Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 46 · Chapter 563

متفرق مسائل کی کتاب

سلام کے متعلق مختلف احادیث کا بیان

4 hadiths in this chapter

1753

Muwatta Imam Malik #1753

Sahih

[1753] عَنْ أبِی وَاقِدٍ اللَّیْثِیِّ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ بَیْنَمَا ہُوَ جَالِسٌ فِی الْمَسْجِدِ، وَالنَّاسُ مَعَہُ، إِذْ أَقْبَلَ نَفَرٌ ثَـلَاثَۃٌ، فَأَقْبَلَ اثْنَانِ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، وَذَہَبَ وَاحِدٌ، فَلَمَّا وَقَفَا عَلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ سَلَّمَا، فَأَمَّا أَحَدُہُمَا فَرَأَی فُرْجَۃً فِی الْحَلْقَۃِ فَجَلَسَ فِیہَا، وَأَمَّا الآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَہُمْ، وَأَمَّا الثَّالِثُ فَأَدْبَرَ ذَاہِباً، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ قَالَ :أَلَا أُخْبِرُکُمْ عَنِ النَّفَرِ الثَّـلَاثَۃِ : أَمَّا أَحَدُہُمْ فَأَوَی إِلَی اللّٰہِ فَآوَاہُ اللَّہُ، وَأَمَّا الآخَرُ فَاسْتَحْیَا فَاسْتَحْیَا اللّٰہُ مِنْہُ، وَأَمَّا الآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللّٰہُ عَنْہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اسی اثناء میں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف فرما ( تھے اور بیان فرما رہے ) تھے اور لوگ بھی آپ ﷺ کے ہمراہ ( حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے ) تھے کہ اچانک تین آدمیوں کا ایک گروہ آیا ، پس ( ان میں سے ) دو آدمی تو رسول اللہ ﷺ کی طرف متوجہ ہوئے اور ایک چلا گیا ۔ چنانچہ جب وہ دونوں رسول اللہ ﷺ ( کی محفل ) کے پاس آ کر ٹھہرے تو دونوں نے سلام کہا ۔ پھر ان میں سے ایک نے تو حلقے میں خالی جگہ دیکھی ، سو وہ ( وہاں آ کر ) اس میں بیٹھ گیا ۔ رہا دوسرا شخص تو وہ لوگوں کے پیچھے ہی بیٹھ گیا ۔ رہا تیسرا شخص تو وہ پیٹھ پھیر کر چلا گیا ۔ چنانچہ جب رسول اللہ ﷺ ( اپنے خطبہ اور وعظ و نصیحت ) سے فارغ ہوئے تو فرمایا :’’ کیا میں تمھیں ان تین آدمیوں کے گروہ کے متعلق خبر نہ دوں ، رہا ان میں سے ایک تو اس نے اللہ ( کی ہدایت ) کی طرف ( آگے آ کر ) جگہ پکڑی سو اللہ تعالیٰ نے اسے ( اپنی رحمت میں ) جگہ عطا فرما دی ، رہا دوسرا تو وہ ( محفل چھوڑ کر جانے سے ، پھر مجلس میں گھسنے سے اور کسی کی اذیت رسانی کے احساس سے ) شرما گیا ( اور پیچھے ہی بیٹھ گیا ) تو اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے حیا فرمائی ( اور اسے رحمت و مغفرت سے نواز دیا ) اور رہا تیسرا شخص تو اس نے ( اللہ کے نازل کردہ علم والی محفل سے ) اعراض کیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے اعراض کیا ( اور اس پر پہلے دونوں شخصوں جیسی رحمت و مغفرت نہ فرمائی ) ۔‘‘

1754

Muwatta Imam Malik #1754

Sahih

[1754] عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، أَ نَّہُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَسَلَّمَ عَلَیْہِ رَجُلٌ، فَرَدَّ عَلَیْہِ السَّلَامَ، ثُمَّ سَأَلَ عُمَرُ الرَّجُلَ : کَیْفَ أَنْتَ ؟ فَقَالَ : أَحْمَدُ إِلَیْکَ اللَّہَ۔ فَقَالَ عُمَرُ : ذَلِکَ الَّذِی أَرَدْتُ مِنْکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سنا ، اس حال میں کہ ایک شخص نے انھیں سلام کہا تو انھوں نے سلام کا جواب اسے لوٹایا ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس آدمی سے پوچھا کہ کیسے ہو ؟ وہ کہنے لگا کہ : میں آپ کے سامنے اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں ( اس کا لاکھ لاکھ شکر ہے ) تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے بھی تم سے یہی چاہا تھا ( کہ تم ہر حال میں اللہ ہی کا شکر ادا کرو تاکہ اس کی مزید نعمتوں کے مستحق بنو ) ۔

1755

Muwatta Imam Malik #1755

Zaeef

[1755] عَنْ مَالِکٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی طَلْحَۃَ، أَنَّ الطُّفَیْلَ بْنَ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ أَخْبَرَہُ : أَ نَّہُ کَانَ یَأْتِی عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ، فَیَغْدُو مَعَہُ إِلَی السُّوقِ۔ قَالَ : فَإِذَا غَدَوْنَا إِلَی السُّوقِ لَمْ یَمُرَّ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ عَلَی سَقَّاطٍ وَلَا صَاحِبِ بَیْعَۃٍ وَلَا مِسْکِینٍ وَلَا أَحَدٍ إِلاَّ سَلَّمَ عَلَیْہِ، قَالَ الطُّفَیْلُ : فَجِئْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ یَوْماً، فَاسْتَتْبَعَنِی إِلَی السُّوقِ، فَقُلْتُ لَہُ : وَمَا تَصْنَعُ فِی السُّوقِ، وَأَنْتَ لَا تَقِفُ عَلَی الْبَیِّعِ، وَلَا تَسْأَلُ عَنِ السِّلَعِ، وَلَا تَسُومُ بِہَا، وَلَا تَجْلِسُ فِی مَجَالِسِ السُّوقِ ؟ قَالَ : وَأَقُولُ : اجْلِسْ بِنَا ہَا ہُنَا نَتَحَدَّثْ۔ قَالَ : فَقَالَ لِی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ : یَا أَبَا بَطْنٍ - وَکَانَ الطُّفَیْلُ ذَا بَطْنٍ - إِنَّمَا نَغْدُو مِنْ أَجْلِ السَّلَامِ، نُسَلِّمُ عَلَی مَنْ لَقِیَنَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

طفیل بن اُبی بن کعب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا کرتے تھے ، پھر ان کے ہمراہ صبح کے وقت بازار جایا کرتے تھے ۔ ( طفیل رحمہ اللہ ) کہتے ہیں : جب ہم بازار کی طرف جاتے تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نہ تو کسی ردی اشیاء ( سیکنڈ ہینڈ ) مال بیچنے والے کے پاس اور نہ کسی ( صحیح اور اعلیٰ کوالٹی والا مال ) فروخت کرنے والے ( دکاندار ) کے پاس سے ، نہ کسی مسکین اور نہ ہی کسی اور کے پاس سے گزرتے مگر ضرور اسے سلام کہتے ۔ طفیل رحمہ اللہ کہتے ہیں : ایک دن میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا تو انھوں نے مجھے اپنے پیچھے ( اپنے ساتھ ) بازار جانے کے لیے کہا تو میں نے ان سے عرض کیا : آپ بازار میں جا کر کیا کریں گے ؟ آپ نہ تو کسی بیچنے والے کے پاس ٹھہرتے ہیں ، نہ کسی سامان کے متعلق پوچھتے ہیں ، نہ اس کا بھاؤ لگاتے ہیں اور نہ ہی آپ بازار کی مجلسوں میں بیٹھتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ان سے کہنے لگا : آپ یہیں ہمارے ساتھ ہی بیٹھے رہیے ہم ( ادھر ہی ) گفتگو کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے : اے ( بڑے ) پیٹ والے ( او ٹڈلا ) ! اور طفیل رحمہ اللہ ( بڑے ) پیٹ والے ( موٹے شخص ) تھے ۔ ہم تو بلاشبہ صرف اور صرف صبح کے وقت سلام ( کہنے ) کی وجہ سے ( بازار ) جاتے ہیں ، ( پھر ) ہم جس سے بھی ملتے ہیں اسے سلام کہتے ہیں ۔

1756

Muwatta Imam Malik #1756

Zaeef

[1756] عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ : أَنَّ رَجُلاً سَلَّمَ عَلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ وَالْغَادِیَاتُ وَالرَّائِحَاتُ۔ فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ : وَعَلَیْکَ أَلْفاً۔ ثُمَّ کَأَنَّہُ کَرِہَ ذَلِکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ ایک آدمی نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یوں سلام کہا : ( اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ وَالْغَادِیَاتُ وَالرَّائِحَاتُ ) ’’ آپ پر سلامتی ہو ، اللہ کی رحمت اور اس کی برکات نازل ہوں اور صبح و شام آنے والی نعمتیں بھی ( ملتی رہیں ) ۔‘‘ تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ( وَ عَلَیْکَ اَلْفًا ) ’’ اور تجھ پر بھی ہزار بار ۔‘‘ پھر ( انھوں نے ایسا انداز اختیار کیا کہ ) گویا انھوں نے اس ( اضافے ) کو ناپسند جانا ہے ۔