Muwatta Imam Malik #1765
[1765] عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ، أَ نَّہُ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ بَیْتَ مَیْمُونَۃَ بِنْتِ الْحَارِثِ، فَإِذَا ضِبَابٌ فِیہَا بَیْضٌ، وَمَعَہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فَقَالَ:مِنْ أَیْنَ لَکُمْ ہَذَا؟۔ فَقَالَتْ: أَہْدَتْہُ لِی أُخْتِی ہُزَیْلَۃُ بِنْتُ الْحَارِثِ۔ فَقَالَ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ:کُلَا۔ فَقَالَا : أَوَلَا تَأْکُلُ أَنْتَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ فَقَالَ :إنِّی تَحْضُرُنِی مِنَ اللّٰہِ حَاضِرَۃٌ ۔ قَالَتْ مَیْمُونَۃُ : أَنَسْقِیکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ مِنْ لَبَنٍ عِنْدَنَا ؟ فَقَالَ: نَعَمْ۔ فَلَمَّا شَرِبَ قَالَ:مِنْ أَیْنَ لَکُمْ ہَذَا؟۔ فَقَالَتْ: أَہْدَتْہُ لِی أُخْتِی ہُزَیْلَۃُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَرَأَیْتِکِ جَارِیَتَکِ الَّتِی کُنْتِ اسْتَأْمَرْتِینِی فِی عِتْقِہَا، أَعْطِیہَا أُخْتَکِ، وَصِلِی بِہَا رَحِمَکِ، تَرْعَی عَلَیْہَا، فَإِنَّہُ خَیْرٌ لَکِ۔
اردو ترجمہ · Urdu
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ ( اپنی زوجہ محترہ ) سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے تو یکایک ( وہاں ) کچھ سانڈے ( رکھے ہوئے ) تھے جن میں انڈے بھی تھے ۔ آپ ﷺ کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہما بھی تھے ( اور وہ دونوں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے ) ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ یہ ( کھانا ) تمھارے پاس کہاں سے آیا ہے ‘‘؟ وہ کہنے لگیں کہ میری ہمشیرہ ( ام حضید ) ہزیلہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ ہدیے میں بھیجا ہے تو آپ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے فرمایا :’’ تم دونوں کھا لو ۔‘‘ وہ دونوں عرض کرنے لگے : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ خود نہیں کھائیں گے ؟ تو فرمایا :’’ بلاشبہ میرے پاس اللہ کی طرف سے حاضر ہونے والے ( فرشتے ) حاضر ہوتے رہتے ہیں ۔‘‘ ( اور اس گوشت میں کچھ ایسی مہک ہے جو ان کے لیے باعثِ اذیت ہے ) سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! کیا ہم آپ کو کچھ دودھ پلائیں جو ہمارے پاس ہے ؟ تو فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ پھر جب آپ ﷺ نے اسے نوش فرما لیا تو فرمایا :’’ یہ تمھارے پاس کہاں سے آیا تھا ؟‘‘ وہ کہنے لگیں : اسے بھی میری بہن ہزیلہ رضی اللہ عنہا نے مجھے ہدیہ کیا ہے ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے اپنی اس لونڈی کے متعلق بتاؤ جس کے آزاد کرنے کے بارے میں تم نے مجھ سے مشورہ مانگا تھا ۔ تم اسے اپنی بہن ( ہزیلہ رضی اللہ عنہا ) کو دے دو ، اس کے ذریعے اپنی رشتہ داری ملاؤ ( صلہ رحمی کرو ) ، وہ ( لونڈی ) اس ( تیری بہن ) کے لیے ( اس کے جانور ) چرایا کرے گی ، بلاشبہ یہ کام تمھارے لیے زیادہ بہتر ہے ۔‘‘