Muwatta Imam Malik #1683
[1683] حَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی طَلْحَۃَ، أَ نَّہُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ : قَالَ أَبُو طَلْحَۃَ لأُمِّ سُلَیْمٍ : لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ضَعِیفاً، أَعْرِفُ فِیہِ الْجُوعَ، فَہَلْ عِنْدَکِ مِنْ شَیْئٍ ؟ فَقَالَتْ : نَعَمْ۔ فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصاً مِنْ شَعِیرٍ، ثُمَّ أَخَذَتْ خِمَاراً لَہَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِہِ، ثُمَّ دَسَّتْہُ تَحْتَ یَدِی وَرَدَّتْنِی بِبَعْضِہِ، ثُمَّ أَرْسَلَتْنِی إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، قَالَ : فَذَہَبْتُ بِہِ، فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ جَالِساً فِی الْمَسْجِدِ وَمَعَہُ النَّاسُ، فَقُمْتُ عَلَیْہِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ :آرْسَلَکَ أَبُو طَلْحَۃَ؟ قَالَ : فَقُلْتُ نَعَمْ۔ قَالَ لِلطَّعَامِ ؟قَالَ : فَقُلْتُ نَعَمْ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ لِمَنْ مَعَہُ: قُومُوا۔ قَالَ : فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَیْنَ أَیْدِیہِمْ، حَتَّی جِئْتُ أَبَا طَلْحَۃَ فَأَخْبَرْتُہُ, فَقَالَ أَبُو طَلْحَۃَ : یَا أُمَّ سُلَیْمٍ، قَدْ جَائَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ بِالنَّاسِ، وَلَیْسَ عِنْدَنَا مِنَ الطَّعَامِ مَا نُطْعِمُہُمْ۔ فَقَالَتْ: اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ۔ قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَۃَ حَتَّی لَقِیَ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ وَأَبُو طَلْحَۃَ مَعَہُ، حَتَّی دَخَلَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : ہَلُمِّی یَا أُمَّ سُلَیْمٍ مَا عِنْدَکِ۔ فَأَتَتْ بِذَلِکَ الْخُبْزِ، فَأَمَرَ بِہِ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ فَفُتَّ، وَعَصَرَتْ عَلَیْہِ أُمُّ سُلَیْمٍ عُکَّۃً لَہَا فَآدَمَتْہُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ مَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ یَقُولَ، ثُمَّ قَالَ :ائْذَنْ لِعَشَرَۃٍ بِالدُّخُولِ۔ فَأَذِنَ لَہُمْ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ : ائْذَنْ لِعَشَرَۃٍ ۔ فَأَذِنَ لَہُمْ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ : ائْذَنْ لِعَشَرَۃٍ فَأَذِنَ لَہُمْ، فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ :ائْذَنْ لِعَشَرَۃٍ۔ فَأَذِنَ لَہُمْ، فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِعَشَرَۃٍ ۔ حَتَّی أَکَلَ الْقَوْمُ کُلُّہُمْ وَشَبِعُوا، وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ رَجُلاً، أَوْ ثَمَانُونَ رَجُلاً۔
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ : ( میرے سوتیلے والد ) حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ( میری والدہ ) سیدہ اُم سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا : یقیناً میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز کو سنا ، وہ کمزور تھی ، میں اس میں بھوک ( کے آثار ) پہچان رہا تھا ، کیا تمھارے پاس کوئی چیز ہے ؟ انھوں نے کہا کہ جی ہاں ۔ چنانچہ انھوں نے جو کی موٹی موٹی روٹیوں کے ٹکڑے نکالے ، ( انھیں ذرا نرم کیا ) ، پھر انھوں نے اپنا ایک دوپٹا پکڑا ، اس کے کچھ حصے میں وہ روٹیاں لپیٹ دیں ، پھر انھیں میرے ہاتھ ( یعنی میری بغل ) کے نیچے چھپا دیا اور اس ( دوپٹے ) کا کچھ حصہ میرے اوپر اوڑھ دیا ، پھر انھوں نے مجھے رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیج دیا ، وہ کہتے ہیں کہ میں روٹی لے کر گیا ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں بیٹھے ہوئے پایا ، اس حال میں کہ آپ کے ہمراہ کچھ ( اور ) لوگ بھی تھے ۔ میں اُن کے پاس جا کر کھڑا ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تمھیں ابو طلحہ نے بھیجا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں ، تو فرمایا :’’ کھانے کے لیے ؟‘‘ میں نے کہا : جی ہاں تو رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں سے جو آپ ﷺ کے ہمراہ تھے ، فرمایا :’’ اٹھو ۔‘‘ کھانے کے لیے ؟‘‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : آپ ﷺ چل پڑے اور میں اُن سب کے آگے آگے چل پڑا یہاں تک کہ میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس ( واپس ) آ گیا اور میں نے انھیں خبر دی تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے : اے اُم سلیم رضی اللہ عنہا ! رسول اللہ ﷺ تو لوگوں کو لے کر ( دعوت طعام کی نیت ) سے آ چکے ہیں ، حالانکہ ہمارے پاس تو اس قدر کھانا نہیں ہے ، جو انھیں کھلائیں ۔ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، ( ہم نے تو نہیں بلایا ، آپ ﷺ اللہ کے حکم سے آئے ہیں تو اللہ انتظام بھی فرما دے گا ) ۔ چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ گئے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی ( استقبال کیا اور عرض کیا کہ حضور ! ہمارے پاس تو اتنے لوگوں کی ضیافت کا سامان نہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمھارے طعام میں برکت فرمائے گا ( بہرحال گھر چھوٹا ہونے کی وجہ سے مہمان باہر بیٹھ گئے ۔ ) پھر رسول اللہ ﷺ متوجہ ہوئے اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے ہمراہ تھے ، یہاں تک کہ دونوں گھر میں داخل ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اُم سلیم رضی اللہ عنہا ! تمھارے پاس جو کچھ ہے اُسے لے آؤ ۔‘‘ وہ اُسی روٹی کو لے آئیں ، سو رسول اللہ ﷺ نے اس کے متعلق حکم دیا ، چنانچہ اُسے توڑا گیا اور حضرت اُم سلیم رضی اللہ عنہا نے اس پر اپنے گھی کے برتن کو نچوڑ دیا ( جو چمڑے کا تھا ، گولائی میں بنایا گیا تھا ) انھوں نے اُسے ( یعنی حاصل ہونے والے گھی کو سالن کے طور پرروٹی میں ) ملا دیا ، پھر اس میں رسول اللہ ﷺ نے کچھ پڑھا ، جو اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ آپ پڑھیں ، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دس آدمیوں کو ( اندر آنے کی ) اجازت دو ۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ( حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ) انھیں اجازت دی تو انھوں نے ( آ کر ) اسے کھایا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے پھر وہ باہر چلے گئے ۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دس آدمیوں کو اجازت دو ۔‘‘ انھوں نے ان کو اجازت دی ، انھوں نے بھی کھایا ، یہاں تک کہ شکم سیر ہو گئے پھر وہ باہر نکل گئے ۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دس کو اجازت دو ۔‘‘ انھوں نے ان کو اجازت دی ، انھوں نے بھی کھایا ، یہاں تک کہ سیر ہو گئے پھر وہ باہر نکل گئے ۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دس کو اجازت دو ۔‘‘ یہاں تک کہ سب کے سب افراد نے کھا لیا اور شکم سیر ہو گئے اور وہ لوگ ستر یا اسی ّ آدمی تھے ۔