Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 46 · Chapter 557

متفرق مسائل کی کتاب

نیند وغیرہ کے وقت پناہ مانگنے کے حکم کا بیان

4 hadiths in this chapter

1732

Muwatta Imam Malik #1732

Sahih

[1732] عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، قَالَ : بَلَغَنِی أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ قَالَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ﷺ : إنِّی أُرَوَّعُ فِی مَنَامِی۔ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : قُلْ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّۃِ مِنْ غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَشَرِّ عِبَادِہِ، وَمِنْ ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ، وَأَنْ یَحْضُرُونِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : بلاشبہ میں اپنی نیند میں ڈرا دیا جاتا ہوں ( اور گھبرا جاتا ہوں ) تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ یہ پڑھا کرو : ’’ اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّۃِ مِنْ غَضَبِہٖ وَ عِقَابِہٖ وَ شَرِّ عِبَادِہٖ وَ مِنْ ھَمَزَاتِ الشَّیَاطِیْنِ وَ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ ‘‘ ’’ میں اللہ کے کامل کلمات کے ساتھ پناہ پکڑتا ہوں اس کے غضب سے ، اس کے عذاب سے ، اس کے بندوں کے شر سے ، شیطانوں کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ شیطان میرے پاس حاضر ہوں ۔‘‘

1733

Muwatta Imam Malik #1733

Sahih

[1733] عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَ نَّہُ قَالَ : أُسْرِیَ بِرَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، فَرَأَی عِفْرِیتاً مِنَ الْجِنِّ یَطْلُبُہُ بِشُعْلَۃٍ مِنْ نَارٍ، کُلَّمَا الْتَفَتَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ رَآہُ، فَقَالَ لَہُ جِبْرِیلُ : أَفَلَا أُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ تَقُولُہُنَّ، إِذَا قُلْتَہُنَّ طَفِئَتْ شُعْلَتُہُ، وَخَرَّ لِفِیہِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : بَلَی فَقَالَ جِبْرِیلُ : فَقُلْ أَعُوذُ بِوَجْہِ اللّٰہِ الْکَرِیمِ وَبِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ، اللاَّتِی لَا یُجَاوِزُہُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ، مِنْ شَرِّ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَائِ، وَشَرِّ مَا یَعْرُجُ فِیہَا، وَشَرِّ مَا ذَرَأَ فِی الأَرْضِ، وَشَرِّ مَا یَخْرُجُ مِنْہَا، وَمِنْ فِتَنِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ، وَمِنْ طَوَارِقِ اللَّیْلِ، إِلاَّ طَارِقاً یَطْرُقُ بِخَیْرٍ، یَا رَحْمَنُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو ( جس رات ) معراج پر لے جایا گیا ، آپ ﷺ نے جنات میں سے ایک دیو کو دیکھا کہ وہ آگ کا ایک شعلہ لے کر آپ ﷺ کو طلب کر رہا ہے ( اور آپ ﷺ کو کوئی نقصان پہنچانا چاہتا ہے ) ۔ جب بھی رسول اللہ ﷺ مڑ کر دیکھتے تو اسے ( اسی حالت میں پیچھا کرتے ہوئے ) دیکھتے ، تو جبریل علیہ السلام نے آپ ﷺ سے کہا : کیا میں آپ کو وہ کلمات نہ سکھاؤں کہ جنھیں آپ پڑھ لیں ۔ جب آپ انھیں کہہ لیں گے تو اس کا شعلہ بجھ جائے گا اور وہ اپنے منہ کے بل گر پڑے گا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیوں نہیں ۔‘‘ چنانچہ جبریل علیہ السلام نے کہا : آپ یہ پڑھیے : ( اَعُوْذُ بِوَجْہِ اللّٰہِ الْکَرِیْمِ …… ) سے آخر تک ۔ ( ترجمہ ) :’’ میں اللہ کے عزت والے چہرے کے ساتھ اور اللہ کے وہ کامل کلمات کہ جن سے نہ کوئی نیک اور نہ کوئی بد شخص تجاوز کر سکتا ہے ، ( کوئی شخص ان کلمات سے زیادہ کا علم نہیں رکھتا ، میں ان کلمات ) کے ساتھ پناہ پکڑتا ہوں ، اس چیز کے شر سے جو آسمان سے اترتی ہے اور اس چیز کے شر سے جو اس میں چڑھتی ہے اور اس چیز کے شر سے جو اس ( اللہ ) نے زمین میں پیدا فرمائی ہے اور اس چیز کے شر سے جو اس سے نکلتی ہے ، اور رات اور دن کے فتنوں سے ، اور رات اور دن میں آنے والی چیزوں ( آفتوں اور حادثات ) سے ، سوائے اس چیز کے جو رات کے وقت خیر کے ساتھ اترے ، اے رحمان !‘‘

1734

Muwatta Imam Malik #1734

Sahih

[1734] عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَسْلَمَ قَالَ : مَا نِمْتُ ہَذِہِ اللَّیْلَۃَ۔ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ :مِنْ أَیِّ شَیْئٍ ؟۔ فَقَالَ : لَدَغَتْنِی عَقْرَبٌ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ :أَمَا إِنَّکَ لَوْ قُلْتَ حِینَ أَمْسَیْتَ : أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ تَضُرَّکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک ( بنوخزاعہ کی ایک شاخ ) اسلم قبیلے کے ایک شخص نے عرض کیا : ( اے اللہ کے رسول ﷺ ! ) میں آج کی اس رات میں سو نہ سکا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کس چیز کی وجہ سے ؟‘‘ انھوں نے کہا کہ ایک بچھو نے مجھے ڈس لیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آگاہ رہو اگر تم اس وقت کہ جب تم نے شام کی تھی ، یہ کہہ لیتے : ( اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ) ( میں اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات کے ساتھ ہر اس چیز کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جو اس نے پیدا کی ہے ۔ ) تو وہ بچھو تمھیں نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا ۔‘‘

1735

Muwatta Imam Malik #1735

Sahih

[1735] عَنْ کَعْبِ الأَحْبَارِ قَالَ : لَوْلَا کَلِمَاتٌ أَقُولُہُنَّ، لَجَعَلَتْنِی یَہُودُ حِمَاراً۔ فَقِیلَ لَہُ: وَمَا ہُنَّ ؟ فَقَالَ : أَعُوذُ بِوَجْہِ اللّٰہِ الْعَظِیمِ، الَّذِی لَیْسَ شَیْئٌ أَعْظَمَ مِنْہُ، وَبِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ، الَّتِی لَا یُجَاوِزُہُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ، وَبِأَسْمَائِ اللّٰہِ الْحُسْنَی کُلِّہَا, مَا عَلِمْتُ مِنْہَا وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَبَرَأَ وَذَرَأَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

کعب احبار رحمہ اللہ ( جو اسلام لانے سے قبل یہودی عالم تھے ) سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ اگر وہ کلمات نہ ہوتے جو میں کہتا رہتا ہوں تو یہودی ( جادو کے ذریعے ) مجھے گدھا بنا دیتے ۔ ان سے کہا گیا کہ وہ کلمات کیا ہیں ؟تو انھوں نے فرمایا : ( اَعُوْذُ بِوَجْہِ اللّٰہِ …… ) سے آخر تک ۔ ( ترجمہ ) ’’ میں پناہ حاصل کرتا ہوں بہت عظمت والے اللہ کے ساتھ کہ کوئی بھی شے جس سے عظیم نہیں ہو سکتی ، اور اللہ کے ان کلمات کے ساتھ جن سے نہ کوئی نیک تجاوز کر سکتا ہے اور نہ کوئی بد ( یعنی کوئی شخص ان سے زیادہ کا علم نہیں رکھتا ) اور اللہ کے تمام اسمائے حسنیٰ ( اچھے اچھے ناموں ) کے ساتھ ان میں سے جس کا مجھے علم ہے یا جسے میں نہیں جانتا ( تو ان تمام چیزوں کے ساتھ میں پناہ پکڑتا ہوں ) ہر اس چیز کے شر سے جسے اس نے تخلیق کیا ، پیدا فرمایا اور پھیلایا ۔‘‘