Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 46 · Chapter 575

متفرق مسائل کی کتاب

سانپوں کے قتل اور ان کے حوالے سے کلام کا بیان

3 hadiths in this chapter

1787

Muwatta Imam Malik #1787

Sahih

[1787] عَنْ أبِی لُبَابَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ نَہَی عَنْ قَتْلِ الْحَیَّاتِ الَّتِی فِی الْبُیُوتِ

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے ان سفید باریک چھوٹے سانپوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا جو گھروں میں ہوتے ہیں ۔

1788

Muwatta Imam Malik #1788

Sahih

[1788] عَنْ سَائِبَۃَ مَوْلَاۃٍ لِعَائِشَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ نَہَی عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِی فِی الْبُیُوتِ، إِلاَّ ذَا الطُّفْیَتَیْنِ وَالأَبْتَرَ، فَإِنَّہُمَا یَخْطِفَانِ الْبَصَرَ، وَیَطْرَحَانِ مَا فِی بُطُونِ النِّسَائِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سائبہ رحمۃ اللہ علیہما جو کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ لونڈی ہیں ، سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے ، سوائے دو سفید دھاریوں والے سانپ اور دُم کٹے ( چھوٹی دم والے ) سانپ کے ، کیونکہ بلاشبہ وہ دونوں نظر اچک لیتے ہیں ( بینائی ختم کر دیتے ہیں ) اور اس چیز کو پھینک دیتے ہیں جو عورتوں کے پیٹوں میں ہوتی ہے ( حمل ساقط کر دیتے ہیں ) ۔

1789

Muwatta Imam Malik #1789

Sahih

[1789] عَنْ أبِی السَّائِبِ مَوْلَی ہِشَامِ بْنِ زُہْرَۃَ، أَ نَّہُ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی أبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ فَوَجَدْتُہُ یُصَلِّی فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُہُ حَتَّی قَضَی صَلَاتَہُ، فَسَمِعْتُ تَحْرِیکاً تَحْتَ سَرِیرٍ فِی بَیْتِہِ، فَإِذَا حَیَّۃٌ، فَقُمْتُ لأَقْتُلَہَا، فَأَشَارَ إلِیَّ أَبُو سَعِیدٍ أَنِ اجْلِسْ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَشَارَ إِلَی بَیْتٍ فِی الدَّارِ، فَقَالَ : أَتَرَی ہَذَا الْبَیْتَ ؟فَقُلْتُ : نَعَمْ۔ قَالَ : إِنَّہُ قَدْ کَانَ فِیہِ فَتًی حَدِیثُ عَہْدٍ بِعُرْسٍ، فَخَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ إِلَی الْخَنْدَقِ، فَبَیْنَا ہُوَ بِہِ إِذْ أَتَاہُ الْفَتَی یَسْتَأْذِنُہُ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ ائْذَنْ لِی أُحْدِثُ بِأَہْلِی عَہْداً، فَأَذِنَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ وَقَالَ :خُذْ عَلَیْکَ سِلَاحَکَ، فَإِنِّی أَخْشَی عَلَیْکَ بَنِی قُرَیْظَۃَ۔ فَانْطَلَقَ الْفَتَی إِلَی أَہْلِہِ، فَوَجَدَ امْرَأَتَہُ قَائِمَۃً بَیْنَ الْبَابَیْنِ، فَأَہْوَی إِلَیْہَا بِالرُّمْحِ لِیَطْعُنَہَا، وَأَدْرَکَتْہُ غَیْرَۃٌ, فَقَالَتْ : لَا تَعْجَلْ حَتَّی تَدْخُلَ وَتَنْظُرَ مَا فِی بَیْتِکَ۔ فَدَخَلَ، فَإِذَا ہُوَ بِحَیَّۃٍ مُنْطَوِیَۃٍ عَلَی فِرَاشِہِ، فَرَکَزَ فِیہَا رُمْحَہُ، ثُمَّ خَرَجَ بِہَا، فَنَصَبَہُ فِی الدَّارِ، فَاضْطَرَبَتِ الْحَیَّۃُ فِی رَأْسِ الرُّمْحِ، وَخَرَّ الْفَتَی مَیِّتاً، فَمَا یُدْرَی أَیُّہُمَا کَانَ أَسْرَعَ مَوْتاً، الْفَتَی أَمِ الْحَیَّۃُ، فَذُکِرَ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ :إِنَّ بِالْمَدِینَۃِ جِنًّا قَدْ أَسْلَمُوا، فَإِذَا رَأَیْتُمْ مِنْہُمْ شَیْئاً فَآذِنُوہُ ثَـلَاثَۃَ أَ یَّامٍ، فَإِنْ بَدَا لَکُمْ بَعْدَ ذَلِکَ فَاقْتُلُوہُ، فَإِنَّمَا ہُوَ شَیْطَانٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابوسائب رحمہ اللہ ( عبداللہ بن سائب ) جو ہشام بن زہرہ کے آزاد کردہ غلام ہیں ، سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ : میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ، میں نے انھیں نماز پڑھتے ہوئے پایا تو میں بیٹھ گیا ( اور ) ان کا انتظار کرنے لگا کہ وہ اپنی نماز پوری کر لیں ۔ ( ابوسائب رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں : میں نے ان کے گھر میں ایک چارپائی کے نیچے کچھ حرکت سی سنی تو اچانک ( وہاں ) ایک سانپ ( نظر آ رہا ) تھا ۔ میں اٹھا تاکہ اسے قتل کروں کہ ( اتنے میں ) حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے ( نماز ہی میں ) مجھے اشارہ کیا کہ بیٹھا رہوں ( اور اسے نہ ماروں ) ۔ پھر جب وہ ( نماز سے ) فارغ ہوئے تو انھوں نے ( اپنے ) محلے میں ( موجود ) ایک گھر کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : کیا تم اس گھر کو دیکھ رہے ہو ؟ میں نے کہا کہ جی ہاں ، تو وہ فرمانے لگے : بلاشبہ شان یہ ہے کہ اس گھر میں ایک نوجوان رہتا تھا جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی ، وہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ خندق کی طرف نکلا ۔ پھر اسی اثناء میں کہ آپ ﷺ اس ( غزوئہ خندق کے موقع پر کھدائی وغیرہ ) میں مصروف تھے کہ یکایک وہی نوجوان آپ ﷺ کے پاس آیا ۔ وہ آپ ﷺ سے اجازت مانگ رہا تھا ، کہنے لگا کہ : اے اللہ کے رسول ﷺ ! مجھے اجازت مرحمت فرمائیے ۔ میں اپنی اہلیہ سے ملاقات کو تازہ کر آؤں تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اجازت عطا فرما دی ، پھر فرمایا :’’ اپنے اوپر اپنا اسلحہ لگا کر لے جانا ( مسلح حالت میں جانا ) کیونکہ یقیناً مجھے تم پر بنوقریظہ ( کی طرف سے حملے ) کا خطرہ ہے ( کہ مدینہ میں چھپا ہوا یہ یہودی گروہ کہیں معاہدہ توڑ کر مسلمانان مدینہ کے قتل کے درپے نہ ہو جائے ) ۔ چنانچہ وہ نوجوان اپنے گھر والوں کی طرف چل پڑا ۔ ( جب وہ گھر کے پاس پہنچا ) تو اس نے اپنی بیوی کو دونوں دروازوں ( دروازے کے دونوں تختوں ) کے درمیان کھڑی ہوئی پایا تو ( وہ مارے غیرت کے شدید غصے میں آ گیا اور ) اس نے نیزہ اس ( بیوی ) کی طرف بڑھا دیا تاکہ اسے مارے ۔ غیرت اس پر غلبہ پا چکی تھی کہ ( اتنی دیر میں وہ بیوی جلدی سے ) کہنے لگی : جلدی نہ کیجیے یہاں تک کہ گھر میں داخل ہو جائیے اور اس چیز کو دیکھ لیجیے جو گھر میں ہے ۔ وہ اندر داخل ہوا تو اچانک ایک سانپ ( دیکھا جو ) کنڈلی مارے ہوئے اس ( نوجوان ) کے بستر پر ( بیٹھا ہوا ) تھا ۔ چنانچہ اس نے اپنا نیزہ اس میں گاڑ دیا ( اور اسے نیزے میں پرو لیا ) پھر وہ اسے لے کر باہر نکلا اور محلے میں اپنا نیزہ گاڑ دیا ( لیکن ہوا یوں کہ اتنی دیر میں ) نیزے کے سر پر سانپ تڑپا اور وہ نوجوان بھی ( فوراً ) مر کر گر پڑا ( اور ساتھ ہی سانپ بھی ٹھنڈا ہو گیا ) پھر پتا نہ چل سکا کہ ان دونوں میں سے کس نے مرنے میں زیادہ جلدی کی ، نوجوان نے یا سانپ نے ( یعنی وہ اکٹھے ہی گرے اور فوراً مر گئے ) ۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے حضور اس ( واقعے ) کا تذکرہ کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بلاشبہ مدینہ منورہ میں کچھ جنات ہیں جو مسلمان ہو چکے ہیں ( اور سانپوں کی شکل میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں ، لگتا ہے کہ وہ سانپ کوئی جن تھا اور یہ نوجوان جن کے ہاتھوں مارا گیا ہے ۔ ) لہٰذا جب تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو اسے تین دن تک آگاہ کرتے رہو ( کہ بھئی دوبارہ نہ آنا ) ، پھر اگر وہ اس کے بعد بھی تمھارے سامنے ظاہر ہو تو اسے قتل کر ڈالو ، کیونکہ بلاشبہ وہ تو صرف اور صرف شیطان ہے ( اور کافر ہے ، مومن نہیں ہے ) ۔