Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 46 · Chapter 532

متفرق مسائل کی کتاب

جوتا پہننے کا بیان

3 hadiths in this chapter

1659

Muwatta Imam Malik #1659

Sahih

[1659] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : لَا یَمْشِیَنَّ أَحَدُکُمْ فِی نَعْلٍ وَاحِدَۃٍ، لِیُنْعَلْہُمَا جَمِیعاً، أَوْ لِیُحْفِہِمَا جَمِیعاً۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی بھی ایک جوتے میں ہرگز نہ چلے ، اسے چاہیے کہ دونوں کو اکٹھے پہنے یا دونوں کو اکٹھے اتار دے ۔‘‘

1660

Muwatta Imam Malik #1660

Sahih

[1660] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُکُمْ فَلْیَبْدَأْ بِالْیَمِینِ، وَإِذَا نَزَعَ فَلْیَبْدَأْ بِالشِّمَالِ، وَلْتَکُنِ الْیُمْنَی أَوَّلَہُمَا تُنْعَلُ، وَآخِرَہُمَا تُنْزَعُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی جوتا پہنے تو اسے چاہیے کہ اپنے دائیں پاؤں سے آغاز کرے اور جب اتارنے لگے تو اپنے بائیں پاؤں سے ابتدا کرے اور چاہیے کہ دایاں پاؤں دونوں میں سے پہلا ہو کہ جسے جوتا پہنایا جائے اور دونوں میں سے آخری ہو کہ جس سے جوتا اتارا جائے ۔‘‘

1661

Muwatta Imam Malik #1661

Sahih

[1661] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَمِّہِ أبِی سُہَیْلِ بْنِ مَالِکٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ کَعْبِ الأَحْبَارِ : أَنَّ رَجُلاً نَزَعَ نَعْلَیْہِ فَقَالَ : لِمَ خَلَعْتَ نَعْلَیْکَ، لَعَلَّکَ تَأَوَّلْتَ ہَذِہِ الآیَۃَ: {فَاخْلَعْ نَعْلَیْکَ إِنَّکَ بِالْوَادِی الْمُقَدَّسِ طُوًی} [طہ : 12] قَالَ : ثُمَّ قَالَ کَعْبٌ لِلرَّجُلِ: أَتَدْرِی مَا کَانَتْ نَعْلَا مُوسَی ؟ قَالَ مَالِکٌ : لَا أَدْرِی مَا أَجَابَہُ الرَّجُلُ، فَقَالَ کَعْبٌ : کَانَتَا مِنْ جِلْدِ حِمَارٍ مَیِّتٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

کعب احبار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک ایک آدمی نے اپنے دونوں جوتے اتار دیے تو انھوں نے اس سے کہا : تم نے اپنے جوتے کیوں اتار دیے ، شاید تو نے اس آیت کے مفہوم پر عمل کرنا چاہا ہے : {فَاخْلَعْ نَعْلَیْکَ اِنَّکَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًی} ( طہ20 : 12 ) ’’ تو تم اپنے جوتے اتار دو ، یقیناً تم مقدس وادی ’’ طُوٰی ‘‘ میں ہو ۔ ‘‘ پھر کعب احبار رحمہ اللہ نے اس آدمی سے کہا : کیا تو جانتا ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام کے جوتے کس چیز کے تھے ؟ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آدمی نے جواب میں کیا کہا تھا اس کا مجھے علم نہیں ۔ پھر کعب احبار رحمہ اللہ نے فرمایا : وہ دونوں ایک مردہ گدھے کے چمڑے سے ( بنے ہوئے ) تھے ۔