Muwatta Imam Malik #1790
[1790] مَالِکٌ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ إِذَا وَضَعَ رِجْلَہُ فِی الْغَرْزِ، وَہُوَ یُرِیدُ السَّفَرَ یَقُولُ : بِاسْمِ اللّٰہِ، اللَّہُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ، وَالْخَلِیفَۃُ فِی الأَہْلِ، اللَّہُمَّ ازْوِ لَنَا الأَرْضَ، وَہَوِّنْ عَلَیْنَا السَّفَرَ، اللَّہُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ وَعْثَائِ السَّفَرِ، وَمِنْ کَابَۃِ الْمُنْقَلَبِ، وَمِنْ سُوئِ الْمَنْظَرِ فِی الْمَالِ وَالأَہْلِ۔
اردو ترجمہ · Urdu
امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ جب رکاب ( سواری پر چڑھنے کے لیے پائیدان ) میں اپنا پاؤں مبارک رکھتے ، اس وقت جب کہ آپ ﷺ سفر کا ارادہ فرماتے تو بِسْمِ اللّٰہ پڑھ کر یہ دعا فرماتے : ( اَللھُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ … ) سے آخر تک ۔ ( ترجمہ ) ’’ اللہ کے نام کے ساتھ ( آغازِ سفر کرتا ہوں ، اے اللہ ! تو ہی سفر میں ( میرا ) ساتھی اور گھر والوں میں ( میرا ) خلیفہ ہے ۔ اے اللہ ! ہمارے لیے زمین کو سمیٹ دے ( اور سفر جلدی طے کرا دے ) اور ہم پر سفر کو آسان فرما دے ۔ اے اللہ ! بلاشبہ میں تیری پناہ میں آتا ہوں سفر کی مشقت سے واپس لوٹنے کے غم سے ( کہ کوئی غم لے کر واپس لوٹوں ) ، اور مال اور گھر والوں میں برے منظر سے ( کہ سفر کی وجہ سے مال یا گھر والوں میں کوئی نقصان اور بری صورتحال دیکھنی پڑے ) ۔