Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 46 · Chapter 547

متفرق مسائل کی کتاب

نظر بد کی وجہ سے وضو کرنے کا بیان

2 hadiths in this chapter

1705

Muwatta Imam Malik #1705

Sahih

[1705] عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أبِی أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ، أَ نَّہُ سَمِعَ أَبَاہُ یَقُولُ : اغْتَسَلَ أبِی سَہْلُ بْنُ حُنَیْفٍ بِالْخَرَّارِ، فَنَزَعَ جُبَّۃً کَانَتْ عَلَیْہِ، وَعَامِرُ بْنُ رَبِیعَۃَ یَنْظُرُ۔ قَالَ : وَکَانَ سَہْلٌ رَجُلاً أَبْیَضَ حَسَنَ الْجِلْدِ۔ قَالَ : فَقَالَ لَہُ عَامِرُ بْنُ رَبِیعَۃَ : مَا رَأَیْتُ کَالْیَوْمِ وَلَا جِلْدَ عَذْرَائَ۔ قَالَ : فَوُعِکَ سَہْلٌ مَکَانَہُ وَاشْتَدَّ وَعْکُہُ، فَأُتِیَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ فَأُخْبِرَ : أَنَّ سَہْلاً وُعِکَ، وَأَنَّہُ غَیْرُ رَائِحٍ مَعَکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، فَأَتَاہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ ، فَأَخْبَرَہُ سَہْلٌ بِالَّذِی کَانَ مِنْ شَأْنِ عَامِرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ :عَلَامَ یَقْتُلُ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ : أَلاَّ بَرَّکْتَ، إِنَّ الْعَیْنَ حَقٌّ، تَوَضَّأْ لَہُ۔ فَتَوَضَّأَ لَہُ عَامِرٌ، فَرَاحَ سَہْلٌ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ لَیْسَ بِہِ بَأْسٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

محمد بن ابی امامہ بن سہل بن حُنَیف رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھوں نے اپنے والد ابوامامہ رحمہ اللہ ( اسعد بن سہل ) کو سنا ، وہ فرما رہے تھے : میرے والد حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے ( جُحفہ کے قریب ایک جگہ ) ’’ خَرَّار ‘‘ میں غسل کیا ، چنانچہ انھوں نے اپنا جُبّہ ( عَبَا ، چُغہ ، چوغہ ، ایک لمبا کوٹ یا قمیص جو پاؤں تک ہوتا ہے ) اتارا جو کہ ان کے اوپر تھا ، اس حال میں کہ حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ ( انھیں ) دیکھ رہے تھے ۔ ابوامامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت سہل رضی اللہ عنہ گورے اور سفید چمڑے والے تھے ۔ ابوامامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ ان سے کہنے لگے : میں نے آج کے دن کی طرح ( کوئی گورا اور خوبصورت جسم ) نہیں دیکھا اور نہ ہی کسی کنواری کا چمڑا ( اتنا خوبصورت پایا ۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نیچے گر پڑے ) چنانچہ حضرت سہل رضی اللہ عنہ بخار میں مبتلا ہو گئے اور ان کا بخار سخت ہو گیا ۔ پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا گیا اور آپ ﷺ کو خبر دی گئی کہ بلاشبہ حضرت سہل رضی اللہ عنہ بخار میں مبتلا ہیں اور یقیناً اے اللہ کے رسول ! وہ آپ کے ہمراہ پچھلے پہر ( کہیں ) جا نہیں سکتے ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ ( بذات خود ) ان کے پاس تشریف لائے تو حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کو اس ( صورت حال ) کی خبر دی جو حضرت عامر رضی اللہ عنہ کے معاملے سے ( واقع ہوئی ) تھی ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کس بنا پر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے ، ( اے عامر ! ) تم نے اس کے لیے برکت کی دعا کیوں نہ کی ، یقیناً نظر بد ایک حقیقت ہے ، اس کے لیے وضو کرو ۔‘‘ چنانچہ حضرت عامر رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے وضو کیا تو پچھلے پہر حضرت سہل رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ اس حال میں گئے کہ انھیں کچھ بھی تکلیف نہ تھی ۔

1706

Muwatta Imam Malik #1706

Sahih

[1706] عَنْ أبِی أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ، أَنَّہُ قَالَ : رَأَی عَامِرُ بْنُ رَبِیعَۃَ سَہْلَ بْنَ حُنَیْفٍ یَغْتَسِلُ، فَقَالَ : مَا رَأَیْتُ کَالْیَوْمِ، وَلَا جِلْدَ مُخْبَأَۃٍ۔ فَلُبِطَ سَہْلٌ فَأُتِیَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ فَقِیلَ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ ہَلْ لَکَ فِی سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ، وَاللّٰہِ مَا یَرْفَعُ رَأْسَہُ۔ فَقَالَ :ہَلْ تَتَّہِمُونَ لَہُ أَحَداً؟قَالُوا : نَتَّہِمُ عَامِرَ بْنَ رَبِیعَۃَ۔ قَالَ : فَدَعَا رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ عَامِراً، فَتَغَیَّظَ عَلَیْہِ وَقَالَ:عَلَامَ یَقْتُلُ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ ؟ أَلاَّ بَرَّکْتَ، اغْتَسِلْ لَہُ۔ فَغَسَلَ عَامِرٌ وَجْہَہُ وَیَدَیْہِ، وَمِرْفَقَیْہِ وَرُکْبَتَیْہِ، وَأَطْرَافَ رِجْلَیْہِ، وَدَاخِلَۃَ إِزَارِہِ فِی قَدَحٍ، ثُمَّ صُبَّ عَلَیْہِ، فَرَاحَ سَہْلٌ مَعَ النَّاسِ لَیْسَ بِہِ بَأْسٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابوامامہ بن سہل بن حنیف رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے ( میرے والد ) حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، وہ غسل کر رہے تھے تو وہ کہنے لگے : میں نے آج کی طرح ( کوئی حسین جسم ) نہیں دیکھا حتیٰ کہ اپنے گھر کے کونے میں پردہ نشین کنواری ( کے جسم ) کو بھی نہیں ۔ تو ( اسی وقت ) حضرت سہل رضی اللہ عنہ اسی جگہ بچھاڑ دیے گئے ( اور وہ بیمار ہو کر زمین پر گر پڑے ) ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا گیا اور عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول ! کیا آپ کے لیے سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ ( کی تیمارداری ) میں کوئی رغبت ہے ؟ اللہ کی قسم ! وہ تو اپنا سر بھی نہیں اٹھا سکتے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم اس کے متعلق کسی پر ( نظر بد کا ) الزام لگاتے ہو ؟‘‘ انھوں نے ( خبر دینے والوں نے ) کہا کہ ہم عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ پر الزام لگاتے ہیں ۔ ابوامامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے حضرت عامر رضی اللہ عنہ کو بلایا ، ان پر غصہ دکھایا اور فرمایا :’’ کس بنا پر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے ؟ تم نے اسے دعائے برکت کیوں نہ دی ؟ اس کے لیے ( اپنے اعضاء کو ) دھوؤ ۔‘‘ چنانچہ حضرت عامر رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے اپنے چہرے ، دونوں ہاتھوں ، دونوں کہنیوں ، دونوں گھٹنوں ، دونوں پاؤں کے کناروں اور اپنے ازار کے اندر والی جانب کو ( پانی کے ساتھ ) ایک پیالے میں دھویا ، پھر اس ( دھونے میں استعمال ہونے والے پانی ) کو ان پر ( حضرت سہل رضی اللہ عنہ پر ) بہایا گیا تو حضرت سہل رضی اللہ عنہ پچھلے ہی پہر لوگوں کے ساتھ چل پڑے اس حال میں کہ ان کو کچھ بھی تکلیف نہ تھی ۔