Muwatta Imam Malik #1646
[1646] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْأَنْصَاری، أَنَّہُ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ فِی غَزْوَۃِ بَنِی أَنْمَارٍ۔ قَالَ جَابِرٌ : فَبَیْنَا أَ نَا نَازِلٌ تَحْتَ شَجَرَۃٍ، إِذَا رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ ہَلُمَّ إِلَی الظِّلِّ۔ قَالَ : فَنَزَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ ، فَقُمْتُ إِلَی غِرَارَۃٍ لَنَا، فَالْتَمَسْتُ فِیہَا شَیْئاً، فَوَجَدْتُ فِیہَا جِرْوَ قِثَّائٍ فَکَسَرْتُہُ، ثُمَّ قَرَّبْتُہُ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ فَقَالَ : مِنْ أَیْنَ لَکُمْ ہَذَا ؟قَالَ : فَقُلْتُ خَرَجْنَا بِہِ یَا رَسُولَ اللّٰہِ مِنَ الْمَدِینَۃِ۔ قَالَ جَابِرٌ : وَعِنْدَنَا صَاحِبٌ لَنَا نُجَہِّزُہُ، یَذْہَبُ یَرْعَی ظَہْرَنَا، قَالَ : فَجَہَّزْتُہُ، ثُمَّ أَدْبَرَ یَذْہَبُ فِی الظَّہْرِ وَعَلَیْہِ بُرْدَانِ لَہُ قَدْ خَلَقَا، قَالَ : فَنَظَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ إِلَیْہِ فَقَالَ : أَمَا لَہُ ثَوْبَانِ غَیْرُ ہَذَیْنِ؟ فَقُلْتُ: بَلَی یَا رَسُولَ اللّٰہِ لَہُ ثَوْبَانِ فِی الْعَیْبَۃِ کَسَوْتُہُ إِیَّاہُمَا۔ قَالَ : فَادْعُہُ فَمُرْہُ فَلْیَلْبَسْہُمَا قَالَ : فَدَعَوْتُہُ فَلَبِسَہُمَا، ثُمَّ وَلَّی یَذْہَبُ۔ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : مَا لَہُ ضَرَبَ اللّٰہُ عُنُقَہُ، أَلَیْسَ ہَذَا خَیْراً لَہُ ؟قَالَ : فَسَمِعَہُ الرَّجُلُ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : فِی سَبِیلِ اللّٰہِ قَالَ : فَقُتِلَ الرَّجُلُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ۔
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ غزوہ بنی انمار میں نکلے ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ، اسی اثنا میں کہ میں ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیے ہوئے تھا کہ اچانک رسول اللہ ﷺ ( پر میری نظر پڑی ، آپ ﷺ میری طرف ) متوجہ ہوئے تو میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! سائے کی طرف تشریف لے آئیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ( وہیں ) اتر پڑے تو میں ( پٹ سن کی بنی ہوئی ) ایک بوری کی طرف اٹھا جو کہ ہماری ہی تھی ، میں نے اس میں کوئی ( کھانے کی ) چیز تلاش کی تو میں نے اس میں ایک چھوٹا کھیرا پا لیا ، چنانچہ میں نے اسے توڑا ( اور کاٹ کر پیس بنا لیے ) پھر میں نے اسے رسول اللہ ﷺ کے قریب کیا ، ( تاکہ آپ ﷺ اسے تناول فرما لیں ) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ تمھارے پاس کہاں سے آیا ؟’’ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! ہم اسے مدینہ ہی سے لے کر نکلے تھے ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ہمارے ایک صاحب تھے ہم انھیں سامان سفر مہیا کر دیتے تھے ، وہ ( اس کے بدلے سفر کے دوران ) ہماری سواریوں کو چرانے لگتے تھے ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ( اس دفعہ بھی ) ہم نے انھیں تیار کیا ( اور سامان سفر مہیا کیا ) ، پھر وہ مڑے ( اور ) سواریوں میں جانے لگے ۔ اُس وقت ان پر ان کی دو چادریں تھیں ، جو کہ بوسیدہ ہو چکی تھیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ان پر نظر پڑی تو فرمایا :’’ کیا اس کے پاس ان کے علاوہ کوئی اور کپڑے نہیں ہیں ؟‘‘ میں نے کہا : کیوں نہیں ، اے اللہ کے رسول ! اس کے پاس دو ( مزید ) کپڑے گٹھڑی میں موجود ہیں ، جو میں نے ( خود ) اسے پہننے کے لیے دیے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تو اسے بلاؤ ، پھر اسے حکم دو ، اسے چاہیے کہ وہ ان دونوں ( اچھے ) کپڑوں کو پہنے ۔‘‘ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : چنانچہ میں نے اُسے بلایا ، سو اُس نے وہ دونوں کپڑے پہن لیے ، پھر وہ مڑا اور جانے لگا ۔ وہ کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے کیا ہو گیا ، اللہ اس کی گردن مار لے ، کیا یہ ( لباس ) اس کے لیے بہتر نہیں ہے ؟‘‘ وہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے یہ بات سن لی تو کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! ( یہ بھی فرما دیجیے کہ ) اللہ کی راہ میں ( میری گردن ماری جائے ) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کے راستے میں ۔‘‘ چنانچہ وہ شخص اللہ کی راہ میں شہید کر دیا گیا ۔