Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 46 · Chapter 540

متفرق مسائل کی کتاب

چاندی کے برتنوں میں پینے اور مشروب میں پھونک مارنے سے ممانعت کا بیان

2 hadiths in this chapter

1675

Muwatta Imam Malik #1675

Sahih

[1675] حَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : الَّذِی یَشْرَبُ فِی آنِیَۃِ الْفِضَّۃِ، إِنَّمَا یُجَرْجِرُ فِی بَطْنِہِ نَارَ جَہَنَّمَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا زوجہ پیغمبر ﷺ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ شخص جو چاندی کے برتنوں میں پیتا ہے تو بلاشبہ وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹاغٹ بھرتا ہے ۔‘‘

1676

Muwatta Imam Malik #1676

Sahih

[1676] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أَیُّوبَ بْنِ حَبِیبٍ، مَوْلَی سَعْدِ بْنِ أبِی وَقَّاصٍ، عَنْ أبِی الْمُثَنَّی الْجُہَنِیِّ، أَ نَّہُ قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ، فَدَخَلَ عَلَیْہِ أَبُو سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ، فَقَالَ لَہُ مَرْوَانُ بْنُ الْحَکَمِ : أَسَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ أَ نَّہُ نَہَی عَنِ النَّفْخِ فِی الشَّرَابِ ؟ فَقَالَ لَہُ أَبُو سَعِیدٍ : نَعَمْ۔ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ إنِّی لَا أَرْوَی مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ۔ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : فَأَبِنِ الْقَدَحَ عَنْ فِیکَ، ثُمَّ تَنَفَّسْ قَالَ : فَإِنِّی أَرَی الْقَذَاۃَ فِیہِ۔ قَالَ : فَأَہْرِقْہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابومثنی جہنی رحمہ اللہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں مروان بن حکم کے پاس تھا ، ان کے پاس حضرت ابوسعید خُدری رضی اللہ عنہ آئے تو مروان بن حکم رحمہ اللہ نے ان سے کہا : آپ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سنا تھا کہ آپ ﷺ نے پینے کی چیز میں پھونکنے سے منع فرمایا ہے ؟ تو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ ہاں ، تو ( جب آپ ﷺ نے منع فرمایا تھا تو ) ایک آدمی آپ ﷺ سے کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! بلاشبہ میں ایک سانس ( میں سارا پانی پینے ) سے سیراب نہیں ہوتا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا :’’ تو پھر پیالے کو اپنے منہ سے جدا کرو ، پھر سانس لیا کرو ۔‘‘ ( یعنی چھوٹے چھوٹے گھونٹوں میں اُسے پیو لیکن سانس لیتے وقت تمھارا منہ نہ تو پیالے کے ساتھ لگا ہوا ہو اور نہ ہی اس طرح اوپر ہو کہ سانس کا اخراج برتن میں ہو ) ، وہ کہنے لگا کہ : بلاشبہ میں اس ( پینے کی چیز ) میں تنکا دیکھ لیتا ہوں ( تو اس وقت بھی پھونک نہ ماروں تو کیا کروں ؟ ) فرمایا :’’ تو اسے انڈیل دو ۔‘‘