Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 46 · Chapter 543

متفرق مسائل کی کتاب

کھانے پینے کے متعلق متفرق احادیث کا بیان

17 hadiths in this chapter

1683

Muwatta Imam Malik #1683

Sahih

[1683] حَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أبِی طَلْحَۃَ، أَ نَّہُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ : قَالَ أَبُو طَلْحَۃَ لأُمِّ سُلَیْمٍ : لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ضَعِیفاً، أَعْرِفُ فِیہِ الْجُوعَ، فَہَلْ عِنْدَکِ مِنْ شَیْئٍ ؟ فَقَالَتْ : نَعَمْ۔ فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصاً مِنْ شَعِیرٍ، ثُمَّ أَخَذَتْ خِمَاراً لَہَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِہِ، ثُمَّ دَسَّتْہُ تَحْتَ یَدِی وَرَدَّتْنِی بِبَعْضِہِ، ثُمَّ أَرْسَلَتْنِی إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، قَالَ : فَذَہَبْتُ بِہِ، فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ جَالِساً فِی الْمَسْجِدِ وَمَعَہُ النَّاسُ، فَقُمْتُ عَلَیْہِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ :آرْسَلَکَ أَبُو طَلْحَۃَ؟ قَالَ : فَقُلْتُ نَعَمْ۔ قَالَ لِلطَّعَامِ ؟قَالَ : فَقُلْتُ نَعَمْ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ لِمَنْ مَعَہُ: قُومُوا۔ قَالَ : فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَیْنَ أَیْدِیہِمْ، حَتَّی جِئْتُ أَبَا طَلْحَۃَ فَأَخْبَرْتُہُ, فَقَالَ أَبُو طَلْحَۃَ : یَا أُمَّ سُلَیْمٍ، قَدْ جَائَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ بِالنَّاسِ، وَلَیْسَ عِنْدَنَا مِنَ الطَّعَامِ مَا نُطْعِمُہُمْ۔ فَقَالَتْ: اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ۔ قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَۃَ حَتَّی لَقِیَ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ وَأَبُو طَلْحَۃَ مَعَہُ، حَتَّی دَخَلَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : ہَلُمِّی یَا أُمَّ سُلَیْمٍ مَا عِنْدَکِ۔ فَأَتَتْ بِذَلِکَ الْخُبْزِ، فَأَمَرَ بِہِ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ فَفُتَّ، وَعَصَرَتْ عَلَیْہِ أُمُّ سُلَیْمٍ عُکَّۃً لَہَا فَآدَمَتْہُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ مَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ یَقُولَ، ثُمَّ قَالَ :ائْذَنْ لِعَشَرَۃٍ بِالدُّخُولِ۔ فَأَذِنَ لَہُمْ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ : ائْذَنْ لِعَشَرَۃٍ ۔ فَأَذِنَ لَہُمْ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ : ائْذَنْ لِعَشَرَۃٍ فَأَذِنَ لَہُمْ، فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ :ائْذَنْ لِعَشَرَۃٍ۔ فَأَذِنَ لَہُمْ، فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِعَشَرَۃٍ ۔ حَتَّی أَکَلَ الْقَوْمُ کُلُّہُمْ وَشَبِعُوا، وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ رَجُلاً، أَوْ ثَمَانُونَ رَجُلاً۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ : ( میرے سوتیلے والد ) حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ( میری والدہ ) سیدہ اُم سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا : یقیناً میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز کو سنا ، وہ کمزور تھی ، میں اس میں بھوک ( کے آثار ) پہچان رہا تھا ، کیا تمھارے پاس کوئی چیز ہے ؟ انھوں نے کہا کہ جی ہاں ۔ چنانچہ انھوں نے جو کی موٹی موٹی روٹیوں کے ٹکڑے نکالے ، ( انھیں ذرا نرم کیا ) ، پھر انھوں نے اپنا ایک دوپٹا پکڑا ، اس کے کچھ حصے میں وہ روٹیاں لپیٹ دیں ، پھر انھیں میرے ہاتھ ( یعنی میری بغل ) کے نیچے چھپا دیا اور اس ( دوپٹے ) کا کچھ حصہ میرے اوپر اوڑھ دیا ، پھر انھوں نے مجھے رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیج دیا ، وہ کہتے ہیں کہ میں روٹی لے کر گیا ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں بیٹھے ہوئے پایا ، اس حال میں کہ آپ کے ہمراہ کچھ ( اور ) لوگ بھی تھے ۔ میں اُن کے پاس جا کر کھڑا ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تمھیں ابو طلحہ نے بھیجا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں ، تو فرمایا :’’ کھانے کے لیے ؟‘‘ میں نے کہا : جی ہاں تو رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں سے جو آپ ﷺ کے ہمراہ تھے ، فرمایا :’’ اٹھو ۔‘‘ کھانے کے لیے ؟‘‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : آپ ﷺ چل پڑے اور میں اُن سب کے آگے آگے چل پڑا یہاں تک کہ میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس ( واپس ) آ گیا اور میں نے انھیں خبر دی تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے : اے اُم سلیم رضی اللہ عنہا ! رسول اللہ ﷺ تو لوگوں کو لے کر ( دعوت طعام کی نیت ) سے آ چکے ہیں ، حالانکہ ہمارے پاس تو اس قدر کھانا نہیں ہے ، جو انھیں کھلائیں ۔ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، ( ہم نے تو نہیں بلایا ، آپ ﷺ اللہ کے حکم سے آئے ہیں تو اللہ انتظام بھی فرما دے گا ) ۔ چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ گئے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی ( استقبال کیا اور عرض کیا کہ حضور ! ہمارے پاس تو اتنے لوگوں کی ضیافت کا سامان نہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمھارے طعام میں برکت فرمائے گا ( بہرحال گھر چھوٹا ہونے کی وجہ سے مہمان باہر بیٹھ گئے ۔ ) پھر رسول اللہ ﷺ متوجہ ہوئے اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے ہمراہ تھے ، یہاں تک کہ دونوں گھر میں داخل ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اُم سلیم رضی اللہ عنہا ! تمھارے پاس جو کچھ ہے اُسے لے آؤ ۔‘‘ وہ اُسی روٹی کو لے آئیں ، سو رسول اللہ ﷺ نے اس کے متعلق حکم دیا ، چنانچہ اُسے توڑا گیا اور حضرت اُم سلیم رضی اللہ عنہا نے اس پر اپنے گھی کے برتن کو نچوڑ دیا ( جو چمڑے کا تھا ، گولائی میں بنایا گیا تھا ) انھوں نے اُسے ( یعنی حاصل ہونے والے گھی کو سالن کے طور پرروٹی میں ) ملا دیا ، پھر اس میں رسول اللہ ﷺ نے کچھ پڑھا ، جو اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ آپ پڑھیں ، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دس آدمیوں کو ( اندر آنے کی ) اجازت دو ۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ( حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ) انھیں اجازت دی تو انھوں نے ( آ کر ) اسے کھایا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے پھر وہ باہر چلے گئے ۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دس آدمیوں کو اجازت دو ۔‘‘ انھوں نے ان کو اجازت دی ، انھوں نے بھی کھایا ، یہاں تک کہ شکم سیر ہو گئے پھر وہ باہر نکل گئے ۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دس کو اجازت دو ۔‘‘ انھوں نے ان کو اجازت دی ، انھوں نے بھی کھایا ، یہاں تک کہ سیر ہو گئے پھر وہ باہر نکل گئے ۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دس کو اجازت دو ۔‘‘ یہاں تک کہ سب کے سب افراد نے کھا لیا اور شکم سیر ہو گئے اور وہ لوگ ستر یا اسی ّ آدمی تھے ۔

1684

Muwatta Imam Malik #1684

Sahih

[1684] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : طَعَامُ الاِثْنَیْنِ کَافِی الثَّلَاثَۃِ، وَطَعَامُ الثَّـلَاثَۃِ کَافِی الأَرْبَعَۃِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دو آدمیوں کا کھانا تین کو کافی ہے اور تین کا کھانا چار کو کافی ہے ۔‘‘

1685

Muwatta Imam Malik #1685

Sahih

[1685] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الزُّبَیْرِ الْمَکِّیِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہ رضی اللہ عنہ ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: أَغْلِقُوا الْبَابَ، وَأَوْکُوا السِّقَائَ، وَأَکْفِؤُوا الإِنَائَ، أَوْ خَمِّرُوا الإِنَائَ، وَأَطْفِؤُوا الْمِصْبَاحَ،فَإِنَّ الشَّیْطَانَ لَا یَفْتَحُ غَلَقاً، وَلَا یَحُلُّ وِکَائً، وَلَا یَکْشِفُ إِنَائً، وَإِنَّ الْفُوَیْسِقَۃَ تُضْرِمُ عَلَی النَّاسِ بَیْتَہُمْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دروازے بند رکھو ، مشکیزے کو تسمہ باندھو ، برتن کو الٹا کر دو یا برتن کو ڈھانپ دو اور چراغ کو بجھا دو کیونکہ بلاشبہ شیطان بند شدہ ( دروازے ) کو نہیں کھول سکتا اور نہ کسی تسمے کو کھول سکتا ہے اور نہ برتن کو ننگا کر سکتا ہے اور بلاشبہ چوہا لوگوں پر ان کے گھر جلا دیتا ہے ۔‘‘

1686

Muwatta Imam Malik #1686

Sahih

[1686] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ، عَنْ أبِی شُرَیْحٍ الْکَعْبِیِّ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ قَالَ :مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْراً أَوْ لِیَصْمُتْ، وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ فَلْیُکْرِمْ جَارَہُ، وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ، جَائِزَتُہُ یَوْمٌ وَلَیْلَۃٌ، وَضِیَافَتُہُ ثَـلَاثَۃُ أَیَّامٍ، فَمَا کَانَ بَعْدَ ذَلِکَ فَہُوَ صَدَقَۃٌ، وَلَا یَحِلُّ لَہُ أَنْ یَثْوِیَ عِنْدَہُ حَتَّی یُحْرِجَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوشُریح کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے تو اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے اور جو کوئی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسی کا اکرام ( عزت افزائی اور اس کے ساتھ بہترین سلوک ) کرے اور جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کا اکرام ( اور ضیافت ) کرے ، اس ( مہمان ) کا بھرپور عطیہ ایک دن اور رات میں ہے ۔ ( اس دوران وہ میزبان اپنی وسعت کے مطابق مہمان نوازی کرے اور کوئی کسر نہ چھوڑے ) اور ضیافت ( کی زیادہ سے زیادہ حد ) تین دن ہے ، پھر جو ( مہمان نوازی ) اس کے بعد بھی ( جاری ) ہو تو وہ ( میزبان کی طرف سے مہمان پر ) صدقہ ہے ۔ اس ( مہمان ) کے لیے جائز نہیں کہ اس ( میزبان ) کے پاس ( اتنی دیر ) ٹھہرا رہے یہاں تک کہ اسے تنگی میں ڈال دے ۔‘‘

1687

Muwatta Imam Malik #1687

Sahih

[1687] عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : بَیْنَمَا رَجُلٌ یَمْشِی بِطَرِیقٍ، إِذِ اشْتَدَّ عَلَیْہِ الْعَطَشُ، فَوَجَدَ بِئْراً فَنَزَلَ فِیہَا فَشَرِبَ وَخَرَجَ، فَإِذَا کَلْبٌ یَلْہَثُ یَأْکُلُ الثَّرَی مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ الرَّجُلُ : لَقَدْ بَلَغَ ہَذَا الْکَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِی بَلَغَ مِنِّی, فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلأَ خُفَّہُ، ثُمَّ أَمْسَکَہُ بِفِیہِ حَتَّی رَقِیَ، فَسَقَی الْکَلْبَ، فَشَکَرَ اللّٰہُ لَہُ فَغَفَرَ لَہُ فَقَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ وَإِنَّ لَنَا فِی الْبَہَائِمِ لأَجْراً ؟ فَقَالَ : فِی کُلِّ ذَاتِ کَبِدٍ رَطْبَۃٍ أَجْرٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک دفعہ ایک آدمی کسی راستے پہ چل رہا تھا ، اچانک اسے سخت پیاس لگی ، اس نے ایک کنواں پایا تو اس میں اتر گیا اور پانی پیا پھر باہر نکل آیا تو اچانک ( اس نے دیکھا کہ ) ایک کتا ( کنویں کے پاس کھڑا ) ہانپ رہا ہے اور پیاس کی وجہ سے گیلی مٹی ( کیچڑ ) کھا رہا ہے ۔ وہ آدمی ( دل میں ) کہنے لگا کہ یقیناً اس کتے کو بھی اس جیسی پیاس لگی ہے جس طرح وہ مجھے پہنچی تھی ۔ چنانچہ وہ ( دوبارہ ) کنویں میں اترا ، اپنے موزے کو ( پانی سے ) بھرا ، پھر اسے اپنے منہ سے پکڑا یہاں تک کہ ( اوپر ) چڑھ آیا ، پھرکتے کو پانی پلا دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی قدر دانی فرمائی اور اسے معاف کر دیا ۔‘‘ لوگوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! ( کیا ) بے شک ہمارے لیے چوپایوں میں بھی اجر ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر تر جگر والی ( جاندار ) چیز میں اجر ہے ۔‘‘

1688

Muwatta Imam Malik #1688

Sahih

[1688] عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، أَ نَّہُ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ بَعْثاً قِبَلَ السَّاحِلِ، فَأَمَّرَ عَلَیْہِمْ أَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَہُمْ ثَلَاثُ مِئَۃٍ، قَالَ : وَأَنَا فِیہِمْ، قَالَ : فَخَرَجْنَا حَتَّی إِذَا کُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِیقِ فَنِیَ الزَّادُ، فَأَمَرَ أَبُو عُبَیْدَۃَ بِأَزْوَادِ ذَلِکَ الْجَیْشِ، فَجُمِعَ ذَلِکَ کُلُّہُ، فَکَانَ مِزْوَدَیْ تَمْرٍ، قَالَ : فَکَانَ یُقَوِّتُنَاہُ کُلَّ یَوْمٍ قَلِیلاً قَلِیلاً، حَتَّی فَنِیَ، وَلَمْ تُصِبْنَا إِلاَّ تَمْرَۃٌ تَمْرَۃٌ۔ فَقُلْتُ : وَمَا تُغْنِی تَمْرَۃٌ ؟ فَقَالَ : لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَہَا حِینَ فَنِیَتْ، قَالَ : ثُمَّ انْتَہَیْنَا إِلَی الْبَحْرِ، فَإِذَا حُوتٌ مِثْلُ الظَّرِبِ، فَأَکَلَ مِنْہُ ذَلِکَ الْجَیْشُ ثَمَانِیَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً، ثُمَّ أَمَرَ أَبُو عُبَیْدَۃَ بِضِلَعَیْنِ مِنْ أَضْلَاعِہِ فَنُصِبَا، ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَۃٍ فَرُحِلَتْ، ثُمَّ مَرَّتْ تَحْتَہُمَا وَلَمْ تُصِبْہُمَا۔ قَالَ مَالِکٌ : الظَّرِبُ الْجُبَیْلُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر ساحلِ سمندر کی طرف بھیجا ، ان پر حضرت ابوعبیدہ بن جرّاح رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا گیا ، وہ تین سو ( مجاہدین ) تھے ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بھی ان میں ( شامل ) تھا ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم ( غزوہ میں ) نکلے یہاں تک کہ جب ہم راہ میں کسی جگہ تھے تو زادِ راہ ختم ہو گیا ۔ حضرت ابوعبیدہ بن جرّاح رضی اللہ عنہ نے اس ( مکمل ) لشکر کے زادِ راہ ( کو جمع کرنے ) کا حکم دیا ، وہ سب کا سب اکٹھا کیا گیا تو وہ کھجور کے دو توشہ دان بنا ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ ( حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ) ہر دن میں ہمیں اس میں سے تھوڑی تھوڑی خوراک دیتے رہے یہاں تک کہ وہ بھی ختم ہو گیا اور ہمیں صرف ایک ایک کھجور کے سوا کچھ نہ ملتا ۔ ( وہب بن کیسان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ) میں نے کہا : بھلا ایک کھجور کیا آتی ہو گی ؟ تو وہ ( حضرت جابر رضی اللہ عنہ ) فرمانے لگے کہ یقیناً ہم نے اس کے نہ ملنے کو اس وقت محسوس کیا جب وہ بھی نہ رہی ( تب جا کر اس ایک کھجور کی قدر محسوس ہوئی ۔ کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہی ہوتا ہے ۔ ) پھر ہم ساحلِ سمندر تک پہنچ گئے تو اچانک ( وہاں ) ایک مچھلی ( کو دیکھا جو ) ٹیلے کی طرح ( بہت ہی بڑی ) تھی ۔ چنانچہ ( تین سو مجاہدین کا ) لشکر اس میں سے اٹھارہ راتوں تک کھاتا رہا ۔ پھر حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی پسلیوں میں سے دو پسلیوں کے متعلق حکم دیا ، چنانچہ انھیں ( زمین میں ) نصب کر دیا گیا پھر انھوں نے ایک اونٹ کے متعلق حکم دیا تو اس پر کجاوہ رکھا گیا ، پھر وہ اونٹ اس ( نصب شدہ پسلی ) کے نیچے سے گزرا تو وہ ان ( پسلیوں کی بلندی ) کو نہ پہنچ سکا ۔ امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں : ( حدیث کے لفظ ) ’’اَلظَّرِب‘‘ سے مراد چھوٹا پہاڑ ہے ۔

1689

Muwatta Imam Malik #1689

Sahih

[1689] عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ جَدَّتِہِ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : یَا نِسَائَ الْمُؤْمِنَاتِ، لَا تَحْقِرَنَّ إِحْدَاکُنَّ لِجَارَتِہَا وَلَوْ کُرَاعَ شَاۃٍ مُحْرَقاً۔

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اپنی دادی ( اُمّ سعد حواء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا ) سے روایت کرتے ہیں کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اے مومن عورتوں کی جماعت ! تم میں سے کوئی بھی اپنی ہمسائی کے لیے ( ہدیہ بھیجنے کو ) ہرگز حقیر نہ جانے اگرچہ وہ بکری کا جلا ہوا کھر ہو ۔‘‘

1690

Muwatta Imam Malik #1690

Sahih

[1690] عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ، أَ نَّہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : قَاتَلَ اللّٰہُ الْیَہُودَ، نُہُوا عَنْ أَکْلِ الشَّحْمِ، فَبَاعُوہُ فَأَکَلُوا ثَمَنَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت کرے ۔ انھیں چربی کھانے سے منع کیا گیا تو وہ اسے بیچنے لگے اور اس کی قیمت کھانے لگے ۔‘‘

1691

Muwatta Imam Malik #1691

Zaeef

[1691] عَنْ مَالِکٍ، أَ نَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ عِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ کَانَ یَقُولُ : یَا بَنِی إِسْرَائِیلَ عَلَیْکُمْ بِالْمَائِ الْقَرَاحِ، وَالْبَقْلِ الْبَرِّیِّ، وَخُبْزِ الشَّعِیرِ، وَإِیَّاکُمْ وَخُبْزَ الْبُرِّ، فَإِنَّکُمْ لَنْ تَقُومُوا بِشُکْرِہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمایا کرتے تھے :’’ اے بنی اسرائیل ! خالص پانی ، ( خود بخود اگنے والی ) زمینی سبزی اور جَو کی روٹی کو لازم پکڑ لو ۔ اور خود کو گندم کی روٹی سے بچاؤ کیونکہ بلاشبہ تم اس کا شکریہ ادا نہ کر سکو گے ۔‘‘

1692

Muwatta Imam Malik #1692

Sahih

[1692] عَنْ مَالِکٍ، أَنَّہُ بَلَغَہُ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَوَجَدَ فِیہِ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَسَأَلَہُمَا فَقَالَا: أَخْرَجَنَا الْجُوعُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : وَأَنَا أَخْرَجَنِی الْجُوعُ فَذَہَبُوا إِلَی أبِی الْہَیْثَمِ بْنِ التَّیِّہَانِ الْأَنْصَاری، فَأَمَرَ لَہُمْ بِشَعِیرٍ عِنْدَہُ یُعْمَلُ، وَقَامَ یَذْبَحُ لَہُمْ شَاۃً، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ نَکِّبْ عَنْ ذَاتِ الدَّرِّ فَذَبَحَ لَہُمْ شَاۃً، وَاسْتَعْذَبَ لَہُمْ مَائً، فَعُلِّقَ فِی نَخْلَۃٍ، ثُمَّ أُتُوا بِذَلِکَ الطَّعَامِ فَأَکَلُوا مِنْہُ، وَشَرِبُوا مِنْ ذَلِکَ الْمَائِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : لَتُسْئَلُنَّ عَنْ نَعِیمِ ہَذَا الْیَوْمِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو اس میں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کو پایا ۔ آپ ﷺ نے ان دونوں سے دریافت فرمایا تو ان دونوں نے عرض کیا : بھوک نے ہمیں باہر نکالا ہے ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اور خود مجھے بھی بھوک ہی نے باہر نکالا ہے ۔‘‘ پھر وہ سب حضرت ابوہیثم بن تیھان انصاری رضی اللہ عنہ کی طرف چلے گئے ، تو انھوں نے ( یعنی حضرت ابوہیثم رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر والوں کو ) ان ( مہمانوں ) کے لیے کچھ جَو کا حکم دیا کہ اس ( کی روٹی ) کو تیار کیا جائے اور وہ خود اٹھے اور ان کے لیے ایک بکری کو ذبح کرنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دودھ والی بکری سے دور رہنا ۔‘‘ چنانچہ انھوں نے ان کے لیے ایک بکری ذبح کی اور ان کے لیے میٹھا پانی لے آئے ، پھر اسے کھجور کے ایک درخت پر لٹکا دیا ( تاکہ ہوا اسے مزید ٹھنڈا کر دے ) سب نے اس کھانے کو تناول فرمایا اور اس پانی کو نوش فرمایا ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا :’’ تم سے آج کے دن کی نعمت کے متعلق ضرور ضرور پوچھا جائے گا ۔‘‘

1693

Muwatta Imam Malik #1693

Zaeef

[1693] عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ یَأْکُلُ خُبْزاً بِسَمْنٍ، فَدَعَا رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ، فَجَعَلَ یَأْکُلُ وَیَتَّبِعُ بِاللُّقْمَۃِ وَضَرَ الصَّحْفَۃِ، فَقَالَ عُمَرُ کَأَ نَّکَ مُقْفِرٌ۔ فَقَالَ : وَاللّٰہِ مَا أَکَلْتُ سَمْناً، وَلَا رَأَیْتُ أَکْلاً بِہِ مُنْذُ کَذَا وَکَذَا۔ فَقَالَ عُمَرُ : لَا آکُلُ السَّمْنَ حَتَّی یَحْیَا النَّاسُ مِنْ أَوَّلِ مَا یَحْیَوْنَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ گھی کے ساتھ روٹی کھا رہے تھے ۔ انھوں نے صحرا والوں میں سے ایک شخص ( ( ایک بدوی ، خانہ بدوش ) کو بلایا ، وہ بھی کھانا شروع ہو گیا اور پلیٹ کے ساتھ جو ( گھی کا ) میل کچیل لگا تھا ، اسے لقمے کے ساتھ ملنے لگا ۔ یحیی بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : گویا تم بھوکے ( رہتے ) ہو ( کبھی سالن نہیں دیکھا ) ؟ وہ عرض کرنے لگا : اللہ کی قسم ! میں نے اتنے عرصے سے نہ گھی کھایا ہے اور نہ اس کے ساتھ ( کسی کو ) کھاتے دیکھا ہے ( کیونکہ ان کے علاقہ میں قحط سالی کی کیفیت ہے ) تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : میں بھی گھی نہ کھاؤں گا یہاں تک کہ لوگ خوشحال ہو جائیں ، اس سب سے پہلے موقع پر کہ جس میں وہ خوشحالی پائیں ۔‘‘

1694

Muwatta Imam Malik #1694

Sahih

[1694] عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، أَ نَّہُ قَالَ : رَأَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَہُوَ یَوْمَئِذٍ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ، یُطْرَحُ لَہُ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ، فَیَأْکُلُہُ حَتَّی یَأْکُلَ حَشَفَہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں : میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، وہ اس وقت امیر المؤمنین تھے ، ان کے لیے خشک کھجوروں کا ایک صاع ڈالا جاتا ( ان کے سامنے بکھیرا جاتا ) تو وہ ان تمام کھجوروں کو کھا جاتے یہاں تک کہ ان میں سے ردّی کھجوروں کو بھی ۔

1695

Muwatta Imam Malik #1695

Sahih

[1695] عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِینَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَ نَّہُ قَالَ : سُئِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَنِ الْجَرَادِ ؟ فَقَالَ : وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِی قَفْعَۃً نَأْکُلُ مِنْہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، کہتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ٹڈی دل کے ( حلال یا حرام ہونے کے ) متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا : میں تو یہ خواہش کرتا ہوں کہ میرے پاس ( ان سے بھری ہوئی ) ایک ٹوکری ہوتی جس سے ہم کھاتے ۔

1696

Muwatta Imam Malik #1696

Sahih

[1696] عَنْ حُمَیْدِ بْنِ مَالِکِ بْنِ خُثَیْمٍ، أَ نَّہُ قَالَ : کُنْتُ جَالِساً مَعَ أبِی ہُرَیْرَۃَ بِأَرْضِہِ بِالْعَقِیقِ، فَأَتَاہُ قَوْمٌ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ عَلَی دَوَابٍّ فَنَزَلُوا عِنْدَہُ، قَالَ حُمَیْدٌ : فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : اذْہَبْ إِلَی أُمِّی فَقُلْ : إِنَّ ابْنَکِ یُقْرِئُکِ السَّلَامَ وَیَقُولُ : أَطْعِمِینَا شَیْئاً۔ قَالَ : فَوَضَعَتْ ثَـلَاثَۃَ أَقْرَاصٍ فِی صَحْفَۃٍ، وَشَیْئاً مِنْ زَیْتٍ وَمِلْحٍ، ثُمَّ وَضَعَتْہَا عَلَی رَأْسِی وَحَمَلْتُہَا إِلَیْہِمْ, فَلَمَّا وَضَعْتُہَا بَیْنَ أَیْدِیہِمْ کَبَّرَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ وَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَشْبَعَنَا مِنَ الْخُبْزِ بَعْدَ أَنْ لَمْ یَکُنْ طَعَامُنَا إِلاَّ الأَسْوَدَیْنِ، الْمَائَ وَالتَّمْرَ۔ فَلَمْ یُصِبِ الْقَوْمُ مِنَ الْطَّعَامِ شَیْئاً، فَلَمَّا انْصَرَفُوا قَالَ : یَا ابْنَ أَخِی أَحْسِنْ إِلَی غَنَمِکَ، وَامْسَحِ الرُّعَامَ عَنْہَا، وَأَطِبْ مُرَاحَہَا، وَصَلِّ فِی نَاحِیَتِہَا، فَإِنَّہَا مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّۃِ، وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَیُوشِکُ أَنْ یَأْتِیَ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ، تَکُونُ الثُّلَّۃُ مِنَ الْغَنَمِ أَحَبَّ إِلَی صَاحِبِہَا مِنْ دَارِ مَرْوَانَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حُمَید بن مالک بن خُثَیم رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں : میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ( مدینہ سے چار میل دور ) عقیق نامی مقام پر ان کی زمین میں بیٹھا ہوا تھا ۔ اتنے میں ان کے پاس اہلِ مدینہ میں سے کچھ لوگ جانوروں پر ( سوار ہو کر ) آئے اور ان کے پاس اترے ۔ حُمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : میری امی جان کے پاس جاؤ ، ان سے کہو کہ آپ کا بیٹا آپ کو سلام عرض کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہمیں کھانے کے لیے کچھ دیجیے ۔ حُمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انھوں نے ایک پلیٹ میں تین ٹکیاں ( روٹیاں ) رکھیں ، نیز زیتون کا کچھ تیل اور نمک بھی رکھا ، پھر ان چیزوں کو میرے سر پر رکھا اور میں انھیں اٹھا کر ان ( مہمانوں ) کی طرف لے آیا ۔ جب میں نے انھیں ان کے سامنے رکھا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی اور فرمایا : اسی اللہ کے لیے سب حمد ہے جس نے ہمیں روٹی کے ساتھ سیر ( ہونے کا انتظام ) کیا ، بعد اس کے کہ ہمارا کھانا دو سیاہ چیزوں یعنی پانی اور کھجور کے سوا کچھ نہ ہوتا تھا ۔ پھر لوگوں نے اس کھانے سے کچھ حاصل نہ کیا ( بالکل نہ کھایا ، شاید اس لیے کہ وہ پہلے سے سیر تھے ) یا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کھانے سے نہ لذت پا سکے اور نہ سیر ہو سکے ) پھر جب وہ ( مہمان چلے گئے ) تو انھوں نے مجھ سے کہا : بھتیجے ! اپنی بکریوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا کرو ، ان کے ناک کے فضلے کو بھی ( بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ) صاف کیا کر ، ان کے باڑے کو صاف رکھا کر اور ان کے ( پاس ان کے باڑے میں ) ایک جانب نماز پڑھ لیا کر ، کیونکہ بلاشبہ وہ تو جنت کے جانوروں میں سے ہیں ۔ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یقیناً قریب ہے کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آ جائے کہ بکریوں کا غلّہ ( اور چھوٹا سا ریوڑ ) ان کے مالک کے نزدیک ( مدینہ کے امیر ) مروان رحمہ اللہ کے گھر ( شاہی محل ) سے زیادہ پسندیدہ ہو گا ۔

1697

Muwatta Imam Malik #1697

Sahih

[1697] عَنْ أبِی نُعَیْمٍ وَہْبِ بْنِ کَیْسَانَ، قَالَ : أُتِیَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ بِطَعَامٍ وَمَعَہُ رَبِیبُہُ عُمَرُ بْنُ أبِی سَلَمَۃَ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : سَمِّ اللّٰہَ وَکُلْ مِمَّا یَلِیکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابونعیم وہب بن کیسان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ کے پاس کھانا لایا گیا ، اس حال میں کہ آپ ﷺ کے ہمراہ آپ ﷺ کے ربیب ( سوتیلے بیٹے ) حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا :’’ اللہ کا نام لو ( بسم اللہ پڑھو ) اور اسی جانب سے کھاؤ جو تمھارے قریب ( اور سامنے ) ہے ۔

1698

Muwatta Imam Malik #1698

Sahih

[1698] سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ یَقُولُ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَہُ: إِنَّ لِی یَتِیماً وَلَہُ إِبِلٌ، أَفَأَشْرَبُ مِنْ لَبَنِ إِبِلِہِ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنْ کُنْتَ تَبْغِی ضَالَّۃَ إِبِلِہِ، وَتَہْنَأُ جَرْبَاہَا، وَتَلُطُّ حَوْضَہَا، وَتَسْقِیہَا یَوْمَ وِرْدِہَا، فَاشْرَبْ غَیْرَ مُضِرٍّ بِنَسْلٍ، وَلَا نَاہِکٍ فِی الْحَلْبِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے کہنے لگا کہ یقیناً میرے پاس ایک یتیم ( زیر کفالت ) ہے اور اس کے کچھ اونٹ ہیں تو کیا میں اس کی اونٹنیوں کے دودھ میں سے پی سکتا ہوں ؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اگر تو اس کے اونٹوں میں سے گم ہو جانے والے کو ڈھونڈتا ہے ، ان میں سے خارش زدہ اونٹ کو تارکول ملتا ہے ، ان کے ( پانی پینے کے ) حوض کو لیپ کرتا ہے اور ان کے ( گھاٹ پر ) وارد ہونے کے دن انھیں پانی پلاتا ہے تو تُو ( ان کا دودھ ) پی سکتا ہے ، اس حال میں کہ نہ نسل ( دودھ پیتے بچوں ) کو نقصان پہنچانے والا ہو اور نہ دودھ میں مبالغہ کرنے والا ہو ۔‘‘

1699

Muwatta Imam Malik #1699

Sahih

[1699] عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، أَ نَّہُ کَانَ لَا یُؤْتَی أَبَداً بِطَعَامٍ وَلَا شَرَابٍ، حَتَّی الدَّوَائُ فَیَطْعَمَہُ أَوْ یَشْرَبَہُ إِلاَّ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی ہَدَانَا، وَأَطْعَمَنَا وَسَقَانَا، وَنَعَّمَنَا، اللّٰہُ أَکْبَرُ، اللَّہُمَّ أَلْفَتْنَا نِعْمَتُکَ بِکُلِّ شَرٍّ، فَأَصْبَحْنَا مِنْہَا وَأَمْسَیْنَا بِکُلِّ خَیْرٍ، نَسْأَلُکَ تَمَامَہَا وَشُکْرَہَا، لَا خَیْرَ إِلاَّ خَیْرُکَ، وَلَا إِلَہَ غَیْرُکَ، إِلَہَ الصَّالِحِینَ، وَرَبَّ الْعَالَمِینَ، الْحَمْدُ لِلَّہِ، وَلَا إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ، مَا شَائَ اللَّہُ، وَلَا قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللّٰہِ، اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیمَا رَزَقْتَنَا، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد ( عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے پاس کبھی بھی کوئی ایسا کھانا یا پینے کی چیز حتیٰ کہ دوائی بھی آتی جسے وہ کھاتے یا پیتے تو ضرور یہ ( دعائیہ کلمات ) کہتے : ہر قسم کی حمد اس کے لیے ہے جس نے ہمیں ہدایت عطا فرمائی اور ہمیں کھلایا اور ہمیں پلایا اور ہم پر انعام فرمایا اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے ۔ اے اللہ ! تیری نعمت نے ہمیں ہر شر کے ساتھ مبتلا پایا ( اس حال میں ہمارے پاس پہنچی کہ ہم سراسر برائیوں میں مصروف تھے ، ) پھر ہم نے اس نعمت کی وجہ سے ہر خیر کے ساتھ صبح اور شام کی ، ہم تجھ سے اس نعمت کی تکمیل اور اس کے شکر ( کی توفیق ) کا سوال کرتے ہیں ۔ تیری خیر کے سوا کوئی خیر نہیں اور تیرے سوا کوئی برحق معبود نہیں ، اے نیک لوگوں کے معبود اور اے جہانوں کے رب ! ہمہ قسم کی حمد اللہ ہی کے لیے ہے ۔ اور اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے ، جو اللہ چاہے ( وہی ہوتا ہے ) اور اللہ ( کی توفیق ) کے بنا کوئی قوت نہیں ہے ۔ اے اللہ ! ہمارے لیے اس چیز میں برکت عطا فرما جو تو نے ہمیں عطا کی اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا ۔