Muwatta Imam Malik #1705
[1705] عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أبِی أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ، أَ نَّہُ سَمِعَ أَبَاہُ یَقُولُ : اغْتَسَلَ أبِی سَہْلُ بْنُ حُنَیْفٍ بِالْخَرَّارِ، فَنَزَعَ جُبَّۃً کَانَتْ عَلَیْہِ، وَعَامِرُ بْنُ رَبِیعَۃَ یَنْظُرُ۔ قَالَ : وَکَانَ سَہْلٌ رَجُلاً أَبْیَضَ حَسَنَ الْجِلْدِ۔ قَالَ : فَقَالَ لَہُ عَامِرُ بْنُ رَبِیعَۃَ : مَا رَأَیْتُ کَالْیَوْمِ وَلَا جِلْدَ عَذْرَائَ۔ قَالَ : فَوُعِکَ سَہْلٌ مَکَانَہُ وَاشْتَدَّ وَعْکُہُ، فَأُتِیَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ فَأُخْبِرَ : أَنَّ سَہْلاً وُعِکَ، وَأَنَّہُ غَیْرُ رَائِحٍ مَعَکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، فَأَتَاہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ ، فَأَخْبَرَہُ سَہْلٌ بِالَّذِی کَانَ مِنْ شَأْنِ عَامِرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ :عَلَامَ یَقْتُلُ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ : أَلاَّ بَرَّکْتَ، إِنَّ الْعَیْنَ حَقٌّ، تَوَضَّأْ لَہُ۔ فَتَوَضَّأَ لَہُ عَامِرٌ، فَرَاحَ سَہْلٌ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ لَیْسَ بِہِ بَأْسٌ۔
اردو ترجمہ · Urdu
محمد بن ابی امامہ بن سہل بن حُنَیف رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھوں نے اپنے والد ابوامامہ رحمہ اللہ ( اسعد بن سہل ) کو سنا ، وہ فرما رہے تھے : میرے والد حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے ( جُحفہ کے قریب ایک جگہ ) ’’ خَرَّار ‘‘ میں غسل کیا ، چنانچہ انھوں نے اپنا جُبّہ ( عَبَا ، چُغہ ، چوغہ ، ایک لمبا کوٹ یا قمیص جو پاؤں تک ہوتا ہے ) اتارا جو کہ ان کے اوپر تھا ، اس حال میں کہ حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ ( انھیں ) دیکھ رہے تھے ۔ ابوامامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت سہل رضی اللہ عنہ گورے اور سفید چمڑے والے تھے ۔ ابوامامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ ان سے کہنے لگے : میں نے آج کے دن کی طرح ( کوئی گورا اور خوبصورت جسم ) نہیں دیکھا اور نہ ہی کسی کنواری کا چمڑا ( اتنا خوبصورت پایا ۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نیچے گر پڑے ) چنانچہ حضرت سہل رضی اللہ عنہ بخار میں مبتلا ہو گئے اور ان کا بخار سخت ہو گیا ۔ پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا گیا اور آپ ﷺ کو خبر دی گئی کہ بلاشبہ حضرت سہل رضی اللہ عنہ بخار میں مبتلا ہیں اور یقیناً اے اللہ کے رسول ! وہ آپ کے ہمراہ پچھلے پہر ( کہیں ) جا نہیں سکتے ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ ( بذات خود ) ان کے پاس تشریف لائے تو حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کو اس ( صورت حال ) کی خبر دی جو حضرت عامر رضی اللہ عنہ کے معاملے سے ( واقع ہوئی ) تھی ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کس بنا پر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے ، ( اے عامر ! ) تم نے اس کے لیے برکت کی دعا کیوں نہ کی ، یقیناً نظر بد ایک حقیقت ہے ، اس کے لیے وضو کرو ۔‘‘ چنانچہ حضرت عامر رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے وضو کیا تو پچھلے پہر حضرت سہل رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ اس حال میں گئے کہ انھیں کچھ بھی تکلیف نہ تھی ۔