Muwatta Imam Malik #1666
[1666] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : أَرَانِی اللَّیْلَۃَ عِنْدَ الْکَعْبَۃِ، فَرَأَیْتُ رَجُلاً آدَمَ کَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَائٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ، لَہُ لِمَّۃٌ کَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَائٍ مِنَ اللِّمَمِ، قَدْ رَجَّلَہَا فَہِیَ تَقْطُرُ مَائً، مُتَّکِئاً عَلَی رَجُلَیْنِ، أَوْ عَلَی عَوَاتِقِ رَجُلَیْنِ، یَطُوفُ بِالْکَعْبَۃِ، فَسَأَلْتُ مَنْ ہَذَا ؟ قِیلَ: ہَذَا الْمَسِیحُ ابْنُ مَرْیَمَ، ثُمَّ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ قَطَطٍ أَعْوَرِ الْعَیْنِ الْیُمْنَی، کَأَ نَّہَا عِنَبَۃٌ طَافِیَۃٌ، فَسَأَلْتُ مَنْ ہَذَا ؟ فَقِیلَ لِی : ہَذَا الْمَسِیحُ الدَّجَّالُ۔
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے آج رات ( خواب میں خود کو خانہ کعبہ کے پاس دیکھا ) میں نے ایک گندمی رنگت والے صاحب کو دیکھا ، اس سب سے خوبصورت شخص کی طرح جو تم نے گندمی رنگت والے آدمیوں میں سے ( کبھی ) دیکھا ہو ، ان کے ’’ لمِہّ ‘‘ بال تھے یعنی کانوں کی لو سے گزر کر کندھوں تک پہنچنے والی زلفیں تھیں ، ان سے خوبصورت ، کندھوں تک پہنچنے والی زلفوں کی طرح جو تم نے کبھی دیکھی ہوں ، انھوں نے ان میں کنگھی کر رکھی تھی اور ان میں سے پانی کے قطرے گر رہے تھے ، وہ دو آدمیوں پر سہارا لیے ہوئے تھے یا ( فرمایا کہ ) دو آدمیوں کے کندھوں پر سہارا لگائے ہوئے خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے ، تو میں نے ( فرشتے سے ) پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ تو مجھے بتایا گیا کہ یہ حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام ہیں ۔ پھر اچانک میں ایک ( ایسے ) آدمی کو دیکھنے لگا جو سخت گھنگھریالے بالوں والا اور دائیں آنکھ سے کانا تھا ، گویا کہ وہ ابھرا ہوا انگور ہو ، میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ تو مجھے بتایا گیا کہ یہ مسیح دجال ہے ۔