Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 46 · Chapter 551

متفرق مسائل کی کتاب

مریض کا دوا استعمال کرنا اور علاج کرنا

3 hadiths in this chapter

1716

Muwatta Imam Malik #1716

Zaeef

[1716] عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ : أَنَّ رَجُلاً فِی زَمَانِ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ أَصَابَہُ جُرْحٌ، فَاحْتَقَنَ الْجُرْحُ الدَّمَ، وَأَنَّ الرَّجُلَ دَعَا رَجُلَیْنِ مِنْ بَنِی أَنْمَارٍ، فَنَظَرَا إِلَیْہِ، فَزَعَمَا أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ لَہُمَا: أَیُّکُمَا أَطَبُّ ؟۔ فَقَالَا : أَوَ فِی الطِّبِّ خَیْرٌ یَا رَسُولَ اللّٰہِ ؟ فَزَعَمَ زَیْدٌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ :أَنْزَلَ الدَّوَائَ، الَّذِی أَنْزَلَ الأَدْوَائَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک آدمی کو کوئی زخم پہنچا اور زخم نے خون کو روک لیا ( زخم پر خون جم گیا ) اور بلاشبہ اس ( زخمی ) آدمی نے بنواَنمار کے دو آدمیوں کو بلایا ، ان دونوں نے اس کی طرف دیکھا ۔ وہ دونوں کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا تھا :’’ تم میں سے کون علم طِبّ کو زیادہ جاننے والا ہے ‘‘؟ دونوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! کیا طب میں کوئی خیر ہے ؟ زید بن اسلم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دوا کو اسی ذات نے نازل فرمایا ہے جس نے بیماریوں کو نازل کیا ہے ۔‘‘

1717

Muwatta Imam Malik #1717

Sahih

[1717] عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، قَالَ : بَلَغَنِی أَنَّ أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَۃَ اکْتَوَی فِی زَمَانِ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ مِنَ الذُّبَحَۃِ فَمَاتَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں : مجھے یہ خبر پہنچی کہ بلاشبہ حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں خنَّاق کی وجہ سے داغ لگوایا تو وہ فوت ہو گئے ۔

1718

Muwatta Imam Malik #1718

Sahih

[1718] عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ اکْتَوَی مِنَ اللَّقْوَۃِ، وَرُقِیَ مِنَ الْعَقْرَبِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے لقوے کی وجہ سے داغ لگوایا اور بچھو ( لڑنے ) کی وجہ سے دم کرایا ۔