Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 46 · Chapter 566

متفرق مسائل کی کتاب

تصویروں اور مورتیوں کا بیان

3 hadiths in this chapter

1762

Muwatta Imam Malik #1762

Sahih

[1762] عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی طَلْحَۃَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ إِسْحَاقَ مَوْلَی الشِّفَائِ أَخْبَرَہُ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أبِی طَلْحَۃَ عَلَی أبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ نَعُودُہُ، فَقَالَ لَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : أَنَّ الْمَلَائِکَۃَ لَا تَدْخُلُ بَیْتاً فِیہِ تَمَاثِیلُ أَوْ تَصَاوِیرُ ۔ شَکَّ إِسْحَاقُ، لَا یَدْرِی أَ یَّتَہُمَا قَالَ أَبُو سَعِیدٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک رافع بن اسحاق رحمہ اللہ جو کہ حضرت شفاء ( بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا ) کے آزاد کردہ غلام تھے ، نے انھیں خبر دی کہ میں ( رافع ) اور ( تمھارے والد ) عبداللہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، ہم ان کی تیمار داری کر رہے تھے تو ہم سے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا تھا :’’ بلاشبہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں مورتیاں یا ( فرمایا کہ ) تصویریں ہوں ۔ ‘‘ ( امام مالک رحمہ اللہ کے شیخ ) اسحاق ( بن عبداللہ بن ابی طلحہ رحمہ اللہ ) کو شک لاحق ہوا ہے کہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے ان دونوں ( لفظوں یعنی مورتیاں اور تصویریں ) میں سے کون سا لفظ بولا تھا ۔

1763

Muwatta Imam Malik #1763

Sahih

[1763] عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَ نَّہُ دَخَلَ عَلَی أبِی طَلْحَۃَ الْأَنْصَاری یَعُودُہُ، قَالَ : فَوَجَدَ عِنْدَہُ سَہْلَ بْنَ حُنَیْفٍ، فَدَعَا أَبُو طَلْحَۃَ إِنْسَاناً فَنَزَعَ نَمَطاً مِنْ تَحْتِہِ، فَقَالَ لَہُ سَہْلُ بْنُ حُنَیْفٍ : لِمَ تَنْزِعُہُ ؟ قَالَ : لأَنَّ فِیہِ تَصَاوِیرَ، وَقَدْ قَالَ فِیہَا رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ مَا قَدْ عَلِمْتَ۔ فَقَالَ سَہْلٌ : أَلَمْ یَقُلْ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : إِلاَّ مَا کَانَ رَقْماً فِی ثَوْبٍ۔ قَالَ: بَلَی وَلَکِنَّہُ أَطْیَبُ لِنَفْسِی۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ وہ حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، وہ ان کی تیمارداری کر رہے تھے ۔ وہ ( عبیداللہ رحمہ اللہ ) کہتے ہیں : انھوں نے ان کے پاس ( حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس ) حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو بھی پایا ۔ پس حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو بلایا ، اس نے ان کے نیچے سے ایک جھالر دار کپڑا ( بستر کے اوپر بچھایا جانے والا کپڑا جسے شطرنجی بھی کہتے ہیں ) نکال لیا ، تو حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : آپ اسے کیوں نکال رہے ہیں ؟ وہ ( حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ) کہنے لگے : اس لیے کہ اس میں تصویریں ہیں اور یقیناً ان کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے جو فرمایا ہے وہ آپ کو معلوم ہی ہے ۔ تو حضرت سہل رضی اللہ عنہ کہنے لگے : کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا تھا :’’ سوائے اس کے جو کپڑے میں نقش ہو ( تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہے ۔ ) ‘‘ وہ ( حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ) کہنے لگے : کیوں نہیں اور لیکن یہ ( کپڑے میں نقش شدہ تصویر سے بھی بچ جانا ) میرے لیے زیادہ خوشی کا باعث ہے ۔

1764

Muwatta Imam Malik #1764

Sahih

[1764] عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، أَ نَّہَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَۃً فِیہَا تَصَاوِیرُ، فَلَمَّا رَآہَا رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ قَامَ عَلَی الْبَابِ فَلَمْ یَدْخُلْ، فَعَرَفَتْ فِی وَجْہِہِ الْکَرَاہِیَۃَ وَقَالَتْ :یَا رَسُولَ اللّٰہِ أَتُوبُ إِلَی اللّٰہِ وَإِلَی رَسُولِہِ، فَمَاذَا أَذْنَبْتُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ :فَمَا بَالُ ہَذِہِ النُّمْرُقَۃِ؟۔ قَالَتِ : اشْتَرَیْتُہَا لَکَ تَقْعُدُ عَلَیْہَا وَتَوَسَّدُہَا۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ :إِنَّ أَصْحَابَ ہَذِہِ الصُّوَرِ یُعَذَّبُونَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، یُقَالُ لَہُمْ : أَحْیُوا مَا خَلَقْتُمْ ۔ ثُمَّ قَالَ:إِنَّ الْبَیْتَ الَّذِی فِیہِ الصُّوَرُ لَا تَدْخُلُہُ الْمَلَائِکَۃُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ پیغمبر ﷺ سے روایت ہے کہ انھوں نے ایک چھوٹا تکیہ خریدا جس میں تصویریں تھیں ۔ چنانچہ جب رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا تو دروازے ہی پر کھڑے ہو گئے اور اندر تشریف نہ لائے ۔ وہ آپ ﷺ کے چہرے میں ناپسندیدگی کے آثار پہچان گئیں اور کہنے لگیں : اے اللہ کے رسول ! میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف توبہ اور رجوع کرتی ہوں ، میں نے کیا گناہ کر لیا ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس چھوٹے تکیے کا کیا معاملہ ہے ؟‘‘ وہ کہنے لگیں : میں نے اسے آپ کے لیے خریدا ہے ( تاکہ ) آپ اس پر بیٹھا کریں اور آپ اسے تکیہ بنایا کریں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بلاشبہ ان تصویروں والے افراد قیامت کے دن عذاب دیے جائیں گے ۔ ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے بنایا تھا اسے زندہ کرو ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ بلاشبہ وہ گھر جس میں تصویریں ہوں اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے ۔‘‘