Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 46 · Chapter 567

متفرق مسائل کی کتاب

ضبّ ( سانڈا یا گوہ ) کھانے کا بیان

3 hadiths in this chapter

1765

Muwatta Imam Malik #1765

Zaeef

[1765] عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ، أَ نَّہُ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ بَیْتَ مَیْمُونَۃَ بِنْتِ الْحَارِثِ، فَإِذَا ضِبَابٌ فِیہَا بَیْضٌ، وَمَعَہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فَقَالَ:مِنْ أَیْنَ لَکُمْ ہَذَا؟۔ فَقَالَتْ: أَہْدَتْہُ لِی أُخْتِی ہُزَیْلَۃُ بِنْتُ الْحَارِثِ۔ فَقَالَ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ:کُلَا۔ فَقَالَا : أَوَلَا تَأْکُلُ أَنْتَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ فَقَالَ :إنِّی تَحْضُرُنِی مِنَ اللّٰہِ حَاضِرَۃٌ ۔ قَالَتْ مَیْمُونَۃُ : أَنَسْقِیکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ مِنْ لَبَنٍ عِنْدَنَا ؟ فَقَالَ: نَعَمْ۔ فَلَمَّا شَرِبَ قَالَ:مِنْ أَیْنَ لَکُمْ ہَذَا؟۔ فَقَالَتْ: أَہْدَتْہُ لِی أُخْتِی ہُزَیْلَۃُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَرَأَیْتِکِ جَارِیَتَکِ الَّتِی کُنْتِ اسْتَأْمَرْتِینِی فِی عِتْقِہَا، أَعْطِیہَا أُخْتَکِ، وَصِلِی بِہَا رَحِمَکِ، تَرْعَی عَلَیْہَا، فَإِنَّہُ خَیْرٌ لَکِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ ( اپنی زوجہ محترہ ) سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے تو یکایک ( وہاں ) کچھ سانڈے ( رکھے ہوئے ) تھے جن میں انڈے بھی تھے ۔ آپ ﷺ کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہما بھی تھے ( اور وہ دونوں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے ) ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ یہ ( کھانا ) تمھارے پاس کہاں سے آیا ہے ‘‘؟ وہ کہنے لگیں کہ میری ہمشیرہ ( ام حضید ) ہزیلہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ ہدیے میں بھیجا ہے تو آپ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے فرمایا :’’ تم دونوں کھا لو ۔‘‘ وہ دونوں عرض کرنے لگے : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ خود نہیں کھائیں گے ؟ تو فرمایا :’’ بلاشبہ میرے پاس اللہ کی طرف سے حاضر ہونے والے ( فرشتے ) حاضر ہوتے رہتے ہیں ۔‘‘ ( اور اس گوشت میں کچھ ایسی مہک ہے جو ان کے لیے باعثِ اذیت ہے ) سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! کیا ہم آپ کو کچھ دودھ پلائیں جو ہمارے پاس ہے ؟ تو فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ پھر جب آپ ﷺ نے اسے نوش فرما لیا تو فرمایا :’’ یہ تمھارے پاس کہاں سے آیا تھا ؟‘‘ وہ کہنے لگیں : اسے بھی میری بہن ہزیلہ رضی اللہ عنہا نے مجھے ہدیہ کیا ہے ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے اپنی اس لونڈی کے متعلق بتاؤ جس کے آزاد کرنے کے بارے میں تم نے مجھ سے مشورہ مانگا تھا ۔ تم اسے اپنی بہن ( ہزیلہ رضی اللہ عنہا ) کو دے دو ، اس کے ذریعے اپنی رشتہ داری ملاؤ ( صلہ رحمی کرو ) ، وہ ( لونڈی ) اس ( تیری بہن ) کے لیے ( اس کے جانور ) چرایا کرے گی ، بلاشبہ یہ کام تمھارے لیے زیادہ بہتر ہے ۔‘‘

1766

Muwatta Imam Malik #1766

Sahih

[1766] عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ : أَنَّہُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ بَیْتَ مَیْمُونَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، فَأُتِیَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ، فَأَہْوَی إِلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ بِیَدِہِ۔ فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَۃِ اللاَّتِی فِی بَیْتِ مَیْمُونَۃَ : أَخْبِرُوا رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ بِمَا یُرِیدُ أَنْ یَأْکُلَ مِنْہُ۔ فَقِیلَ : ہُوَ ضَبٌّ یَا رَسُولَ اللّٰہِ۔ فَرَفَعَ یَدَہُ فَقُلْتُ : أَحَرَامٌ ہُوَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ ؟ فَقَالَ : لَا، وَلَکِنَّہُ لَمْ یَکُنْ بِأَرْضِ قَوْمِی فَأَجِدُنِی أَعَافُہُ قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُہُ فَأَکَلْتُہُ، وَرَسُولُ اللّٰہِ ﷺ یَنْظُرُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت خالد بن ولید بن مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا زوجہ پیغمبر ﷺ کے گھر میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ کے پاس ایک بھونا ہوا سانڈہ لایا گیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں موجود عورتوں سے کسی نے کہا : رسول اللہ ﷺ کو اس کے متعلق بتا دو جسے آپ ﷺ کھانے کا ارادہ فرما رہے ہیں ۔ چنانچہ عرض کیا گیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! یہ سانڈہ ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے اپنا ہاتھ اٹھا لیا ۔ ( حضرت خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ) میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا یہ حرام ہے ؟ تو فرمایا :’’ نہیں ، لیکن ( چونکہ ) وہ میری قوم کے علاقے میں نہیں پایا جاتا اس لیے میں خود کو ( یوں ) محسوس کرتا ہوں کہ ( جیسے ) میں اس سے کراہت کر رہا ہوں ۔‘‘ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے اسے ( اپنی طرف ) کھینچ لیا اور اسے کھا گیا اس حال میں کہ رسول اللہ ﷺ ( مجھے ) دیکھ رہے تھے ۔

1767

Muwatta Imam Malik #1767

Sahih

[1767] عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَجُلاً نَادَی رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ مَا تَرَی فِی الضَّبِّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : لَسْتُ بِآکِلِہِ، وَلَا بِمُحَرِّمِہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کو پکارا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! آپ سانڈے کے بارے میں کیا خیال کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نہ تو اسے کھانے والا ہوں اور نہ ہی اسے حرام قرار دینے والا ہوں ۔‘‘