Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 46 · Chapter 554

متفرق مسائل کی کتاب

بالوں کے متعلق سنتوں کا بیان

5 hadiths in this chapter

1724

Muwatta Imam Malik #1724

Sahih

[1724] عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ أَمَرَ بِإِحْفَائِ الشَّوَارِبِ وَإِعْفَائِ اللِّحَی۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے مونچھوں کے مونڈنے اور داڑھیوں کے بڑھانے کا حکم دیا ہے ۔

1725

Muwatta Imam Malik #1725

Sahih

[1725] عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّہُ سَمِعَ مُعَاوِیَۃَ بْنَ أبِی سُفْیَانَ عَامَ حَجَّ وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ، وَتَنَاوَلَ قُصَّۃً مِنْ شَعَرٍ کَانَتْ فِی یَدِ حَرَسِیٍّ یَقُولُ : یَا أَہْلَ الْمَدِینَۃِ أَیْنَ عُلَمَاؤُکُمْ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ یَنْہَی عَنْ مِثْلِ ہَذِہِ،وَیَقُولُ : إِنَّمَا ہَلَکَتْ بَنُو إِسْرَائِیلَ حِینَ اتَّخَذَ ہَذِہِ نِسَاؤُہُمْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حمید بن عبدالرحمن بن عوف رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھوں نے ( امیرالمومنین ) حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو سنا ، اس سال ، جس میں انھوں نے ( ملک شام سے آ کر ) حج کیا ، اس ( بیان کے ) وقت وہ ( مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کے ) منبر پر تھے اور انھوں نے ( نقلی ) بالوں کا ایک گچھا لیا جو ( ان کے پکڑنے سے پہلے ) ایک محافظ کے ہاتھ میں تھا ۔ ( حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے انھیں سنا ) وہ فرما رہے تھے : اے مدینہ والو ! کہاں ہیں تمھارے علماء ؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا تھا ، آپ ﷺ اس طرح کی چیز سے منع کر رہے تھے اور یہ ارشاد فرما رہے تھے :’’ بلاشبہ بنی اسرائیل اس وقت ہلاک کیے گئے ، جب ان کی عورتوں نے اسے اختیار کیا ۔‘‘

1726

Muwatta Imam Malik #1726

Sahih

[1726] عَنْ زِیَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، أَ نَّہُ سَمِعَہُ یَقُولُ : سَدَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ نَاصِیَتَہُ مَا شَائَ اللَّہُ، ثُمَّ فَرَقَ بَعْدَ ذَلِکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

زیاد بن سعد رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھوں نے ابن شہاب رحمہ اللہ کو سنا ، وہ ایک آدمی سے کہہ رہے تھے : رسول اللہ ﷺ اپنی پیشانی کے بال ، جب تک اللہ نے چاہا سیدھے لٹکاتے رہے ( اور سر کے درمیان میں مانگ نہ نکالتے ) پھر اس کے بعد مانگ نکالنے لگے ۔

1727

Muwatta Imam Malik #1727

Sahih

[1727] عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَ نَّہُ کَانَ یَکْرَہُ الإِخْصَائَ وَیَقُولُ : فِیہِ تَمَامُ الْخَلْقِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ خصّی کرنے کو ناپسند کرتے تھے اور کہتے تھے : اس ( خصیوں ، کپوروں کے باقی رکھنے ) میں تخلیق کی تکمیل ہے ۔

1728

Muwatta Imam Malik #1728

Sahih

[1728] عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَیْمٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ :أَنَا وَکَافِلُ الْیَتِیمِ لَہُ أَوْ لِغَیْرِہِ فِی الْجَنَّۃِ کَہَاتَیْنِ، إِذَا اتَّقَی۔ وَأَشَارَ بِإِصْبُعَیْہِ الْوُسْطَی وَالَّتِی تَلِی الإِبْہَامَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

صفوان بن سلیم رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک نبی کریم ﷺ نے فرمایا :’’ میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا ( خواہ وہ یتیم ) اس کا ( رشتہ دار مثلاً پوتا ، بھتیجا ، بھائی وغیرہ ) ہو یا کسی اور کا ہو ( یعنی اجنبی اور غیر رشتہ دار ہو تو میں اور وہ کفالت کرنے والا ) جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح ( قریب قریب ) ہوں گے ( بشرطیکہ ) جب وہ تقویٰ اختیار کرے ۔‘‘ اور ( یہ فرماتے ہوئے ) آپ ﷺ نے اپنی دو انگلیوں کے ساتھ اشارہ فرمایا ، درمیانی انگلی اور وہ ( شہادت والی ) انگلی جو انگوٹھے کے قریب ہوتی ہے ۔