Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 46 · Chapter 546

متفرق مسائل کی کتاب

نظرِ بد سے ( حفاظت کی غرض سے ) لٹکائی جانے والی چیزوں کو اور گھنٹی کو اتارنے کا بیان

1 hadith in this chapter

1704

Muwatta Imam Malik #1704

Sahih

[1704] عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِیمٍ, أَنَّ أَبَا بَشِیرٍ الْأَنْصَارِیَّ أَخْبَرَہُ : أَ نَّہُ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ فِی بَعْضِ أَسْفَارِہِ۔ قَالَ : فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ رَسُولاً۔ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أبِی بَکْرٍ : حَسِبْتُ أَ نَّہُ قَالَ : وَالنَّاسُ فِی مَقِیلِہِمْ : لَا تَبْقَیَنَّ فِی رَقَبَۃِ بَعِیرٍ قِلَادَۃٌ مِنْ وَتَرٍ، أَوْ قِلَادَۃٌ إِلاَّ قُطِعَتْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عباد بن تمیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بشیر انصاری رضی اللہ عنہ نے انھیں خبر دی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے سفروں میں سے کسی سفر میں آپ ﷺ کے ہمراہ تھے ۔ حضرت ابوبشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ایک قاصد کو بھیجا ۔ ( امام مالک رحمہ اللہ کے شیخ ) عبداللہ بن ابی بکر رحمہ اللہ کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ انھوں نے ( عباد بن تمیم رحمہ اللہ نے بیان کرتے ہوئے ) یہ بھی کہا تھا کہ اس وقت لوگ اپنی نیند کی جگہ میں تھے ( سونے یا قیلولہ کرنے کی تیاری کر رہے تھے کہ آپ ﷺ کا یہ پیغام پہنچ گیا ) :’’ کسی اونٹ کی گردن میں تانت ( تندی سے بنا ہوا ) پٹایا ( تندی کا نام لینے کی بجائے فرمایا ) پٹا باقی نہ چھوڑا جائے مگر اسے ضرور کاٹ دیا جائے ۔‘‘