جگہیں ہوتی ہیں ۔