Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 46 · Chapter 548

متفرق مسائل کی کتاب

نظر بد سے دم کرنے کا بیان

2 hadiths in this chapter

1707

Muwatta Imam Malik #1707

Sahih

[1707] عَنْ حُمَیْدِ بْنِ قَیْسٍ الْمَکِّیِّ، أَ نَّہُ قَالَ : دُخِلَ عَلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ بِابْنَیْ جَعْفَرِ بْنِ أبِی طَالِبٍ، فَقَالَ لِحَاضِنَتِہِمَا :مَا لِی أَرَاہُمَا ضَارِعَیْنِ۔ فَقَالَتْ حَاضِنَتُہُمَا : یَا رَسُولَ اللّٰہِ إِنَّہُ تَسْرَعُ إِلَیْہِمَا الْعَیْنُ، وَلَمْ یَمْنَعْنَا أَنْ نَسْتَرْقِیَ لَہُمَا، إِلاَّ أَ نَّا لَا نَدْرِی مَا یُوَافِقُکَ مِنْ ذَلِکَ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : اسْتَرْقُوا لَہُمَا، فَإِنَّہُ لَوْ سَبَقَ شَیْئٌ الْقَدَرَ، لَسَبَقَتْہُ الْعَیْنُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حمید بن قیس مکی رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ کے پاس حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے دو بیٹوں کو لایا گیا تو آپ ﷺ نے ان کی دایہ ( آیا ) سے فرمایا :’’ مجھے کیا ہوا ہے ( کیا سبب ہے ) کہ میں ان دونوں کو کمزور جسموں والے دیکھ رہا ہوں ؟‘‘ تو ان کی دایہ کہنے لگی کہ : اے اللہ کے رسول ! بلاشبہ شان یہ ہے کہ ان دونوں کو بہت جلد نظر لگ جاتی ہے اور ان دونوں کو ( نظر سے حفاظت کا ) دم کروانے سے ہمیں اس کے علاوہ اور کسی چیز نے نہیں روکا کہ ہمیں علم نہیں تھا کہ ان ( کلمات دم ) میں سے کون سا آپ ( کی لائی ہوئی شریعت ) کے مطابق ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ان دونوں کو دم کرواؤ ، کیونکہ بلاشبہ اگر کوئی شے تقدیر سے سبقت لے جانے والی ہوتی تو نظربد اس سے سبقت لے جاتی ۔‘‘

1708

Muwatta Imam Malik #1708

Sahih

[1708] عَنْ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ حَدَّثَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ دَخَلَ بَیْتَ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، وَفِی الْبَیْتِ صَبِیٌّ یَبْکِی، فَذَکَرُوا لَہُ أَنَّ بِہِ الْعَیْنَ۔ قَالَ عُرْوَۃُ : فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ :أَلَا تَسْتَرْقُونَ لَہُ مِنَ الْعَیْنِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا زوجہ پیغمبر ﷺ کے پاس داخل ہوئے ، اس حال میں کہ گھر میں ایک بچہ رو رہا تھا ۔ انھوں نے ( یعنی گھر والوں نے آپ ﷺ سے ) ذکر کیا کہ یقیناً اسے نظر لگی ہوئی ہے ۔ عروہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم اسے نظر بد کا دم کیوں نہیں کرواتے ؟‘‘