Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 46 · Chapter 564

متفرق مسائل کی کتاب

( گھر میں داخلے کی ) اجازت طلب کرنے کا بیان

3 hadiths in this chapter

1757

Muwatta Imam Malik #1757

Zaeef

[1757] عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ سَأَلَہُ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ أَسْتَأْذِنُ عَلَی أُمِّی ؟ فَقَالَ :نَعَمْ قَالَ الرَّجُلُ إنِّی مَعَہَا فِی الْبَیْتِ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ :اسْتَأْذِنْ عَلَیْہَا۔ فَقَالَ الرَّجُلُ : إنِّی خَادِمُہَا۔ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ :اسْتَأْذِنْ عَلَیْہَا، أَتُحِبُّ أَنْ تَرَاہَا عُرْیَانَۃً؟۔ قَالَ : لَا۔ قَالَ :فَاسْتَأْذِنْ عَلَیْہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ یقیناً رسول اللہ ﷺ سے ایک آدمی نے سوال کیا ، کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول ! کیا میں اپنی والدہ پر داخل ہوتے وقت ( ان کے گھر جاتے وقت ) بھی اجازت طلب کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ‘‘ وہ آدمی کہنے لگا : بے شک میں اس کے ساتھ ہی اس کے گھر میں رہتا ہوں ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کے پاس جانے کے وقت اجازت طلب کرو ۔‘‘ وہ آدمی عرض کرنے لگا : بلاشبہ میں تو اس کا خادم بھی ہوں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس کے پاس جاتے وقت اجازت مانگو ۔ کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ اسے برہنہ دیکھو ؟ وہ کہنے لگا کہ نہیں تو فرمایا :’’ اسی لیے اس کے پاس اجازت لے کر جاؤ ۔‘‘

1758

Muwatta Imam Malik #1758

Sahih

[1758] عَنْ أبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ، أَ نَّہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ :الاِسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ، فَإِنْ أُذِنَ لَکَ فَادْخُلْ، وَإِلاَّ فَارْجِعْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اجازت کا طلب کرنا تین بار ہے ، چنانچہ اگر تمھیں ( اس دوران ) اجازت دے دی جائے تو ( گھر میں ) داخل ہو جاؤ ، ورنہ واپس لوٹ جاؤ ۔‘‘

1759

Muwatta Imam Malik #1759

Sahih

[1759] عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ غَیْرِ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَائِہِمْ : أَنَّ أَبَا مُوسَی الأَشْعَرِیَّ جَائَ یَسْتَأْذِنُ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَاسْتَأْذَنَ ثَلَاثاً، ثُمَّ رَجَعَ، فَأَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِی أَثَرِہِ، فَقَالَ : مَا لَکَ لَمْ تَدْخُلْ ؟ فَقَالَ أَبُو مُوسَی : سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ:الاِسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ، فَإِنْ أُذِنَ لَکَ فَادْخُلْ وَإِلاَّ فَارْجِعْ۔ فَقَالَ عُمَرُ : وَمَنْ یَعْلَمُ ہَذَا ؟ لَئِنْ لَمْ تَأْتِنِی بِمَنْ یَعْلَمُ ذَلِکَ لأَفْعَلَنَّ بِکَ کَذَا وَکَذَا۔ فَخَرَجَ أَبُومُوسَی حَتَّی جَائَ مَجْلِسًا فِی الْمَسْجِدِ یُقَالُ لَہُ : مَجْلِسُ الْأَنْصَارِ, فَقَالَ : إنِّی أَخْبَرْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ إنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ :الاِسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ، فَإِنْ أُذِنَ لَکَ فَادْخُلْ، وَإِلاَّ فَارْجِعْ۔ فَقَالَ : لَئِنْ لَمْ تَأْتِنِی بِمَنْ یَعْلَمُ ہَذَا، لأَفْعَلَنَّ بِکَ کَذَا وَکَذَا۔ فَإِنْ کَانَ سَمِعَ ذَلِکَ أَحَدٌ مِنْکُمْ فَلْیَقُمْ مَعِی۔ فَقَالُوا لأبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِی :قُمْ مَعَہُ۔ وَکَانَ أَبُو سَعِیدٍ أَصْغَرَہُمْ، فَقَامَ مَعَہُ فَأَخْبَرَ بِذَلِکَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ۔ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لأبِی مُوسَی : أَمَا إنِّی لَمْ أَتَّہِمْکَ، وَلَکِنْ خَشِیتُ أَنْ یَتَقَوَّلَ النَّاسُ عَلَی رَسُولِ اللّٰہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ربیعہ بن ابی عبدالرحمن رحمہ اللہ ، اہل مدینہ کے کئی ایک علماء سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ آئے ، وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پر داخل ہونے ( یعنی ان کے پاس آنے ) کی اجازت طلب کر رہے تھے ۔ چنانچہ انھوں نے تین بار اجازت مانگی ، پھر ( جواب نہ ملنے پر ) لوٹ گئے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ( کسی کو ) ان کے پیچھے بھیجا ، پھر ( جب وہ آئے تو ان سے ) کہا : تمھیں کیا ہوا تھا ، تم اندر داخل کیوں نہ ہوئے ؟ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہنے لگے : میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا تھا ، آپ ﷺ فرما رہے تھے :’’ اجازت کا طلب کرنا تین بار ہے ، چنانچہ اگر تمھیں اجازت دے دی جائے تو داخل ہو جاؤ ورنہ واپس لوٹ جاؤ ۔‘‘ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہنے لگے : ( تمھارے سوا ) اور کس کو یہ حدیث معلوم ہے ؟ اگر تم میرے پاس اس شخص کو نہ لائے جو اسے جانتا ہو تو میں تمھارے ساتھ ایسا ایسا کروں گا ( عبرتناک سزا دوں گا ) ۔ چنانچہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ باہر نکلے ، یہاں تک کہ مسجد ( نبوی ) میں ایک محفل کے پاس آئے جسے ’’ انصار کی مجلس ‘‘ کہا جاتا تھا اور کہنے لگے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ خبر دی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا تھا ، آپ ﷺ فرما رہے تھے : اجازت کا طلب کرنا تین بار ہے ، چنانچہ اگر تمھیں اجازت دے دی جائے تو داخل ہو جاؤ ورنہ واپس لوٹ جاؤ ۔‘‘ تو وہ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے ) کہنے لگے : اگر تم میرے پاس اس شخص کو نہ لائے جو اسے جانتا ہو تو میں تمھارے ساتھ ایسا ایسا کروں گا ۔ ( اب ) اگر تم میں سے کسی نے یہ بات ( نبی کریم ﷺ سے ) سنی ہے تو وہ میرے ساتھ اٹھ کھڑا ہو ۔ چنانچہ لوگوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اس کے ساتھ اٹھو ۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ان میں سب سے چھوٹی عمر کے تھے ۔ انھوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے فرمایا : آگاہ رہو ، بلاشبہ میں نے تم پر ( حدیث گھڑ لینے کا ) الزام نہیں لگایا تھا لیکن مجھے اس بات کا ڈر ہوا کہ ( کہیں ایسا نہ ہو کہ ) لوگ رسول اللہ ﷺ پر بات گھڑ لیا کریں ۔