Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 46 · Chapter 558

متفرق مسائل کی کتاب

اللہ کی خاطر باہم محبت کرنے والوں کا بیان

5 hadiths in this chapter

1736

Muwatta Imam Malik #1736

Sahih

[1736] عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ، أَ نَّہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ :إِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی یَقُولُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: : أَیْنَ الْمُتَحَابُّونَ لِجَلَالِی، الْیَوْمَ أُظِلُّہُمْ فِی ظِلِّی, یَوْمَ لَا ظِلَّ إِلاَّ ظِلِّی۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن فرمائیں گے : کہاں ہیں میری جلالت ( و بزرگی اور عظمت ) کی وجہ سے آپس میں محبت رکھنے والے ؟ آج کے دن میں انھیں اپنے ( عرش کے ) سائے میں سایہ عطا کروں گا جس دن کہ میرے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہے ۔‘‘

1737

Muwatta Imam Malik #1737

Sahih

[1737] عَنْ أبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، أَوْ عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ، أَ نَّہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : سَبْعَۃٌ یُظِلُّہُمُ اللّٰہُ فِی ظِلِّہِ، یَوْمَ لَا ظِلَّ إِلاَّ ظِلُّہُ، إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِی عِبَادَۃِ اللّٰہِ، وَرَجُلٌ قَلْبُہُ مُتَعَلِّقٌ بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْہُ حَتَّی یَعُودَ إِلَیْہِ, وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِی اللّٰہِ اجْتَمَعَا عَلَی ذَلِکَ وَتَفَرَّقَا عَلَیْہِ، وَرَجُلٌ ذَکَرَ اللّٰہَ خَالِیاً فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ، وَرَجُلٌ دَعَتْہُ ذَاتُ حَسَبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ : إنِّی أَخَافُ اللَّہَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ فَأَخْفَاہَا حَتَّی لَا تَعْلَمَ شِمَالُہُ مَا تُنْفِقُ یَمِینُہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ یا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سات ( قسم کے ) افراد کو اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں اس دن سایہ عطا فرمائے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ ( 1 ) عدل کرنے والا امام ( 2 ) وہ نوجوان جو اللہ کی عبادت میں پروان چڑھا ۔ ( 3 ) وہ شخص جس کا دل مسجد سے لٹکا رہتا ہے اس وقت کہ جب وہ مسجد سے باہر نکلے ( اس کا دل مسجد ہی کی طرف مائل رہتا ہے اور بے چین رہتا ہے ) یہاں تک کہ اس ( مسجد ) کی طرف واپس لوٹ آئے ۔ ( 4 ) وہ دو شخص جو اللہ کی خاطر آپس میں محبت کریں ، وہ دونوں اسی پر جمع ہوں اور اسی پر وہ جدا ہوں ۔ ( 5 ) وہ شخص جو اللہ کا ذکر کرے اس حال میں کہ وہ تنہا ہو تو ( اللہ کی یاد سے ) اس کی آنکھیں ( آنسوؤں کے ساتھ ) بہہ پڑیں ۔ ( 6 ) وہ آدمی جسے حسب ( خاندانی شرافت ) اور خوبصورتی والی عورت ( زنا کی ) دعوت دے تو وہ کہے : بلاشبہ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں ، اور ( 7 ) وہ آدمی جو کوئی صدقہ کرے تو اسے ( اس قدر ) مخفی رکھے یہاں تک کہ اس کے بائیں ہاتھ کو معلوم نہ ہو سکے کہ اس کا دایاں ہاتھ کیا خرچ کر رہا ہے ۔

1738

Muwatta Imam Malik #1738

Sahih

[1738] عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : إِذَا أَحَبَّ اللّٰہُ الْعَبْدَ قَالَ لِجِبْرِیلَ : قَدْ أَحْبَبْتُ فُلَاناً فَأَحِبَّہُ۔ فَیُحِبُّہُ جِبْرِیلُ، ثُمَّ یُنَادِی فِی أَہْلِ السَّمَائِ : إِنَّ اللّٰہَ قَدْ أَحَبَّ فُلَاناً فَأَحِبُّوہُ۔ فَیُحِبُّہُ أَہْلُ السَّمَائِ، ثُمَّ یُوضَعُ لَہُ الْقَبُولُ فِی الأَرْضِ، وَإِذَا أَبْغَضَ اللّٰہُ الْعَبْدَ۔ قَالَ مَالِکٌ : لَا أَحْسِبُہُ إِلاَّ أَ نَّہُ قَالَ فِی الْبُغْضِ مِثْلَ ذَلِکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یقیناً رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتے ہیں تو جبریل علیہ السلام سے کہتے ہیں : اے جبریل ! یقیناً میں نے فلاں شخص سے محبت کی ہے ( اسے اپنا محبوب بنا لیا ہے ) لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو ۔ چنانچہ جبریل علیہ السلام اس سے محبت کرنے لگتے ہیں ، پھر وہ آسمان والوں ( تمام فرشتوں وغیرہ ) میں منادی کرتے ہیں کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کو فلاں بندے سے محبت ہے ، اس لیے تم سب بھی اس سے محبت کرو ۔ چنانچہ اس سے آسمان والے ( تمام فرشتے ) محبت کرنے لگتے ہیں ، پھر زمین میں اس کے لیے قبولیت اتار دی جاتی ہے ( وہ محبوب زماں بن جاتا ہے ) ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے بغض ( اور نفرت ) کرتے ہیں … ‘‘ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ : میں ان کو ( یعنی اپنے شیخ سہیل بن ابی صالح کو ) اور کچھ خیال نہیں کرتا مگر یہی کہ انھوں نے بغض کے متعلق بھی اسی طرح کہا ( اور بیان کیا ) ۔

1739

Muwatta Imam Malik #1739

Sahih

[1739] عَنْ أبِی إِدْرِیسَ الْخَوْلَانِیِّ، أَ نَّہُ قَالَ : دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقَ، فَإِذَا فَتًی شَابٌّ بَرَّاقُ الثَّنَایَا، وَإِذَا النَّاسُ مَعَہُ، إِذَا اخْتَلَفُوا فِی شَیْئٍ أَسْنَدُوا إِلَیْہِ وَصَدَرُوا عَنْ قَوْلِہِ، فَسَأَلْتُ عَنْہُ، فَقِیلَ : ہَذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ ہَجَّرْتُ، فَوَجَدْتُہُ قَدْ سَبَقَنِی بِالتَّہْجِیرِ، وَوَجَدْتُہُ یُصَلِّی، قَالَ : فَانْتَظَرْتُہُ حَتَّی قَضَی صَلَاتَہُ، ثُمَّ جِئْتُہُ مِنْ قِبَلِ وَجْہِہِ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ، ثُمَّ قُلْتُ : وَاللّٰہِ إنِّی لأُحِبُّکَ لِلَّہِ۔ فَقَالَ : آللَّہِ ؟ فَقُلْتُ : آللَّہِ۔ فَقَالَ : آللَّہِ ؟ فَقُلْتُ : آللَّہِ۔ فَقَالَ : آللَّہِ ؟ فَقُلْتُ : آللَّہِ۔ قَالَ: فَأَخَذَ بِحُبْوَۃِ رِدَائِی فَجَبَذَنِی إِلَیْہِ وَقَالَ : أَبْشِرْ, فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَقُولُ: قَالَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی : وَجَبَتْ مَحَبَّتِی لِلْمُتَحَابِّینَ فِیَّ، وَالْمُتَجَالِسِینَ فِیَّ، وَالْمُتَزَاوِرِینَ فِیَّ، وَالْمُتَبَاذِلِینَ فِیَّ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابوادریس خولانی رحمہ اللہ سے روایت ہے ، اس نے کہا : میں دمشق کی مسجد میں داخل ہوا تو اچانک ( وہاں ) ایک نوجوان شخص ( موجود ) تھا ، جو بہت سفید ( اور چمکدار ) دانتوں والا تھا اور اچانک کچھ لوگ بھی اس کے ساتھ ( نظر آ رہے ) تھے ۔ جب بھی ان کا کسی چیز کے متعلق اختلاف ہوتا تو وہ اسی ( کے فیصلے ) پر بھروسہ کرتے اور اس کی ( فیصلہ کن ) بات سے مدد لیتے ( اور چپ چاپ مان لیتے ۔ ابو ادریس خولانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ) چنانچہ میں نے اس کے متعلق پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ یہ ( صحابی رسول ﷺ ) حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں ۔ پھر جب اگلا دن ہوا تو میں ( مسجد کی طرف ) جلدی جلدی گیا ۔ میں نے انھیں دیکھا کہ وہ تو جلدی آنے میں مجھ سے بھی سبقت لے جا چکے ہیں اور میں نے انھیں نماز پڑھتے ہوئے پایا ۔ چنانچہ میں نے ان کا انتظار کیا ، یہاں تک کہ انھوں نے اپنی نماز پوری کی ، پھر میں ان کے چہرے کی جانب سے ان کے پاس آیا اور انھیں سلام عرض کیا ، پھر میں نے کہا : اللہ کی قسم ! یقیناً میں اللہ کے لیے آپ سے محبت کرتا ہوں ۔ وہ فرمانے لگے : کیا واقعی ، اللہ کی قسم ! میں نے کہا کہ یقیناً ، اللہ کی قسم ! انھوں نے پھر کہا کہ کیا واقعی ، اللہ کی قسم ! ؟ میں نے بھی کہا کہ یقیناً اللہ کی قسم ! تو انھوں نے میری چادر کا کنارہ پکڑا اور مجھے اپنی طرف کھینچا اور فرمایا : خوش ہو جاؤ ، کیونکہ بلاشبہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا تھا ، آپ ﷺ فرما رہے تھے :’’ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میری محبت ان لوگوں کے لیے واجب ہو گئی ہے جو میری خاطر باہم محبت رکھنے والے ہیں اور جو میری خاطر ( نیک مقاصد کے لیے ) آپس میں مل بیٹھنے والے ہیں ، اور جو میری خاطر ایک دوسرے کی زیارت ( ملاقات ) کرنے والے ہیں اور جو میری خاطر ایک دوسرے پر خرچ کرنے والے ہیں ۔

1740

Muwatta Imam Malik #1740

Zaeef

[1740] عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَ نَّہُ کَانَ یَقُولُ : الْقَصْدُ وَالْتُّؤَدَۃُ وَحُسْنُ السَّمْتِ، جُزْئٌ مِنْ خَمْسَۃٍ وَعِشْرِینَ جُزْء اً مِنَ النُّبُوَّۃِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، وہ کہا کرتے تھے کہ میانہ روی ، نرمی اور اچھی ہیت و صورت نبوت کے پچیس اجزاء میں سے ایک جز ہے ۔