Muwatta Imam Malik #1707
[1707] عَنْ حُمَیْدِ بْنِ قَیْسٍ الْمَکِّیِّ، أَ نَّہُ قَالَ : دُخِلَ عَلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ بِابْنَیْ جَعْفَرِ بْنِ أبِی طَالِبٍ، فَقَالَ لِحَاضِنَتِہِمَا :مَا لِی أَرَاہُمَا ضَارِعَیْنِ۔ فَقَالَتْ حَاضِنَتُہُمَا : یَا رَسُولَ اللّٰہِ إِنَّہُ تَسْرَعُ إِلَیْہِمَا الْعَیْنُ، وَلَمْ یَمْنَعْنَا أَنْ نَسْتَرْقِیَ لَہُمَا، إِلاَّ أَ نَّا لَا نَدْرِی مَا یُوَافِقُکَ مِنْ ذَلِکَ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : اسْتَرْقُوا لَہُمَا، فَإِنَّہُ لَوْ سَبَقَ شَیْئٌ الْقَدَرَ، لَسَبَقَتْہُ الْعَیْنُ۔
اردو ترجمہ · Urdu
حمید بن قیس مکی رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ کے پاس حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے دو بیٹوں کو لایا گیا تو آپ ﷺ نے ان کی دایہ ( آیا ) سے فرمایا :’’ مجھے کیا ہوا ہے ( کیا سبب ہے ) کہ میں ان دونوں کو کمزور جسموں والے دیکھ رہا ہوں ؟‘‘ تو ان کی دایہ کہنے لگی کہ : اے اللہ کے رسول ! بلاشبہ شان یہ ہے کہ ان دونوں کو بہت جلد نظر لگ جاتی ہے اور ان دونوں کو ( نظر سے حفاظت کا ) دم کروانے سے ہمیں اس کے علاوہ اور کسی چیز نے نہیں روکا کہ ہمیں علم نہیں تھا کہ ان ( کلمات دم ) میں سے کون سا آپ ( کی لائی ہوئی شریعت ) کے مطابق ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ان دونوں کو دم کرواؤ ، کیونکہ بلاشبہ اگر کوئی شے تقدیر سے سبقت لے جانے والی ہوتی تو نظربد اس سے سبقت لے جاتی ۔‘‘