Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 46 · Chapter 572

متفرق مسائل کی کتاب

ناپسندیدہ ناموں کا بیان

2 hadiths in this chapter

1780

Muwatta Imam Malik #1780

Sahih

[1780] عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ قَالَ لِلَقْحَۃٍ تُحْلَبُ :مَنْ یَحْلُبُ ہَذِہِ؟ فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ :مَا اسْمُکَ ؟فَقَالَ لَہُ الرَّجُلُ : مُرَّۃُ۔ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ :اجْلِسْ۔ ثُمَّ قَالَ :مَنْ یَحْلُبُ ہَذِہِ ؟فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : مَا اسْمُکَ ؟فَقَالَ : حَرْبٌ۔ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ :اجْلِسْ۔ ثُمَّ قَالَ :مَنْ یَحْلُبُ ہَذِہِ؟ فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ :مَا اسْمُکَ۔ فَقَالَ : یَعِیشُ۔ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ :احْلُبْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے بہت دودھ دینے والی ( دودھیل ) اونٹنی جس کا دودھ دوہا جانا تھا ، کے متعلق فرمایا :’’ کون اسے دوہے گا ؟‘‘ ایک آدمی کھڑا ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا :’’ تمھارا نام کیا ہے ؟‘‘ وہ کہنے لگا کہ ( میرا نام ) مُرّہ ( ہے جس کے معنی کڑوی چیز کے ہیں ) تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا :’’ بیٹھ جاؤ ۔ ‘‘ پھر فرمایا :’’ کون اسے دوہے گا ؟‘‘ ایک ( اور ) آدمی کھڑا ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا :’’ تمھارا نام کیا ہے ؟‘‘ اس نے کہا : حرب ( جس کے معنی لڑائی اور جنگ کے ہیں ) تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا :’’ بیٹھ جاؤ ‘‘ پھر فرمایا :’’ کون اسے دوہے گا ‘‘؟ ایک شخص کھڑا ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تمھارا نام کیا ہے ؟‘‘ اس نے کہا : یَعیش ( جس کے معنی زندہ رہنے کے ہیں ) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم دودھ دوہو ۔‘‘

1781

Muwatta Imam Malik #1781

Zaeef

[1781] عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لِرَجُلٍ : مَا اسْمُکَ ؟ فَقَالَ : جَمْرَۃُ۔ فَقَالَ : ابْنُ مَنْ ؟ فَقَالَ : ابْنُ شِہَابٍ۔ قَالَ : مِمَّنْ؟ قَالَ : مِنَ الْحُرَقَۃِ۔ قَالَ : أَیْنَ مَسْکَنُکَ ؟ قَالَ : بِحَرَّۃِ النَّارِ۔ قَالَ : بِأَیِّہَا ؟ قَالَ: بِذَاتِ لَظًی۔ قَالَ عُمَرُ : أَدْرِکْ أَہْلَکَ فَقَدِ احْتَرَقُوا۔ قَالَ : فَکَانَ کَمَا قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضی اللہ عنہ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے کہا : تمھارا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا ’’ جمرۃ ‘‘ ( جس کے معنی انگارے کے ہیں ) ، انھوں نے فرمایا : کس کے بیٹے ہو ؟ اس نے کہا :’’ شہاب ‘‘ کا بیٹا ہوں ( اور شہاب کے معنی شعلے کے ہیں ) ، انھوں نے فرمایا : کس قبیلے سے ہو ؟ اس نے کہا : ( جہنیہ کی شاخ ) ’’ حُرَقَہ ‘‘ سے ہوں ( جس کے معنی ہیں آگ سے جلے ہوئے پتھروں والا میدان ) ، انھوں نے پوچھا : تمھاری رہائش گاہ کہاں ہے ؟ اس نے کہا کہ ’’ حرۃ النار ‘‘ میں ( جس کا معنی ہے آگ کی گرمی ) ، پھر انھوں نے پوچھا : وہ کس جگہ میں ہے تو اس نے کہا ’’ ذات لطٰی ‘‘ میں ۔ ( جس کے معنی ہیں : شعلے والی دہکتی ہوئی آگ ) تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اپنے لوگوں کو پا لے ، ( ان کی خبر لے ) وہ یقیناً جل چکے ہیں ۔ یحیی بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں : چنانچہ اسی طرح ہوا جیسے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا ۔